Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191743
Published : 25/1/2018 18:32

قدموں میں بیٹھنے والا کیسے بنا سعودی عرب کا وزیر خارجہ،حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہوئی یہ تصویر

الجبیر امریکہ میں بطور سعودی سفیر 8 سال خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور وہ سعودی عرب کی تاریخ میں دوسرے وزیر خارجہ ہیں جن کا آل سعود خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔
ولایت پورٹل:بڑی بڑی باتیں اور دعوے کرنا ،دوسرے ممالک کے معاملات میں اپنی ٹانگ اڑانا،سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کی فطرت کا حصہ ہے جس کا مظاہرہ وہ عام طور پر گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں۔اس فطرت کی وجہ سے عام تصور یہی پایا جاتا ہے کہ وہ ایک طاقتور اور اثر و رسوخ رکھنے والی سعودی شخصیت ہیں۔مگر سوشل میڈیا پر حال ہی میں شائع ہونے والی عادل الجبیر کی ایک پرانی تصویر نے ان کی اصل جگہ اور حیثیت سے پردہ اٹھا دیا ہے ،اس انوکھی تصویر سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی وزیرخارجہ کے منصب تک کس طرح رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
تصویر میں سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ ،اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم ،سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ،ارب پتی سعود شہزادہ الولید بن طلال اور عادل الجبیر دکھائی دے رہے ہیں،قابل غور بات یہ ہے کہ عادل الجبیر تصویر میں شاہ عبداللہ کے قدموں میں بیٹھے ہیں۔
الجبیر امریکہ میں بطور سعودی سفیر 8 سال خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور وہ سعودی عرب کی تاریخ میں دوسرے وزیر خارجہ ہیں جن کا آل سعود خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔
تعلیم کے لحاظ سے الجبیر نے امریکہ سے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں میں ماسٹرز کی سند حاصل کر رکھی ہے،تصویر میں نظر آنے والے عادل الجبیر کو دیکھ کر مجھے بہت ہنسی آئی تھی کیونکہ آج کل الجبیر دبنگ انداز میں بیانات دیتے رہتے ہیں،کبھی ایران کے خلاف ،کبھی شام کے خلاف ،کبھی قطر کے خلاف اور کبھی اسی تصویر میں دکھائی دینے والے شہزادہ الولید بن طلال کے خلاف جو آج کل کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات میں سعودی ولی عہد بن سلمان کا عتاب جھیل رہے ہیں۔
اس تصویر میں آپ اس کلیے سے بھی آشنا ہوتے ہیں جس پر عمل درآمد کرنے سے آپ سعودی عرب کے وزیر خارجہ بن سکتے ہیں:یعنی فرمانروا کے قدموں میں بیٹھے رہنا۔
کہا جاتا ہے کہ کسی مقام تک پہنچنے کیلئے بہت جد و جہد کرنی پڑتی ہے اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی عادل الجبیر کی تصویر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ الجبیر نے کیسی اور کس قدر جد و جہد کی۔

تسنیم خیالی

 ابلاغ


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18