Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191828
Published : 30/1/2018 16:53

قرآن مجید کی نظر میں فاطمہ زہرا(س) کا رتبہ(2)

ایک مسلمان کم سے کم ۱۰ مرتبہ اپنی دن رات کی نمازوں میں خداوندعالم سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اسے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور ہدایت فرمائے،چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) صراط مستقیم کی تفسیر میں فرماتے ہیں: بے شک خداوندعالم نے علی(ع) اور ان کی زوجہ اور بیٹوں کو اپنی مخلوق کے لئے حجت قرار دیا ہے اور یہ میری امت میں علم کے دروازے ہیں پس جو بھی ان دروازوں تک پہونچ جائے وہ صراط مستقیم تک پہونچ جائے گا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں یہ بیان کیا تھا کہ قرآن مجید خداوند عالم کا کلام حق ہے کہ جو اتقان و استحکام کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہے،اس کتاب مقدس میں بہت سی ان حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے جن تک عقل بشری کی رسائی ممکن نہیں ہے چنانچہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی ان حقیقتوں میں سے ایک ہیں جسے قرآن مجید کی آیات اور معصومین(ع) کی روایت کے بغیر درک نہیں کیا جاسکتا لہذا ہم اس مقالہ میں  قرآن مجید کی آیات کے تناظر میں شہزادی کونین کی شخصیت کی معرفت کے کچھ پھولوں کو چننے کو کوشش کرتے ہیں،چنانچہ گذشتہ مضمون کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
قرآن مجید کی نظر میں فاطمہ زہرا(س) کا رتبہ(۱)
۶۔کوثر رسول خدا(ص)
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے یہاں ایک بچہ کی ولادت ہوئی جس کا نام عبداللہ رکھا گیا لیکن کچھ ہی دن ان کا انتقال ہوگیا،اس ماجرے کو گذرے ہوئے ابھی کچھ روز ہی ہوئے تھے کہ رسول خدا(ص) ایک مسجد الحرام سے باہر تشریف لارہے تھے مشرکین مکہ میں سے عاص بن وائل نے  آپ سے ملاقات کی،اسی وقت مشرکین کا ایک گروہ مسجد میں داخل ہوا اور اس سے دریافت کیا کہ تم کس سے گفتگو کررہے تھے؟ اس نے جواب دیا: اس ابتر(بےاولاد) سے ۔(۱)!
عاص بن وائل کا یہ جملہ اس قدر گراں تھا کہ خداوندعالم نے اپنے رسول کی تسلی خاطر کے لئے سورہ کوثر نازل فرمایا: اے میرے رسول! بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے لہذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں یقیناً آپ کا دشمن بے اولاد رہے گا۔(۲)
مفسرین نے «کوثر» کے معنی بہت زیادہ خیر وبرکت کے کئے ہیں اور کہا ہے: اس سے مراد نسل اور ذریت پیغمبر میں زیادتی ہے اور یہ معنی اولاد حضرت زہرا(س) کے سبب محقق ہوئے ہیں اس طرح کہ آپ کی ذریت کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح چلتا رہے گا۔(۳)
جبکہ بعض شعہ علماء نے حضرت زہرا سلام اللہ کے وجود نازنین کو کوثر کا مصداق اتم بیان کیا ہے چونکہ اس آئیہ کریمہ کا شان نزول اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ مکہ کے بت پرست لوگ رسول خدا(ص) پر مقطوع النسل ہونے کی تہمت لگاتے تھے چنانچہ قرآن مجید ان کی تہمتوں کی نفی کرتے ہوئے پیغمبر سے فرماتا ہے کہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ لہذا اس تعبیر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ خیر کثیر(کوثر) وہی فاطمہ زہرا (س)ہیں۔(۴)
۷۔شجرہ الہی کی شاخ
خداوند عالم نے کلمہ طیبہ کی مثال شجر طیبہ سے دیتے ہوئے فرمایا ہے: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔(۵) چنانچہ امام باقر علیہ السلام کے صحابی نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور مذکورہ آیت کے متعلق سوال کیا،حضرت نے فرمایا: وہ درخت(شجر طیبہ) حضرت محمد مصطفٰی(ص) ہیں اس درخت کا تنہ حضرت علی اور اس کے پھل حسنین(ع) اور اس کی اصلی شاخ حضرت زہرا(س) اور اس کی چھوٹی شاخیں آئمہ طاہرین علیہم السلام اور اس درخت کے پتے ہم اہل بیت(ع) کے شیعہ اور محب ہیں۔(۶)   
۸۔ حقیقت شب قدر
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے سورہ قدر کی ابتدائی آیات کے متعلق فرمایا:لیلہ (اس شب کی حقیقی مصداق) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں اور قدر خداوند عالم ہے لہذا جو شخص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اس طرح پہچانے جیسا کہ حق ہے اس نے شب قدر کو درک کرلیا،اور فاطمہ(س) کو فاطمہ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مخلوقات آپ کی کما حقہ معرفت سے عاجز ہیں۔(۷)
۹۔فاطمہ(س) صراط مستقیم
ایک مسلمان کم سے کم ۱۰ مرتبہ اپنی دن رات کی نمازوں میں خداوندعالم سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اسے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور ہدایت فرمائے،چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) صراط مستقیم کی تفسیر میں فرماتے ہیں: بے شک خداوندعالم نے علی(ع) اور ان کی زوجہ اور بیٹوں کو اپنی مخلوق کے لئے حجت قرار دیا ہے اور یہ میری امت میں علم کے دروازے ہیں پس جو بھی ان دروازوں تک پہونچ جائے وہ صراط مستقیم تک پہونچ جائے گا۔(۸)
۱۰۔فاطمہ(س) پر ایمان ہدایت کی شرط
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سورہ بقرہ کی ۱۳۶ اور ۱۳۷ ویں آیات کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں: «آمنا بالله و ما انزل الینا» سے علی حسن حسین اور فاطمہ سلام اللہ علیہم اجمعین کا ارادہ ہوا ہے اور یہ حکم ان کے بعد والے آئمہ پر بھی جاری ہوتا ہے، نیز فرمایا: «فان آمنوا» یعنی لوگ،«بمثل ما آمنتم به» یعنی علی و بتول و حسنین(ع)اور ان کے بعد والے آئمہ(ع) پر ایمان لائے۔. «فقد اهتدوا و ان تولوا فانما هم فی شقاق» یعنی اگر یہ لوگ بھی ایسے ہی ایمان لے آئیں گے تو ہدایت یافتہ ہوجائیں گے اور اگر اعراض کریںگے تو یہ صرف عناد ہوگا ۔(۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ مکہ کے مشرک رسول خدا(ص) آپ کے بیٹوں کی وفات کے بعد طعنہ دیتے ہوئے ابتر کہا کرتے تھے چونکہ آپ کے کوئی بیٹا نہیں تھا۔
۲۔انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک هو الابتر»۔کوثر:۱-۳۔
۳۔مجمع البیان فی تفسیر القرآن، فضل بن حسن طبرسی، بیروت، مؤسسه الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۵ق، ج۱۰، ص ۴۵۸-۴۶۰۔
۴۔برگزیده تفسیر نمونه، احمد علی بابایی، تهران، دارالکتب الاسلامیه، چ۶، ۱۳۷۹ش، ج۵، ص ۵۹۹-۵۶۰۔
۵۔الم تر کیف ضرب الله مثلاً کلمة طیبه کشجرة طیبة اصلها ثابت و فرعها فی السماء»۔ابراهیم: ۲۴۔
۶۔ انا انزلناه فی لیله القدر»۔قدر:۱۔
۷۔ تفسیر فرات کوفی، تحقیق: محمد الکاظم، تهران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، ۱۴۱۶ق، ص ۵۸۱ و ۵۸۲، رقم ۷۴۷؛ بحارالانوار، تحقیق: محمود دریاب، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، چ۱، ۱۴۲۱ق، ج۱۸، ص ۵۲۔
۸۔ شواهد التنزیل، ج۱، ص ۵۸، ح ۸۹۔
۹۔ التفسیر للعیاشی، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیه مؤسسه البعثه؛ قم، بنیاد بعثت، چ۱، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص ۱۵۹، رقم ۲۱۲/ ۱۱۱۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16