Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191690
Published : 23/1/2018 17:44

تربیت اولاد کا زینبی انداز

حقیقت میں حضرت زینب(س) نے اپنے بیٹوں کو یہ سکھایا تھا کہ چاہے حالات کچھ بھی ہوں لیکن کبھی اپنے امام کا ساتھ نہ چھوڑنا اور اپنی تمام تمناؤں کو ٹھکراتے ہوئے ولی خدا کے حکم کو ترجیح دینا لہذا شہزادی نے کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کا راز اپنے وقت کی اتباع اور اطاعت کو بتایا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت زینب(س) نے اپنے بچوں کی اس انداز میں تربیت کی تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے مولا و آقا حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں رہتے تھے،شہزادی کی یہ سنت ہمارے لئے ایک سبق ہے چنانچہ تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ جناب زینب(س) نے عاشور کے دن اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے ہاتھ سے لباس پہنایا اور دونوں کو میدان قتال میں جہاد کرنے کے لئے بھیجا اور جب یہ دونوں شہید ہوگئے تو امام حسین(ع) سے ان کی شہادت کے متعلق سوال تک بھی نہ کیا اور نہ ہی ان کا سوگ منایا۔
واقعہ عاشورا میں حضرت زینب(س) کا صبر اور آپ کا ثبات قدم ہمارے لئے نمونہ ہے اگرچہ آپ نے اس جنگ میں اپنے سب عزیزوں کو کھو دیا تھا لیکن دامن صبر کو ہاتھ سے نہ چھوڑا اور یہی وجہ ہے کہ آپ تمام صبر کرنے والوں کے لئے نمونہ قرار پائیں،جیسا کہ خود ایک حدیث میں وارد ہوا ہے: «الایمانُ نِصفُهُ الصَّبرُ وَ نِصفُهُ الشُّکرُ، صبر آدھا ایمان ہے اور ایمان کا دوسرا حصہ کا نام شکر ہے۔
لہذا یہ حدیث مبارک حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر مکمل طور پر منطبق ہوتی ہے چونکہ آپ نے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر اور سختی و مشکلات میں صبر کیا چنانچہ آپ نے ان مراحل میں صبر کیا کہ جہاں ہاتھ سے ریسمان صبر چھوٹ جائے تو کوئی ملامت نہیں کرتا ۔لہذا آپ نے واقعہ کربلا اور اس کے بعد،ہر مرحلہ کو صبر و بردباری کے ساتھ طئے کیا اور کربلا کے پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہونچایا۔
ہمارے معاشرے کی خواتین کو جناب زینب(س) کی طرح اپنی اولاد کی تربیت کرنی چاہیئے اور اس کے لئے سب سے اہم کام نماز شب پڑھنا ہے حضرت زہرا(س) اور حضرت زینب(س) نے کبھی نماز شب ترک نہیں کی۔
آج کی ماؤں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو مشکلات و بحران سے نکالنے میں اپنا تعاون پیش کریں،اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ خود بھی دیندار بنیں اور اپنی اولاد کو بھی دیندار بنائیں۔
حضرت زینب(س) چونکہ خود مکتب اہل بیت(ع) کی تربیت یافتہ تھیں اور آپ نے ۵ اماموں کی ہمراہی میں زندگی گذاری تھی لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ کے جانسوز و حساس مرحلہ میں بھی اپنی اولاد کو اپنے وقت کے امام کی ہمراہی کا سبق دیا اور یہ ماں کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ آپ کے دونوں بچوں(عون و محمد) نے وہ منظر خلق کیا کہ جس کے سبب، رہتی دنیا تک جعفر طیار کے پوتوں اور حیدر کرار کے نواسوں کو یاد رکھا جائے گا۔
حقیقت میں حضرت زینب(س) نے اپنے بیٹوں کو یہ سکھایا تھا کہ چاہے حالات کچھ بھی ہوں لیکن کبھی اپنے امام کا ساتھ نہ چھوڑنا اور اپنی تمام تمناؤں کو ٹھکراتے ہوئے ولی خدا کے حکم کو ترجیح دینا لہذا شہزادی نے کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کا راز اپنے وقت کی اتباع اور اطاعت کو بتایا۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16