Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191784
Published : 28/1/2018 17:4

جنگ جمل کیوں رونما ہوئی؟

طلحہ اور زبیر نے خود بیعت کی تھی بلکہ وہ دوسروں سےبھی بیعت کروا رہے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ حضرت علی(ع) انہیں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور دیں گے لیکن کیا معلوم تھا کہ علی(ع) کے انصاف اور عدالت کی تلوار ،جنگ کے میدان میں چلنے والی تلوار سے کہیں زیادہ تیز ہے۔
ولایت پورٹل: پیغمبر اکرم(ص) نے  حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم میں  اور اس سے پہلے بھی، صاف لفظوں میں حضرت علی(ع) کی امامت و خلافت کا اعلان کردیا تھا جس کی بنیاد پر حضرت علی(ع)   نبی کریم کے بعد مسلمانوں کے بلافصل اور برحق امام و خلیفہ تھے ۔لیکن امت کے بڑوں نے آپ کا حق غصب کرکے آپ کو خلافت سے بےدخل کردیا تھا۔آپ نے تینوں خلافتوں کے دور میں اپنے حق کے لئے احتجاج کیا اور ہمیشہ خلافت کو اپنا حق بتایا لیکن جب قتل عثمان کے بعد آپ کو خلیفہ بنایا جانے لگا تو خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا   ۔ایسا نہیں تھا کہ آپ(ع) خود کو شائستۂ مسند خلافت نہیں سمجھتے تھے بلکہ حالات ہی  کچھ ایسے تھے  ۔ آپ خود  فرماتے ہیں: حالات بہت زیادہ برے ہیں اور آئندہ اس سے زیادہ بدتر ہوں گے۔ اسی لئے آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر زمام خلافت مجھے  سونپتے ہو تو میں ہی جانتا ہوں کہ میرا شیوہ کیا ہوگا لہٰذا مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ میں وزیر ہی رہوں یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ حضرت علی(ع) اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ کی عدل و انصاف کی حکومت لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگی اور آپ کو مسلمانوں کی طرف سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا  پڑے گا جس کے لئے آپ کو تلوار بھی اٹھانا پڑے گی۔البتہ ان حالات کی پیشینگوئی اللہ کے رسول  کی طرف سے  پہلے ہی کردی گئی تھی  اور ایک طرح سے آپ کو حکم دے دیا گیا  تھا کہ تین قسم کے افراد سے اگر تمہارا سامنا ہوتو ان سے جنگ ضرور کرنا اور ان کے خلاف تلوار ضرور اٹھانا کیونکہ اسلام کی بھلائی اسی میں ہے۔یہ تین گروہ کون تھے جن کی طرف اللہ کے رسول (ص) نے اشارہ کیا تھا۔عَن اَمیرِ المُومِنِینَ عَلَیہِ السَّلامُ قَال:«اَمَرَنِی رَسُولُ اللہُ بِقِتَالِ النَّاکِثِینَ وَ القَاسِطِینَ وَ المَارِقِینَ فَمَا کُنتُ لَاَترُکَ شَیئاً مِمَّا اَمَرَنِی بهِ حَبِیبِی رَسُولُ اللہِ»۔
ترجمہ: امیر المومنین(ع) فرماتے ہیں: مجھے اللہ کے رسول نے ناکثین،قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کا حکم دیا اور میں نے اپنے محبوب رسول خدا کا کبھی کوئی حکم  نہیں ٹالا ہے۔
پہلا گروہ ناکثین یعنی بیعت توڑنے والوں کا تھا جن کے ساتھ آپ نے جنگ جمل لڑی۔دوسرا گروہ قاسطین یعنی ستمگروں کا ہے جن کے ساتھ آپ نے صفین کی جنگ لڑی اور تیسرا گروہ مارقین یعنی مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کا خون بہانے والے افراد کا ہے جن کے خلاف آپ نے نہروان کی جنگ لڑی۔ان تینوں جنگوں میں ہمارے لئے عظیم درس  بھی ہے اور عبرت کا سامان بھی،البتہ اگر ہم غور کرنے بیٹھیں تو۔۔۔
آج ہم امیر المومنین(ع) کی خلافت میں ہونے والی پہلی جنگ یعنی ’’جنگ جمل‘‘کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے اور اس میں جو قابل غور نکات ہیں انہیں بیان کریں گے:
۳۶ ہجری کا زمانہ ہے اور امام علی(ع) کی خلافت کو کچھ ہی مہینے ہوئے ہیں۔  تیسرے خلیفہ کے قتل ہونے کے بعد مسلمانوں نے حضرت علی(ع) کی بیعت کرکے انہیں اپنا خلیفہ  بنایا ہے۔حضرت علی(ع) کی بیعت کرنے والوں میں بڑے بڑے لوگ بھی ہیں جن میں طلحہ اور زبیر سب سے آگے ہیں۔طلحہ اور زبیر جو دونوں رسول خدا (ص)کے بڑے صحابیوں میں مانے جاتے ہیں  خود کو   خلافت کا حقدار سمجھتے ہیں لیکن چونکہ لوگ حضرت علی(ع) کی بیعت کرچکے ہیں اس لئے کچھ کر نہیں سکتے۔ وہ دونوں حضرت علی(ع) کے پاس آتے ہیں اور ان سے  چاہتے ہیں کہ شام  اور کچھ دوسری  جگہوں   کا گورنر  انہیں بنایا جائے لیکن حضرت علی(ع) انہیں یہ  کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ مدینہ  میں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔یہ دونوں صحابی جب دیکھتے ہیں کہ علی(ع) کی حکومت  میں کسی طرح سے دال گلنے والی نہیں ہے بلکہ یہاں تو دال کے بجائے سوکھی روٹی ہی کھانا پڑے  گی تو حضرت علی(ع) کی بیعت توڑنے اور ان کے خلاف بغاوت کی پلاننگ کرتے ہیں۔
اپنی پلاننگ کو  عملی جامہ پہنانے  کے لئے وہ پیغمبر کی  زوجہ حضرت عائشہ کو بھی راضی کرکے ساتھ ملاتے ہیں اور وہ بھی ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوجاتی ہیں۔خدا کے رسول کی اس بیوی کے حضرت علی(ع) کے خلاف کھڑے ہونے اور طلحہ و زبیر کا ساتھ دینے کی کئی وجوہات ہیں  جن میں سب سے اہم وجہ یہ ہے انہیں حضرت علی(ع) سے خاص چڑھ تھی اور وہ ان کی  خلافت سے راضی نہیں تھیں بلکہ وہ چاہتی تھیں کہ لوگ حضرت علی(ع) کے بجائے طلحہ کو خلیفہ بنائیں۔  عثمان کے قتل کے وقت وہ مکہ گئی ہوئی تھیں ،انہیں کسی نے غلط خبر دی کہ عثمان کے قتل کے بعد  طلحہ کو خلیفہ بنالیا گیا ہے ،وہ یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئیں اور واپس مدینہ کے لئے نکل پڑیں لیکن راستے میں جب انہیں معلوم ہوا کہ خبر جھوٹی ہے اور لوگوں نے حضرت علی(ع) سے بیعت کی ہے تو واپس مکہ لوٹ گئیں۔
ابھی وہ مکہ ہی میں تھیں کہ  طلحہ اور زبیر دونوں عمرہ کرنے کے بہانے سے مکہ پہنچے اور حضرت عائشہ  سے ملے اور انہیں اپنے پلان کے بارے میں بتایا۔وہ بھی یہی چاہتی تھیں کہ طلحہ خلیفہ بنے اور دوسری طرف زبیر ان کے بہنوئی تھے  اگر وہ خلیفہ بن جاتے تو انہیں تب بھی کوئی پریشانی نہیں تھی۔
ایک اہم سوال یہ تھا کہ مخالفت اور پھر جنگ کے لئے بہانہ کیا بنایا جائے؟ اس کے لئے طلحہ اور زبیر کی طرف سے دو بہانے پیش کئے گئے:پہلا بہانہ یہ تھا کہ خلیفہ سوم  کو قتل کرنے میں حضرت علی(ع) کا ہاتھ ہے اور ہم اس مظلوم خلیفہ کے قتل کا بدلہ لینا  چاہتے ہیں ۔ دوسرا بہانہ یہ تھا کہ ہم لوگوں سے مدینہ میں زبردستی بیعت  لی گئی ہے اور اب ہم اپنی بیعت واپس لیتے ہیں اور اس خلافت کو نہیں مانتے ۔دونوں باتیں بڑی عجیب تھیں۔کیونکہ خلیفہ کے قاتلوں اور ان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو اکسانے اور انہیں آگے لانے میں سب سے زیادہ طلحہ اور پیغمبر کی اسی بیوی کا ہاتھ تھا اور یہ لوگ  عثمان  کی سخت مخالفت تھے لیکن اب ان کے مظلوم ہونے کو بہانہ بناکر اس خلیفہ کے خلاف بغاوت  کرنے نکلے تھے جنہیں لوگوں نے اپنا خلیفہ  خود چنا تھا۔بہت سے لوگوں نے طلحہ سے یہی سوال کیا بھی، جس کا انہوں نے سیدھا سا جواب دیا کہ ہمیں اس کا بہت  پچھتاوا ہے اور ہم نے توبہ کرلی ہے ۔
اور دوسری چیز یہ کہ طلحہ اور زبیر نے خود بیعت کی تھی بلکہ وہ دوسروں سےبھی بیعت کروا رہے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ حضرت علی(ع) انہیں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور دیں گے لیکن کیا معلوم تھا کہ علی(ع) کے انصاف اور عدالت کی تلوار ،جنگ کے  میدان میں چلنے والی تلوار سے کہیں زیادہ تیز ہے۔
جب حضرت عائشہ نے طلحہ اور زبیر سے پوچھا کہ انہیں کیاکرنا ہوگا تو انہوں نے کہا: آپ کو لوگوں کے سامنے یہ مانگ رکھنی ہے کہ اس خلافت کی مخالفت  کریں اور جس طرح خلیفہ دوم نے اپنے بعد چھ  لوگوں کی کونسل بنائی تھی اسی طرح ایک کونسل بنائی جائے اور وہ خلیفہ چنے۔طلحہ  اور زبیر کی طرف سے یہ  مشورہ  اس لئے دیا  گیا کیونکہ انہیں پوری امید تھی کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلیفہ بننا طئے ہے۔
حضرت علی(ع) کے خلیفہ بننے کی وجہ سے بنی امیہ کے وہ لوگ جو حجاز میں تھے پوری طرح ناامید ہوچکےتھے اس لئے انہوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بغاوت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور مروان بن حکم ،عبد اللہ ابن عامر،عبد الرحمان ابن عتاب جیسےلوگ ،عام مسلمانوں کو بغاوت میں شامل ہونے پر اکسانے لگے۔البتہ بنی امیہ کے آدمیوں کو طلحہ اور زبیر کی باتوں کا  کوئی بھروسہ نہیں تھا بلکہ وہ صرف حضرت علی(ع) کے خلاف اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے،اسی لئے جب  جمل کی ہار  ہونے  والی تھی تو مروان ہی نے عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے طلحہ کو مار ڈالا تھا۔
جہاں تک پیغمبرخدا(ص) کی بیوی عائشہ کی بات ہے تو  قرآن مجید کے حکم کے مطابق انہیں گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا اس لئے جب وہ مکہ گئیں تو انہوں نے پیغمبر(ص) کی دوسری بیویو ں کو بھی اپنے ساتھ چلنے کو کہا لیکن سب نے جانے سے انکار کردیا۔شاید کہا جاسکتا ہے کہ حج ،عمرہ اور زیارت کے لئے مکہ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن پیغمبر کی کسی بھی بیوی کو سیاسی معاملات میں پڑنے کا کوئی حق نہیں تھا،پھر خلیفہ کے خلاف بغاوت کرنا ،وہ بھی حضرت علی(ع) جیسے انسان کے خلاف، جن کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ پیغمبر (ص) کی نظر میں آپ کی کیا عظمت تھی اور خود آپ ہی نےکئی بار حضرت علی(ع) اور جناب فاطمہ زہرا کی عظمت کا اعتراف بھی کیا تھا لیکن طلحہ و زبیر کی باتوں میں آکر ان کے اندر حضرت علی(ع) کی مخالفت کے کیڑے پھدکنے لگے اور وہ بھی اس بغاوت کا حصہ بن گئیں۔ اس کے علاوہ وہ ہمیشہ یہی چاہتی تھیں کہ خلافت بنی تمیم کے ہاتھ میں رہے اور طلحہ چونکہ بنی تمیم کے تھے اس لئے ان کی خلافت کے لئے وہ حضرت علی(ع) سے بھی لڑسکتی تھیں۔
جب عائشہ نے اس بغاوت میں شامل ہونے اور بصرہ جانے کی ٹھان لی تو پیغمبر(ص) کی  ایک اور بیوی جناب ام سلمہ نے انہیں بہت سمجھایا کہ وہ اس فتنہ میں شامل میں نہ ہوں لیکن عائشہ نے نہ صرف ان کی نہیں سنی بلکہ الٹا انہیں اپنے ساتھ بصرہ چلنے کو کہا۔جناب ام سلمہ نے  انہیں حضرت علی(ع) کی فضیلتیں بھی یاد دلائیں۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اور صرف امت کی اصلاح چاہتی ہیں جس کے لئے ان کا نکلنا ضروری ہے۔انہوں نے پیغمبر کی بیوی حفصہ سے بھی ساتھ چلنے کو کہا جس کےلئے  وہ تیار ہوگئیں لیکن  ان کے بھائی عبد اللہ ابن عمر نے انہیں جانے سے روک دیا ۔
جناب ام سلمہ حضرت علی(ع) کی چاہنے والی،ان پر ایمان رکھنے والی اور انہیں اپنا امام ماننے والی  مخلص خاتون تھیں اس لئے انہوں نے حضرت علی(ع) کو خط لکھ کر اس فتنے کے بارے میں بتایا اور یہ بھی لکھا کہ اگر قرآن کا حکم نہ ہوتا اور ہمیں باہر نکلنے کی اجازت ہوتی تو میں بھی آپ کے ساتھ آتی لیکن اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ کو بھیج رہی ہوں کہ وہ آپ کے ساتھ رہے۔جناب ام سلمہ نے مکہ والوں سے بھی  حضرت علی(ع) کا ساتھ دینے کو  کہا اور ان سے کہا کہ اس وقت میری نظر میں علی سے بہتر کوئی اور نہیں ہے۔
مدینہ پوری طرح بنی ہاشم کے ہاتھوں میں تھا اس لئے باغی وہاں لوٹ نہیں سکتے تھے۔دوسری طرف شام میں معاویہ کو بھی طلحہ و زبیر سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور حضرت عائشہ کی تو اس سے بالکل نہیں بنتی تھی۔اب ان کے پاس ایک ہی جگہ بچی تھی وہ تھی بصرہ،اس لئے انہوں نے بصرہ جانے کا ارادہ کرلیا کیونکہ بصرہ میں طلحہ اور زبیر کے کافی ماننے والے تھے اور ان سے انہیں مدد کی پوری امید تھی۔
جناب عائشہ نے ’’ا م المومنین‘‘ہونے کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو باغیوں کے ساتھ  ملنے کو کہا اور  باقی لوگوں نے بھی اس بات کی پبلسٹی کی کہ پیغمبر کی بیوی ہمارے ساتھ ہے جو ہمارے لئے ماں کی حیثیت رکھتی ہے  اور مسلمانوں کی گردن پر ان کا حق ہے۔لوگوں کو اپنی طرف موڑنے کے لئے یہ پلان کافی کام آیا اور بہت سے قبیلوں نے اس وجہ سے باغیوں کا ساتھ دیا کہ ’’ا م المؤمنین‘‘ان کے ساتھ تھیں۔
لشکر تیار ہوا اور جنگ کے میدان کی طرف نکل پڑا۔راستے میں حواب نام کی  جگہ تھی جہاں حضرت عائشہ نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور انہیں پیغمبر اکرم(ص) وہ بات یاد آگئی جب آپ نے اپنی بیویوں سے فرمایا تھا اگر کوئی  فتنہ ہو اورتم میں سے کوئی حواب سے گزرے جہاں کتے بھونک رہے ہوں تو اس فتنہ سے دور ہوجانا۔انہوں نے لوٹنے کا ارادہ کرلیا لیکن زبیر کے بیٹے عبد اللہ نے یہ چالاکی کہ بنی عامر قبیلہ کے ۵۰ لوگوں کو ساتھ لایا جنہوں نے جھوٹی گواہی دی کہ  یہ وہ جگہ نہیں ہے جس کا ذکر پیغمبر(ص) نے کیا ہے۔
بصرہ میں اس وقت عثمان ابن حُنَیف حضرت علی(ع) کی طرف سے  گورنر تھے۔انہوں نے باغیوں سے پوچھا  کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟جواب میں انہوں نے کہا کہ عثمان کے قتل کا بدلہ۔ جو صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ علی(ع) خلافت چھوڑ دیں،بصرہ کے گورنر نے بھی باغیوں سے لڑنے کے لئے اپنی فوج کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ جب باغی ’’مربد ‘‘نامی جگہ پہنچے تو وہاں طلحہ نے تقریر کی اور عثمان کی مظلومیت کے بارے میں  لوگوں کو بتایا اور اپنی بیعت کی کیفیت کے بارے میں یہ جھوٹ گھڑا  کہ ان سے تلوار کے بل پر  بیعت لی گئی ہے،اب علی(ع) کو خلافت سے ہٹا کر عمر کی سنت پر عمل کیا جائے گا اور ایک کونسل بنائی جائے گی جو یہ فیصلہ کرے گی کہ خلیفہ کون ہوگا۔اس کے بعد زبیر اور پھر عائشہ  نےبھی تقریر کی  اور لوگوں کو حضرت علی(ع) کے خلاف بھڑکایا۔
بصرہ کے اندر پہنچ کر انہوں نے آدھے بصرے پر قبضہ کرلیا ۔بصرہ کے گورنر نے باغیوں کے ساتھ ایک معاہدہ  کیا کہ وہ حضرت علی(ع) کے آنے تک  کچھ نہیں کریں گے  اور دارالامارہ،بیت المال اور مسجد کی طرف نہیں آئیں گے۔باغیوں نے معاہدہ قبول کرلیا لیکن بعد میں اس ڈر سے کہ اگر  علی(ع) پہنچ گئے تو پھر ان کے لئے مشکل ہوجائے گی اس لئے انہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی  کرتے  ہوئے، حملہ کیا ۔ چنانچہ عثمان بن حنیف اس وقت  مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے لہذا انہیں گرفتار کرکے انکے سر کے بال مونڈھ کر انہیں بصرہ سے نکال دیا گیا۔جب امام علی(ع) نے انہیں اس حال میں دیکھا تو بہت روئے۔ باغیوں نے پچاس لوگوں کو قتل کیا اور گارڈز کو مار کر بیت المال پر قبضہ کراسے لوٹ لیا۔بصرہ پر قبضہ کے بعد طلحہ اور زبیر میں اس بات پر جھگڑا ہونے لگا کہ نماز کون پڑھائے گا،پھر طئے  یہ پایا کہ ایک دن طلحہ اور ایک دن زبیر نماز پڑھائیں گے۔
جب امام(ع) کو باغیوں کے بصرہ پہنچے کا پتہ چلا تو  آپ  مدینہ  سے کچھ لوگوں کو لے کر نکلے اور اپنا  ایک آدمی کوفہ   ابوموسیٰ اشعری  کے پاس بھیج کر اسے   لشکر تیار کرنے  کا حکم دیا لیکن اس نے منع کردیا۔امام نے ابوموسیٰ کو ہٹاکر  قرضہ ابن کعب کو کوفہ کا گورنر بنایا اور امام حسن (ع) اور جناب عمار کو کوفہ روانہ فرمایا ۔امام حسن(ع) کی ایک ہی تقریر سے کوفہ کے ۹۶۵۰ لوگ امام کے لشکر سے آملے۔بصرہ کے لوگ تین حصوں میں بٹ گئے:کچھ باغیوں کے ساتھ،کچھ امام(ع) کے ساتھ اور کچھ دونوں سے الگ۔
حضرت علی(ع) جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے،اس لئے انہوں نے تین دن تک انہیں سرنڈر ہوجانے اور اطاعت کرنے کے لئے کہا اور اپنی طرف سے صعصعہ ابن صوحان ،ابن عباس اور کچھ دوسرے لوگوں کو ان سے بات کرنے کے لئے بھیجا لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔امام(ع) نے  اپنے ساتھیوں سے جنگ شروع کرنے سے منع کردیا تھا لیکن جب باغیوں نے جنگ کی  تو اب چپ بیٹھنا مناسب نہیں تھا۔امام نے جنگ کے میدان میں بھی انہیں نصیحت کی۔آپ نے عائشہ سے کہا: تمہیں خدا نے گھر میں بیٹھنے کو کہا ہے اس لئے بہتر ہے یہیں سے لوٹ جاؤ اور طلحہ اور زبیر کو بھی پیغمبر کی بیوی کو جنگ کے میدان تک لانے کے لئے ملامت فرمائی۔حضرت عائشہ نے باغیوں کے بیچ  آکر تقریر کی اور انہیں جنگ کے لئے بھڑکایا اور جواب میں حضرت علی(ع) نے ایک شخص کو قرآن دے کر بھیجا کہ اب بھی موقع ہے بات کرتے ہیں اور جنگ سے پیچھے ہٹ جاتے لیکن باغیوں نے تیر ماکر اس شخص کو شہید کرڈالا۔جنگ شروع ہوئی ۔لوگوں نے پیغمبر(ص) کی بیوی کے اونٹ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔حضرت علی(ع) نے اونٹ پر حملہ کا حکم دیا۔اونٹ پر حملہ کیا گیا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔اس بیچ مروان نے طلحہ کو تیر مار کر ختم کردیا اور زبیر جنگ سے منھ موڑ کر جانے لگے تو ایک آدمی نے راستے ہیں انہیں مار ڈالا۔اور اس طرح یہ جنگ حضرت علی(ع) نے جیت لی۔
کچھ اہم نکات:
۱۔طلحہ و زبیر پیغمبر(ص) کے صحابی ضرور تھے لیکن آخر تک ایمان پر باقی نہیں  رہ سکے بلکہ چند روزہ دنیا کے لئے اپنی عاقبت بھی خراب کر بیٹھے۔ایسے صحابی نہ  قابل احترام ہیں اور نہ قابل تقلید۔
۲۔پیغمبر اسلام کی زوجہ «ام المؤمنین»ہونے کے لحاظ سے بحکم قرآن قابل احترام ضرور ہیں لیکن قابل تقلیدنہیں ہیں ۔جہاں تک احترام کی بات ہے تو حضرت علی(ع)  نے بھی آپ کو بصد احترام مدینہ تک پہنچوایا تھا لیکن آپ کے اس عمل کی مذمت بھی کی  تھی۔اس لئے شیعیان علی(ع) کو زوجہ پیغمبر(ص) کے احترام کا لحاظ رکھنا چاہیے اور حضرت علی(ع) سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ خاص کر فتنوں کے اس دور میں جہاں کسی بھی بات کو بہانہ کر بے گناہوں کے خون سے زمینِ خدا کو رنگین کردیا جاتا ہے۔
۳۔جنگ کے دوران حضرت علی(ع) کے لشکر کے ایک شخص کے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ جس طرف طلحہ و زبیر اور امّ المؤمنین عائشہ جیسی شخصیات ہوں بھلا وہ گروہ باطل پر کیسے ہوسکتا ہے۔اس لئے جب اس نے امام(ع) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا:«تمہاری مشکل یہ ہے کہ تم افراد کو دیکھ کر حق کو پہچاننا چاہتے ہو جبکہ اصول یہ ہے کہ حق کو دیکھ کر اہل حق کو جاننے کی کوشش کرو»۔
۴۔جنگ ختم ہونے کے بعد مولا کے بعض ساتھیوں نے  تسلیم ہوجانے والوں سے بدلہ لینے کا مشورہ دیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: «اِخوَانُنَا بَغَو عَلَینَا» یہ ہمارے ہی بھائی سے جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی تھی،اور ہم نے بغاوت کا سر کچل دیا ہے اس لئے بھائیوں سے انتقام کیسا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16