Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191679
Published : 23/1/2018 5:33

ایران کی مسلح افواج کا محمد رسول اللہ فوجی مشقوں کا آغار

محمد رسول اللہ (ص) فوجی مشقیں دفاعی توانائی ، تجربات اور مہارتوں میں اضافے اور علاقائی ممالک کیلئے امن و دوستی کے پیغام کی حامل ہیں۔


ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی کو آرڈینیٹر ایڈمرل سیاری نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج نے یا رسول اللہ (ص) رمزیہ نعرے کے ساتھ مکران کے ساحلوں سے بحیرہ عمان تک محمد رسول اللہ (ص) نامی فوجی مشقوں کا آغازکردیا ہے،رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی کو آرڈینیٹر ایڈمرل سیاری نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کچھ فوجی مشقیں بین الاقوامی سمندر میں انجام پائیں گی، کہا کہ محمد رسول اللہ (ص) فوجی مشقیں دفاعی توانائی ، تجربات اور مہارتوں میں اضافے اور علاقائی ممالک کیلئے امن و دوستی کے پیغام کی حامل ہیں۔ایڈمرل سیاری نے کہا کہ ان مشقوں میں ایران کی تینوں مسلح افواج یعنی بری، بحری اور فضائیہ حصہ لے رہی ہیں۔دوسری جانب ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں محمد رسول اللہ فوجی مشقوں کے ترجمان بریگیڈیر جنرل سید محمود موسوی نے کہا ہے کہ ایران کے جنگی طیاروں نے اغیار کے دو جنگی بحری جہازوں کو سخت خبردار کیا ہے۔ایران کی محمد رسول اللہ فوجی مشقوں کے ترجمان بریگیڈیر جنرل سید محمود موسوی نے کہا کہ ان فوجی مشقوں کے دوران ایران کی دفاعی طاقت کا مظاہرہ کئے جانے کے ابتدائی گھنٹے میں اغیار کے دو جنگی بحری جہازوں نے فوجی مشقوں والے علاقوں سے قریب ہونے کی کوشش کی اور ایران کے جنگی ہیلی کاپٹروں کی جانب سے اس بات کا مشاہدہ کئے جانے کے بعد ایران کے جنگی طیاروں نے ان دونوں جنگی بحری جہازوں کو انتباہ دیا جس کے بعد وہ دونوں جنگی بحری جہاز فوجی مشقوں والے علاقوں سے دور ہونے پر مجبور ہو گئے۔قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں تقریبا دو ہزار کلو میٹر بحری سرحدوں کا حامل ہے جو جغرافیائی لحاظ سے خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے نقطہ نظر سے کسی بھی قسم کی جارحیت کے مقابلے میں سرحدوں کے دفاع کے لئے مکمل دفاعی آمادگی رکھنا، اسلامی جمہوریہ ایران کا قانونی حق ہے اور اسی بنیاد پر وہ مختلف طرح کے خطرات کے مقابلے میں ضروری دفاعی طاقت و توانائی کا مالک ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی تمام سرحدوں پر پائیدار امن و سلامتی کا وجود ایران کی مسلح افواج کا مشترکہ ہدف و مقصد ہے اور مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد بھی ایران کی اسی دفاعی حکمت عملی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے جبکہ فوجی تعاون اور مشترکہ خطرات کے مقابلے میں دفاعی مسائل میں مفاہمت ایران کی دفاعی و سیکورٹی اسٹریٹیجک کا حصہ ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران نے جارح قوتوں اور دشمنوں کو ہمیشہ اس بات کا پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی موثر و بھرپور موجودگی کی بدولت کسی بھی جارح کو علاقے کی سلامتی کو درہم برہم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12