Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192197
Published : 22/2/2018 6:21

آل سعود کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے فوج کی ضرورت نہیں؛سعودی عرب فوج بھیجنے کے پاکستانی حکومت کے فیصلہ کی عوامی مخالفت

سعودی عرب کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے فوج کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آل سعود حکومت یمن پر اپنے حملے تیز کرنے کے لئے دوسروں کی مدد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ولایت پورٹل:ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت، حرمین شریفین کی حفاظت کے بہانے تلاش کرنے کے بجائے یمن کے مظلوم عوام پر بمباریوں اور اس ملک پر وحشیانہ حملوں کا سلسلہ بند کرے،انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے فوج کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آل سعود حکومت یمن پر اپنے حملے تیز کرنے کے لئے دوسروں کی مدد حاصل کرنا چاہتی ہے،مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے حکومت پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یمن کے بحران میں مداخلت کرنے کے بجائے بحران کے حل کے لئے ایک ثالث کا کردار ادا کرے،ان کا کہنا تھا کہ نیابتی جنگ میں پاکستان کو بے پناہ نقصانات اٹھانے پڑے ہیں،اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے آج دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے - ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے کردار کو سراہنے کے بجائے دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی واچ لیسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی دھمکی دے کر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کے پاس کوئ موثر خارجہ پالیسی نہیں ہے -جنگ یمن میں پاکستان کی شرکت پر علامہ راجہ ناصر عباس کی مخالفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستانی وزیردفاع خرم دستگیر نے سعودی عرب فوج بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا دفاعی اور اسٹریٹیجیک اتحادی ہے –
سحر





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18