Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192204
Published : 22/2/2018 16:26

فاطمہ(س) کے مجرم

اہل بیت(ع) کی ثابت قدمی نے مسلمانوں کے درمیان ایک محوریت پیدا کرلی تھی کہ جس کے سبب لوگ کبھی بھی خود ساختہ خلیفہ کی بیعت سے پلٹ سکتے تھے لہذا اپنے باطل عمل کے نفاذ کے لئے انھیں ایک ایسے منظر کی تلاش تھی کہ جو علی الاعلان اہل بیت(ع) کو امت کے درمیان افتراق اور اختلاف ڈالنے والوں کے طور پر پہچنوا سکے لہذا یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت یہ لوگ اس دروازے تک آگئے جو مھبط ملائکہ اور نزول وحی کا آنگن تھا کہ جہاں تاریخ کا وہ تلخ حادثہ رونما ہوا جس کی آہ و فغاں کی آوازیں صدیاں گذرنے کے بعد آج بھی سنائی دے رہی ہیں۔

ولایت پورٹل: مسجد النبی(ص) میں خود رسالتمأب(ص) کی اقتداء میں ہر روز پانچ وقت نماز پڑھنا کتنی بڑی سعادت اور توفیق ہے! واقعاً اگر ہم بھی ہوتے تو اپنے وجود پر ناز کرتے اور کہتے کہ خداوند عالم ہمیں کتنا پسند کرتا ہے کہ اس نے ہمیں اتنی عظیم توفیق عنایت فرمائی۔
چنانچہ بہت سے لوگوں کو یہ نعمت نصیب تھی اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ وہ رسول خدا(ص) کے ساتھ راستہ چلتے،آپ سے گفتگو کرتے اور آفتاب نبوت کے نور عالم تاب سے مستفید ہوتے تھے۔
قارئین کرام! آپ خود تصور کیجئے کہ ایسے لوگ جو وحی الہی کو خود رسول اللہ(ص) سے بلا واسطہ حاصل کرتے ہوں اور اسلام کے احکام کو خود سرکار کی زبانی سماعت کرتے ہوں! بھلا اس سے خالص دین کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ بھلا اس سے بہتر کون سا ایمان ہوسکتا ہے؟اب اس درخشاں ماضی کے ساتھ انسان کیسے یہ تصور کرے کہ یہی شخص اہل بیت رسول(ص) کا قاتل بن جائے ؟ وفات سرکار کے بعد آپ کی بیٹی کے گھر کو نذر آتش کردے؟ اور علی جیسے مشکل کشاء کے گلے میں پھندا ڈال کر کشاں کشاں لے جائے؟؟؟
قارئین! اس مسئلہ کو تاریخ کی معتبر کتابوں میں تلاش کر تجزئیہ و تحلیل کرنے کی ضرورت ہے چنانچہ اہل سنت کی معتبر کتابوں میں نقل ہے ہم اس کا خلاصہ نذر قارئین کررہے ہیں۔
علی علیہ السلام  کو اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم کے بموجب اپنا وصی و جانشین بنایا نیز بہت سی جگہوں پر آپ کی خلافت اور وصایت پر نص بھی فرمائی اور غدیر خم کے میدان میں تمام حاضرین۔ کہ جن لوگوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی جاتی ہے۔  کی فرد فرد سے علی کی خلافت کے لئے بیعت لی اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے ۲۳ برس سرکار کے وجود پر نور سے مستفیض ہوتے رہے کچھ لوگ آپ کی وفات کے فوراً بعد سقیفہ بنی ساعدہ نامی جگہ پر جمع ہوگئے تاکہ اپنے خاص اصولوں کے تحت پیغمبر کا جانشین منتخب کریں!
اور پھر  اس کے لئے بیعت لی جائے تاکہ اہل بیت کے مقابل اسے رسول خدا(ص) کا جانشین ہونے کی حیثیت سے قبول کرلیا جائے۔
اس خود ساختہ خلیفہ کے مقابل اہل بیت(ع) کی ثابت قدمی نے مسلمانوں کے درمیان ایک محوریت پیدا کرلی تھی کہ جس کے سبب لوگ کبھی بھی خود ساختہ خلیفہ کی بیعت سے پلٹ سکتے تھے لہذا اپنے باطل عمل کے نفاذ کے لئے انھیں ایک ایسے منظر کی تلاش تھی کہ جو علی الاعلان اہل بیت(ع) کو امت کے درمیان افتراق اور اختلاف ڈالنے والوں کے طور پر پہچنوا سکے لہذا یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت یہ لوگ اس دروازے تک آگئے جو مھبط ملائکہ اور نزول وحی کا آنگن تھا کہ جہاں تاریخ کا وہ تلخ حادثہ رونما ہوا جس کی آہ و فغاں کی آوازیں صدیاں گذرنے کے بعد آج بھی سنائی دے رہی ہیں۔
اس حادثہ میں قابل ملاحظہ و عبرت خیز نکتہ یہ ہے کہ اہل بیت اطہار(ع) کے خلاف یہ وحشیانہ عمل ان لوگوں کی طرف سے سرزد ہوا کہ جو اپنے  کو اولین مسلمان کہنے اور فخر و مباہات کرتے کرتے نہیں تھکتے تھے اور اسلام کے بہت سے افتخار کے ظمغے اپنی گردن میں لٹکائے پھرتے تھے اور یہ سب افتخار جعلی بھی نہیں تھے ان میں سے کچھ تو عالم خارج میں رونما ہو بھی چکے تھے اگرچہ ان کے پس منظر کچھ بھی رہے ہوں۔جیسا کہ رسول اللہ کے ساتھ ہجرت کرنا وغیرہ۔
سقیفائی موقع پرست جہاد و قتال میں شرکت کی طویل فہرست بھی اپنی کارکردگی میں رکھتے تھے کہ جہاد میں شرکت کی فضیلت خود معصومین علیہم السلام کی نظر میں بہت عظیم ہے کہ جس کے لئے ارشاد ہوتا ہے: جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام ہے کہ جس کو خدا اپنے خاص بندوں کے لئے کھولے گا۔
شاید آپ کے تعجب میں مزید اضافہ ہوجائے اگر ہم یہ کہیں کہ زہرا (س) کے دروازے کو جلانے والے اور رحلت رسول(ص) کے بعد اہل بیت پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑنے والے اہل جہاد،اور رکاب سرکار رسالتمآب میں تلوار کے جوہر دکھانے والے لوگ تھے،تو بس اچانک یہ سب کیسے بدل گیا؟
کیا یہ سب سابقہ توفیقات کسی کی عاقبت اور انجام کے بخیر ہونے کے لئے کافی نہیں ہے؟ وہ سابقہ سعادتیں ان شقاوتوں اور بدبختیوں کے ساتھ  کیسے جمع ہوسکتیں ہیں؟
ظاہر ہے تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں! ایسے لوگ موجود ہیں جو زندگی بھر برائیوں میں گھرے رہے اور انھیں توفیق توبہ نصیب ہوئی جو بخیر انجام کو پہونچے اور اسی طرح بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنکی پوری زندگی اچھائیوں میں گذری اور آخر وقت میں برائی کے ساتھ دنیا سے گئے!
پس یہ تو ممکن ہے کہ ایک انسان زندگی بھر فرض شناسی کا سبق پڑھتا رہا ہو اور رسول خدا(ص) کی حیات میں بھی فرمان سرکار پر سر خم کرتا آیا ہو لیکن آپ کے وصال کے بعد امیرالمؤمنین کی ولایت کو قبول نہ کرکے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ بنا لے۔
نیجہ: قارئین کرام! یہ حساب اور اندازے صرف ان لوگوں اور اس زمانہ سے مخصوص نہیں ہیں، ان لوگوں  کا واقعہ صرف تاریخ نہیں ہے اور نہ ہی ایام فاطمیہ میں ہمارے رونے رلانے کے لئے ہیں بلکہ مکمل عبرت کا سامان ہے ۔ یہ سب چیزیں ہمیں زندگی میں کچھ فکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں  چونکہ قاعدہ یہ ہے کہ  تمام واجبات کی ادائیگی  اور تکالیف شرعیہ پر عمل پیرا ہونے سے بھی کسی انسان کا انجام اچھا نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ،اور ہاں! ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ فاطمہ کا بیٹا سلام اللہ علیہما ہمارے درمیان زندہ و ناظر ہے اور ہم بھی ان لوگوں کی طرح معرض امتحان میں ہیں،لہذا ہر حال میں سعادت اور انجام کے بخیر ہونے کی توفیق طلب کرتے رہنا چاہیئے!




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22