Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191729
Published : 25/1/2018 15:21

امیرالمؤمنین کی نظر میں خودی سے خدا تک کا سفر

حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:خدا نے اپنی یاد کو دلوں کا نور قرار دیا ہے جس کے باعث وہ اوامر و نواہی سے بے بہرہ ہونے کے بعد سننے لگے اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگے اور دشمنی و عناد کے بعد فرماں بردار ہوگئے، یکے بعد دیگرے ہر عہد اور انبیاء سے خالی دور میں رب العزت کے کچھ مخصوص بندے ہمیشہ موجود رہے ہیں کہ (وہ ) جن کی فکروں میں سرگوشیوں کی صورت میں (حقائق ومعارف کا ) القاء کرتا ہے

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تک پہونچنے کا سب سے قریب ترین راستہ اپنے نفس کی معرفت اور بازیابی ہے اور خالق و علت  کائنات اور اپنے پیدا کرنے والے کی معرفت کے بغیر صحیح طور پر اپنے کو بھی نہیں پہچانا جاسکتا ہر موجود کی علت واقعی اس کے وجود سے مقدم ہے جو خود اس (معلول )سے زیادہ اس کے قریب ہے:«وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ»۔(۱)
ترجمہ:اور ہم ان کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں۔
وَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰهَ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرءِ وَقَلْبِهٖ۔(۲)
اور یاد رکھو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
اسلامی عرفاء اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ معرفت نفس اور معرفت اللہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ،اپنے نفس کا مشہود قرآن کی تعبیر کے لحاظ سے ذات حق کے ہر مشہود کا مستلزم ہے ،عرفاء ،حکماء کو معرفت النفس کے سلسلہ میں خطاکار ٹھہراتے ہیں اور ان کی باتوں کو
کافی نہیں سمجھتے۔یہ مطلب اس سے زیادہ بحث کا محتاج ہے کہ جو اس مقالہ کی سطح سے باہر ہے (فی الحال ) ہم اس بحث میں پڑنے سے پرہیز کرتے ہیں لیکن اجمالی طور پر اتنا ضرور عرض کریں گے کہ خود شناسی ،خدا شناسی سے ہرگز جدا نہیں ہے اور رسول اکرم(ص) کے مشہور جملہ کے یہی معنی ہیں۔کہ جو مکرر حضرت علی علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے:مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ
ترجمہ:جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کا وہ جملہ موجود ہے کہ جو آپ(ع) نے لوگوں کے اس سوال کے جواب میں فرمایا تھا:ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ  ؟کیا آپ(ع) نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟
آپ(ع) نے فرمایا :اَفَاعَبْدُ مَا لَااَرَیٰ ؟
کیا جس کو میں نہیں دیکھتا ہوں اس کی عبادت کرتا ہوں ؟
پھر آپ اس کی وضاحت فرماتے ہیں:«لَا تُدْرِکُه( تَرَاہُ)الْعُیُونُ بِمُشَاہَدَۃِ الْعِیَانِ وَلٰکِنْ تُدْرِکُهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْاِیْمَانِ»۔(۳)
ہر گز اسے آنکھیں نہیں دیکھتیں بلکہ دل ایمانی حقیقتوں سے اسے پہچانتے ہیں۔
بہت ہی دل چسپ اور جاذب نظر نقطہ جو قرآن کی تعبیرات سے سمجھ میں آتا ہے،وہ یہ ہے کہ وہ انسان خود کو محفوظ رکھے ہوئے ہے اور اس نے اپنے کو برباد نہیں کیا ہے کہ جس کے پاس خدا (پر ایمان) ہے وہ خود کو اس وقت یاد رکھتا ہے اور فراموش نہیں کرتا ہے کہ جب اس نے خدا سے غفلت نہ کی ہو ۔اور اس کو فراموش نہ کیا ہو (کیوں کہ) خدا کو فراموش کرنے کا لازمہ خود فراموشی ہے:«وَلاَ تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰھُمْ»۔(۴)
ترجمہ:اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے خدا کو بھلادیا تو خدا نے خود ان کے نفس کو بھی بھلوا دیا۔
حافظ کہتے ہیں کہ اگر ہمیشہ اس کے سامنے رہنا چاہتے ہو تو اس سے مخفی نہ رہو یہاں  سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ یاد خدا میں دلوں کی زندگی کیوں ہے ،یاد خدا میں دلوں کا نور ہے ،روح کی تسکین ہے یہی یاد انسان کے ضمیر کی جلاء اور صفائے قلب کا موجب ہے ،انسان کے لئے بیداری ،آگاہی اور ہوشیاری کا باعث ہے ،حضرت علی(ع) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:«اِنَّ اللّٰهَ تَعَالیٰ جَعَلَ الذِّکْرَ جِلَاءً لِلْقُلُوْبِ تَسْمَعُ بِهٖ بَعْدَالْوَقَرَۃِ، وَتُبْصِرُ بِهٖ بَعْدَالْعَشْوَۃِ وَتَنْقَادُ بِهٖ بَعْدَالْمُعَانَدَۃِ وَ مَابَرِحَ اللّٰهُ عَزَّتْ آلَائُهُ فِی الْبُرْھَةِ بَعْدَ الْبُرْھَةِ وَ فِیْ اَزْمَانِ الْفَتَرَاتِ عِبَادٌ نَاجَاھُمْ فِی فِکْرِھِمْ وَکَلَّمَھُمْ فِی ذَاتِ عُقُولِھِمْ فَاسْتَصْبَحُوا بِنُورِ یَقْظَةٍ فِی الْاَسْمَاعِ وَالْاَبْصَارِوَ الْاَفْئِدَۃِ»۔(۵)
ترجمہ:بے شک خدا نے اپنی یاد کو دلوں کا نور قرار دیا ہے جس کے باعث وہ اوامر و نواہی سے بے بہرہ ہونے کے بعد سننے لگے اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگے اور دشمنی و عناد کے بعد فرماں بردار ہوگئے، یکے بعد دیگرے ہر عہد اور انبیاء سے خالی دور میں رب العزت کے کچھ مخصوص بندے ہمیشہ موجود رہے ہیں کہ (وہ ) جن کی فکروں میں سرگوشیوں کی صورت میں  (حقائق ومعارف کا ) القاء کرتا ہے اور ان کی عقلوں سے الہامی آوازوں کے ساتھ کلام کرتا ہے چنانچہ انھوں نے اپنی آنکھوں کا نور اور دلوں میں بیداری کے نور سے ہدایت وبصیرت کے چراغ روشن کئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ ق:۱۶۔
۲۔سورہ انفال: ۲۴۔
۳۔نہج البلاغہ، خطبہ:۱۷۷۔
۴۔ سورۂ حشر: ۱۹۔
۵۔نہج البلاغہ، خطبہ:۲۲۰۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22