Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192186
Published : 21/2/2018 19:18

اولاد رسول(ص) پر ہارون کے ظلم و جفائیں

ہارون کے مسند اقتدار و سلطنت پر قابض ہونے کے بعد ہی سے اولاد علی(ع) کی نسبت اس کا دیرینہ کینہ ظاہر ہونے لگا اور جیسے جیسے اس کی حکومت کے پائے مضبوط ہوتے گئے اولاد علی(ع) پر اس کے مظالم کی سلسلہ شدید ہوتا گیا۔ ہارون اور اس کے نمک خواروں کا نظریہ یہ تھا کہ روی زمین پر اولاد علی(ع) کو جینے کا کوئی حق نہیں لہذا وہ جہاں بھی ملیں قتل کردیا جائے۔

ولایت پورٹل: ہارون رشید عباسی خلفاء میں سے پانچواں اور سفاک و عیاش ترین خلیفہ تھا کہ جس نے اپنے ۲۳ سالہ دور اقتدار میں ہزاروں فرزندان فاطمہ(س) اور ذریت رسول خدا(ص) کو تہہ تیغ کیا اور اس کی خونچکاں تاریخ میں سب سے گھناؤنا عمل امام موسیٰ کاظم(ع) کی دردناک شہادت ہے۔(۱)
ہارون کے دور کو عباسیوں کی تاریخ کا طلائی دور بھی کہا جاتا ہے چونکہ اس کے دور میں مال و منال کی فراوانی،تجارت میں توسیع،علم و فلسفہ میں ترقی اور متعدد ممالک اور سرزمینوں کے فتوحات ہاتھ آئیں۔(۲)
ہارون رشید عباسی سلسلہ کے چوتھے سفاک خلیفہ مہدی عباسی کا بیٹا تھا جو سن ۱۴۵ ہجری کو ایران کے معروف شہر ری میں پیدا ہوا اور اس کی ماں خیزران نامی ایک کنیز تھی۔(۳)
ہارون کی خلافت کا آغاز
ہارون رشید  اسی رات مسند خلافت پر براج مان ہوگیا جس رات اس کے باپ فوت ہوا تھا چنانچہ جب ہادی عباسی حالت احتضار میں تھا تبھی خزیمہ بن خازم آدھی رات جب ہادی کو دیکھنے کے لئے گیا تو اس نے ڈرا دھمکا کر ہارون کے لئے اس سے بیعت لے لی۔خود ہارون اپنی حکومت کو اپنی ماں خیزران اور یحییی بن خالد برمکی کی مرہون منت مانتا تھا چنانچہ ہادی عباسی کے آخری  دور میں یحیٰ قید میں تھا اور اس نے قید سے ہی ہارون کی حکومت کے لئے راہیں ہموار کیں جس کی دلیل یہ ہے کہ جب ہارون کو اقتدار ملا تو اس نے سب سے پہلے یحیٰی بن خالد کو  قیدخانے سے آزاد کرکے  اپنا وزیر بنا دیا۔
ہارون کے مظالم کی مختصر روداد
ہارون کے مسند اقتدار و سلطنت پر قابض ہونے کے بعد ہی سے اولاد علی(ع) کی نسبت اس کا دیرینہ کینہ ظاہر ہونے لگا اور جیسے جیسے اس کی حکومت کے پائے مضبوط ہوتے گئے اولاد علی(ع) پر اس کے مظالم کی سلسلہ شدید ہوتا گیا۔ ہارون اور اس کے  نمک خواروں کا نظریہ یہ تھا کہ روی زمین پر اولاد علی(ع) کو جینے کا کوئی حق نہیں لہذا  وہ جہاں بھی ملیں قتل کردیا جائے۔
چنانچہ حمید بن قحطبہ طائی طوسی کہتا ہے کہ ایک رات ہارون نے مجھے بلوایا اور حکم دیا کہ میرا یہ خادم تجھے جو حکم دے تو اس کی تعمیل کر!
حمید کہتا ہے کہ ہارون کا یہ خدمت گذار مجھے ایک گھر میں لے گیا کہ جہاں بہت سے سادات کرام! کو قید کررکھا تھا اور مجھے حکم دیا کہ میں ان سب کو قتل کردوں۔ چونکہ میرے لئے اس کی اطاعت خود حاکم کی اطاعت تھی لہذا میں میں نے یکے بعد دیگرے تمام لوگوں کی گردنیں اڑا دیں اب ان میں سے صرف ایک بزرگ اور نحیف سید ہی باقی بچا تھا اور جیسے ہی میں اسے قتل کرنے کے لئے آگے بڑھا وہ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا: اے شخص! خدا تجھے نابود کرے! روز قیامت ہمارے جد رسول خدا(ص) کو تو کیا جواب دے گا؟ یہ سن کر میرے ہاتھ لرزنے لگے اور میرا جسم کانپ اٹھا اور قریب تھا کہ میری سانسیں ہی سینہ میں رک جائیں یکبارگی ہارون کا غلام میری طرف گھورا اور اس نے غضبناک حالت میں مجھے دھمکی دی لہذا میں نے اس بوڑھے سید کو بھی قتل کردیا اور ہارون کے غلام نے خود اس سید کے جنازے کو کنویں میں  پھینک دیا۔
صاحب کتاب عیون اخبار الرضا(علیہ السلام) شیخ صدوق(رح) ہارون کی جفاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ: جب بھی ہارون کسی جدید عمارت کو تعمیر کرواتا تھا  تو وہ اولاد علی(ع) کو پکڑ کر دیوار میں چنوا دیتا تھا۔
جب اولاد علی(ع) پر ہارون کے مظالم اور جفاؤں کا سلسلہ اتنا زیادہ ہوا کہ اولاد علی(ع) اپنی پہچان چھپانے لگے تو امام حسن(ع) کے پوتے جناب یحیی بن عبداللہ بن حسن(ع) نے دیلم میں رشیدی استبداد کے خلاف علم جہاد بلند کردیا۔
جب یہ خبر ہارون کو پہونچی تو اس نے اپنے وزیر یحیٰی بن خالد برمکی کو ۵۰ ہزار سپاہیوں کا لشکر دے یحیٰی کو سرکوب کرنے کے لئے روانہ کردیا اور جب یہ خبر یحیٰی بن عبد اللہ کے ساتھیوں کو ملی انھوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ فرار اختیار کرنے لگے جب سید نے یہ منظر دیکھا تو بہت ناراض ہوئے لہذا آپ نے مجبور ہوکر فضل کی طرف سے پیش کردہ صلح کو اس شرط پر قبول کیا کہ آمان نامہ خود ہارون کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہو چنانچہ سید کے شرائط کو پورا کیا گیا اور اب جو سید یحیٰی بن عبداللہ ہارون کے دربار میں پہونچے اس نے آپ کا حد درجہ دکھاوٹی احترام و اکرام کیا اور خفیہ طور پر آپ کو قتل کرنے کی سازش کرنے لگا اور آخر کار یحیٰی کو شہید کردیا گیا۔
علامہ امینی کتاب اعیان الشیعہ میں رقمطراز ہیں: امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد ہارون رشید نے اپنے سپہ سالار جلودی کو مدینہ بھیجا اور یہ حکم دیا کہ آل ابوطالب(ع) کے گھروں کو مسمار کردے اور عورتوں کے تمام کپڑوں کو جلادے اور ان کے لئے صرف ایک ایک جوڑی ہی لباس رہنے دیا جائے چنانچہ اس معلون جلودی نے ہارون کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اولاد ابوطالب کے گھروں کو منہدم کردیا اور خواتین کے صندوقوں میں رکھے کپڑوں کو جلا دیا اور تمام زیورات کو لوٹ لیا اور جب حضرت امام رضا علیہ السلام کے بیت الشرف میں داخل ہوا تو خود امام رضا علیہ السلام نے  گھر کی تمام خواتین کو ایک کمرہ میں بند کرکے خود دروازے پر کھڑے ہوگئے تاکہ کوئی کمرہ میں داخل نہ ہوسکے اور گھر میں رکھے تمام سامان ،زیورات اور کپڑوں کو جلودی ملعون کے سامنے لاکر ڈال دیا۔
قارئین کرام! اگرچہ تاریخ کے اوراق میں ہارون کے مظالم کی داستان بکھری پڑی ہے کہ جو اس نے اولاد علی(ع) کے حق میں روا رکھے لیکن ہم نے اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف چند مظالم کے بیان پر اکتفاء کیا ہے تاکہ اس سفاک و ظالم خلیفہ کا اصل چہرہ مسلمانوں کے سامنے آسکے۔
ہارون رشید ۴ جمادی الثانیہ سن ۱۹۳ ہجری کو سرزمین طوس پر فوت ہوکر واصل جحیم ہوا اس کی قبر امام رضا علیہ السلام کے سرہانے ہے لہذا زائرین بارگاہ رضوی جب حضرت امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں تحفہ درود و سلام پڑھیں اس ملعون پر اللہ کی لعنت کرنا نہ بھولیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ہارون الرشید، دانشنامه رشد۔
۲۔طقوش، محمد بن سهيل، دولت عباسيان، قم، پژوهشكده حوزه و دانشگاه، 1383، ص 89۔
۳۔طبري، محمد بن جرير، تاريخ الطبري، بيروت، دارالكتب العلميه، بي تا،ج8، 359-347۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25