Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191716
Published : 24/1/2018 19:20

عقیدہ رجعت کے حق ہونے پر دلائل

رجعت کا فلسفہ یہ ہے کہ اولیاء الٰہی اور محبان اہل بیت(ع) میں بعض حضرات اسی طرح دشمنان اہل بیت(ع) میں سے کچھ افراد اپنے خصوصیات کی بنیاد پر اپنے عقیدہ و اعمال کی اخروی جزا یا سزا حاصل کرنے سے پہلے اپنی جزاء وسزا کچھ حصہ اس دنیا میں عدل الٰہی کی عالمی حکومت کے زیر سایہ دیکھ لیں۔

ولایت پورٹل: شیعوں کا ایک مخصوص عقیدہ رجعت کا عقیدہ ہے یعنی شیعہ معتقد ہیں کہ مہدی موعود(عج)کے ظہور اور روئے زمین پر عدل الٰہی کی حکومت کے قیام کے بعد چند مخصوص اولیاء الٰہی،خاندان رسالت(ع) سے محبت کرنے چند افراد،نیز خاندان نبوت و رسالت کے مخالفین اور دشمنوں میں سے چند افراد جو دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں دوبارہ دنیا میں آئیں گے،اولیاء الٰہی اور صالحین روئے زمین پر عدل اور حق کی حکومت کا مشاہدہ کرکے خوش ہوں گے اور اپنے ایمان اور نیک اعمال کی جزا کا ایک حصہ اسی دنیا میں حاصل کرلیں گے جب کہ دشمنان اہل بیت(ع) نیز خاندان رسالت پر مظالم کی سزا اسی دنیا میں مل جائے گی البتہ واقعی اور آخری جزا و سزا تو قیامت میں ہی ملے گی۔
رجعت کے مسئلہ میں سب سے پہلے اس بات پر توجہ رہنا ضروری ہے کہ رجعت ایک ممکن امر ہے اور اس میں کوئی عقلی قباحت نہیں ہے اس کے امکان کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ ماضی میں رجعت واقع ہو چکی ہے قرآن کریم نے جناب عزیزکے دوبارہ زندہ ہونے کا تذکرہ کیا ہے جناب عزیر سو سال کی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے تھے۔(۱) اسی طرح مردوں کو زندہ کرنا جناب عیسیٰ(ع)کا ایک معجزہ تھا۔(۲)مقتول بنی اسرائیل۔(۳)کے زندہ ہونے کی داستان بھی رجعت اور اس دنیا میں دوبارہ واپسی کا ایک نمونہ ہے۔لہٰذا شک و شبہہ کرنے والوں کی جانب سے رجعتکو تناسخ سے تشبیہ دینا تنگ نظری یا حق کو قبول کرنے میں کٹ حجتی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
گذشتہ مطالب کے علاوہ علماء شیعہ رجعت پر تین طرح کی دلیلیں پیش کرتے ہیں:
۱۔آیات قرآن کریم
۲۔سنت نبوی(ص)
۳۔احادیث اہلبیت(ع)  
رجعت کے سلسلہ میں اہم دلیل وہ متواتر روایات ہیں جو اہل بیت(ع) سے منقول ہیں۔
علامہ مجلسی(رح) نے بحارالانوار میں ان احادیث کو نقل کیا ہے جن کی تعداد دو سو کے نزدیک ہے۔ علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ ان روایات کو چالیس سے زیادہ موثق و معتبر علماء شیعہ نے آئمہ معصومین(ع) سے نقل کیاہے۔ شیعی حدیث ،کلام اور تفسیر کی پچاس سے زیادہ ،کتب میں یہ حدیث موجود ہے۔ان کے علاوہ بعض بزرگ علماء شیعہ نے رجعت سے متعلق کتاب یا رسالہ کی تالیف بھی فرمائی ہے اور بعض حضرات نے غیبت کے باب میں ہی رجعت کا تذکرہ کیا ہے ۔جوشخص بھی اہل بیت(ع) کی حقانیت پر یقین رکھتا ہے وہ ان دلائل و شواہد کی موجودگی میں رجعت کے سلسلہ میں ذرہ برابر شک و تردید میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔اسی لئے رجعت پر علماء شیعہ کا اجماع ہے۔(۴)
آخری دور میں رجعت سے متعلق جامع ترین کتاب شیعہ محدث شیخ حر عاملی کی تألیف «الایقاظ من الھجعة بالبرھان علیٰ الرجعة»ہے۔(۵)علامہ شبر نے بھی اپنی کتاب«حق الیقین»میں رجعت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
قارئین آئیے ! ہم قرآن مجید سے استنباط کرتے ہوئے اس عقیدہ کے حق ہونے پر صرف دو آیات کو بطور دلیل پیش کررہے ہیں:
۱۔«وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ یُکَذِّبُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ یُوزَعُونَ»۔(۶)یہ آیۂ کریمہ اس دن کے بارے میں خبر دے رہی ہے جس دن ہر قوم اور گروہ میں سے آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کچھ لوگ زندہ ہوں گے ،یہ«حشر» بعض گناہگاروں اور ظالموں سے مخصوص ہے جب کہ روز قیامت کا «حشر»عام ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«وَحَشَرْنَاہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ أَحَدًا»۔(۷)
اس طرح قرآن کریم نے دو طرح کے «حشر» کی خبر دی ہے۔ ایک جو قیامت اور دار آخرت سے متعلق ہے دوسرا حشرکچھ افراد سے مخصوص ہے جو آخرت میں نہیں ہے تو طبیعی طور پر دنیا میں ہی ہوگا اور یہی«رجعت»ہے۔(۸)
۲۔«قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَأَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَی خُرُوجٍ مِنْ سَبِیلٍ »۔(۹)
یہ آیۂ کریمہ ان لوگوں کے بارے میں اطلاع دے رہی ہے جو روز قیامت عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔
یہ لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے عذاب سے نجات کی درخواست کریں گے ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ دو مرتبہ کی موت«اماتہ» اور دو مرتبہ زندہ ہونے«احیاء» کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ۔یعنی یہ بتا رہے ہیں کہ خدا نے انہیں دو مرتبہ موت دی ہے اور دو مرتبہ زندہ کیا ہے۔
سب لوگوں کو ایک مرتبہ موت(قبض روح ہونا) آئے گی اور ایک مرتبہ زندہ کئے جائیں گے (دوبارہ ان کے بدن میں روح پھونکی جائے گی تاکہ اعمال کی جزا یا سزا پاسکیں)لیکن یہ ایسا گروہ ہے جو دوبارمرے گا اور دو بار زندہ ہوگا اور یہ چیز صرف رجعت پر ہی منطبق ہوتی ہے۔
جن لوگوں کی رجعت ہوگی انہیں دو مرتبہ موت آئے گی اور دوبار زندہ کئے جائیں گے۔
رجعت کے منکرین اس آیت کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ دو موت سے مراد ایک دنیاوی زندگی سے پہلے کی موت ہے اور دوسری دنیاوی زندگی کے بعد والی موت ۔۔۔۔۔اور دو زندگی سے مراد ایک دنیاوی حیات ہے دوسری اخروی حیات۔
لیکن یہ تفسیر لفظ«اماتہ» کے ظاہری معنی سے ہماہنگ نہیں ہے اس لئے کہ اماتہ کا مطلب ہے کہ کوئی پہلے زندہ رہا ہو بعد میں اس سے زندگی لے لی جائے بہ الفاظ دیگر اماتہ کی حقیقت یہ ہے کہ موت سے قبل حیات ہو حالانکہ انسان کی پہلی موت یعنی جب انسان خاک یا نطفہ تھا اور اس میں روح انسانی نہیں آئی تھی حیات نہیں تھی لہٰذا وہاں اماتہ نہیں کہا جائے گا۔دوسری بات یہ کہ ایسا کہنے والے انسان ہیں جس کا ظاہر سامطلب یہ ہے کہ وہ پہلے زندہ تھے انہیں حیات انسانی حاصل تھی اس کے بعد انہیں دوبارہ موت آئی۔
بعض لوگ کہتے ہیں دو موت سے مراد ایک دنیاوی زندگی کے بعد والی موت ہے اور دوسری قبر میں منکر و نکیر کے سوال کے لئے زندہ کئے جانے کے بعد کی موت ہے اور دو مرتبہ زندہ کئے جانے سے مراد دنیاوی اور قبر میں زندہ کیا جانا ہے۔
چنانچہ یہ تفسیر بھی آیت کے ظاہری معنی سے ہم آھنگ نہیں ہے اس لئے کہ آیت کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ عذاب میں مبتلا یہ افراد دو زندگیاں حاصل کرنے پر ندامت و پشیمانی کا اظہار کریں گے کہ آخر انہوں نے ان زندگیوں کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا اور اس کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ہوگئے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب دونوں زندگیاں اس دنیا میں ہوں کہ جہاں عمل کرنا ممکن ہے ورنہ قبر عمل کا میدان نہیں ہے کہ جہنمی افراد قبر کی اس زندگی پر ندامت وحسرت کا اظہار کریں۔(۱۰)
رجعت کے دلائل میں وہ مشہور و معروف حدیث نبوی بھی ہے جو شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک مقبول ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ سابقہ امتوں میں گذر چکا ہے وہ سب امت مسلمہ میں بھی رونما ہوگا۔ صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے  پیغمبر اکرم (ص) کی یہ روایت منقول کی ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:«لتتبعن سنن من کان قبلکم شبرا بشبر و ذراعاً بذراع»۔(۱۱)
شیخ صدوق(رح) نے کمال الدین میں پیغمبر اکرم(ص) سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:«کل ماکان فی الامم السالفة فانه یکون فی ھٰذہ الامة مثله حذو النعل بالنعل والقذۃ بالقذۃ»۔(۱۲)
واضح طور پر سابقہ امتوں کے اہم ترین حوادث میں رجعت بھی ہے چنانچہ قرآن کریم نے یہود اور بنی اسرائیل کے بارے میں متعدد موارد کا تذکرہ کیا ہے لہٰذا حدیث نبوی کی روشنی میں امت مسلمہ میں بھی رجعت وقوع پذیر ہوگی۔رجعت سے متعلق مامون عباسی کے جواب میں امام رضا(ع) نے اسی حدیث نبوی سے استدلال فرمایا تھا۔(۱۳)
رجعت کا فلسفہ یہ ہے کہ اولیاء الٰہی اور محبان اہل بیت(ع) میں بعض حضرات اسی طرح دشمنان اہل بیت(ع) میں سے کچھ افراد اپنے خصوصیات کی بنیاد پر اپنے عقیدہ و اعمال کی اخروی جزا یا سزا حاصل کرنے سے پہلے اپنی جزاء وسزا کچھ حصہ اس دنیا میں عدل الٰہی کی عالمی حکومت کے زیر سایہ دیکھ لیں۔
کن لوگوں کی رجعت ہوگی؟ان کا دقیق نام اور پتہ کیا ہے؟اس سلسلہ میں اگر چہ روایات میں کچھ افراد کے نام بیان ہوئے ہیں مگر قطعی اور حتمی طور پر کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ علامہ شبر نے رجعت کے بارے میں عقلی و نقلی دلائل پیش کرنے اور یہ بیان کرنے کے بعد کہ رجعت کا عقیدہ مذہب امامیہ کے ضروریات میں سے ہے فرماتے ہیں:مذکورہ دلائل کی روشنی میں رجعت کا کلی اور اجمالی ایمان واجب ہے اور اس کی تفصیل اہل بیت(ع) کے ذمہ چھوڑ دینا چاہئے۔امیر المؤمنین(ع) اور امام حسین(ع) کی رجعت کے بارے میں روایات متواتر اور دیگر آئمہ(ع) کی رجعت کے بارے میں تواتر کے نزدیک ہیں لیکن ان کی رجعت کا انداز ہمیں معلوم نہیں ہے اس کا علم خدا اور ان کے اولیاء پر چھوڑ دینا چاہئے۔(۱۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بقرہ:۲۵۹۔
۲۔مائدہ:۱۱۰۔
۳۔بقرہ:۴۷تا ۷۳۔
۴۔بحار الانوار ج،۵۳،ص۱۲۲،۱۲۴۔
۵۔کچھ عرصہ قبل یہ کتاب آقائے سید عبد الکریم محمد موسوی کی تحقیق کے ساتھ ۴۲۷ صفحات میں موسسۂ السیدۃ معصومہ کی جانب سے شائع ہوئی ہے۔
۶۔نمل/۸۳    
۷۔کہف:۴۷    
۸۔مصنفات الشیخ المفید ج۷،ص۳۲،۳۳(المسائل السرویۃ)    
۹۔غافر:۱۱۔
۱۰۔مصنفات الشیخ المفید، ج۷،ص۳۳،۳۵(المسائل السرویۃ)۔
۱۱۔صحیح بخاری،ج۹،ص۱۱۲،کتاب الاعتصام بقول النبی۔
۱۲۔کمال الدین،ص۵۷۶۔
۱۳۔بحار الانوار،ج۵۳،ص۵۹،ح۴۵۔
۱۴۔حق الیقین ج۲،ص۳۰۔

 

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22