Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192210
Published : 22/2/2018 18:21

اپنی بیٹیوں کوکیسے باپردہ بنائیں؟

یہ امر بھی نہایت غور طلب ہے کہ کسی معاشرہ میں بچوں کے لئے ان کے بڑے آئیڈیل اور نمونہ ہوتے ہیں اور وہ انھیں سے سب کچھ سیکھتے ہیں پس جب گھر میں ماں، بہن، یا بلکہ استانی(ٹیچر) یا اسی معاشرہ کی کوئی دیگر خاتون بے حجاب ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی بچیوں کے ذہن و دل پر اس کے معکوس اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حجاب اور پردہ اسلامی معاشرہ کی علامت اور خواتین کے لئے باعث زینت قدر(Value) ہے لہذا ہمیں اپنی بچیوں کو ابتدائی ایام سے ہی پردہ داری اور حجاب سے آشنا کر انھیں پردہ کی نسبت علاقہ مند بنائیں۔ہم اس مقالہ میں دو خاص چیزوں کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہیں گے۔۱۔گھر کے ماحول کا بچیوں کے پردہ کرنے پر کتنا اثر پڑتا ہے ؟ کیا بچیوں کو پردہ اور حجاب سکھانے کے لئے کسی عمر سے کام شروع کرنا چاہیئے؟
آج  جبکہ تہذیبی یلغار میں دشمن نے مورچہ سنبھال رکھا ہے اور خود ہمارے اپنے ہی بہت سے لوگ پردہ اور حجاب کے متعلق طرح طرح کی باتیں بناتے ہوئے نظر آتے ہیں تو ان والدین کے لئے  یہ تشویش کا موضوع بن چکا ہے کہ جو اپنی اولاد کی خالص اسلامی اصولوں کے تحت تربیت کرنے کے خواہاں ہیں۔
یاد رکھئے کہ بچپن تقلید کرنے اور کسی چیز کے اپنانے اور دوسرے جیسا بننے کی خاص عمر ہے اس میں ہر بچہ یہ چاہتا ہے کہ میں فلاں جیسی چیز کھاؤں،اس کی طرح لباس پہنوں، فلاں کی طرح راستہ چلوں وغیرہ۔
نیز یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ حجاب ان اقدار(Values) میں سے ایک ہے کہ جو کسی خاتون کی شخصیت کی شناخت کے طور پر پیش کی جاتی ہے ،ہمارے تعلقات،لباس ہمارا دوسروں کے ساتھ  ہمارے ملنے جلنے کا انداز وغیرہ یہ وہ سب چیزیں ہیں جن سے سے مل کر کسی انسان کی شخصیت تشکیل پاتی ہے لہذا ہم پر ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو جو اقدار ورثہ میں دیں اور جو اخلاق انھیں سکھائیں ہمیں ان کے تئیں بہت حساس ہونا چاہیئے۔ عام طور پر بچے بچپن ہی گھر والوں کے ساتھ میل ملاپ، مشاہدہ ،میڈیا اور ماحولیات  وغیرہ سے تھوڑی تھوڑی چیزیں لیکر اپنی شناخت میں شامل کرلیتے ہیں اور انھیں سب چیزوں سے انسان کا مزاج اور عادات  تشکیل پاتے ہیں۔
لیکن آج ہمارے معاشرہ میں پردہ کی باگ ڈور ٹی وی چینلز اور اجتماعی میڈیا سینٹڑز کے ہاتھوں  کی کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے اور گھر اور خاندان کی اقدار اب حاشیہ پر چلی گئیں لہذا ہمیں بچپن ہی سے اپنی بچیوں اور بیٹیوں کے پردہ پر توجہ دینا چاہیئے لیکن افسوس  کہ بہت سے تخریبی افکار کے لوگ آزادی بیان کے نام پر معاشرہ میں اس الہی قدر کا رنگ پھیکا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اور یہ امر بھی نہایت غور طلب ہے کہ کسی معاشرہ میں بچوں کے لئے ان کے بڑے آئیڈیل اور نمونہ ہوتے ہیں اور وہ انھیں سے سب کچھ سیکھتے ہیں  پس جب گھر میں ماں، بہن، یا بلکہ استانی(ٹیچر) یا اسی معاشرہ کی کوئی دیگر خاتون بے حجاب ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی بچیوں کے ذہن و دل پر اس کے معکوس اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ ہم کس سن اور عمر میں بچیوں کو پردہ کا پابند بنائیں؟ ہمیں سب سے پہلے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ کسی پر زور زبردستی کرنے کے برے نتائج برآمد ہوتے ہیں بلکہ اگر ہمارے گھر میں پردہ کرنا ایک قدر(Value) شمار ہوتا ہے تو یہ ماحول خود بچیوں کے باپردہ بننے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ لڑکیاں جب ابھی اپنے بچپن ہی کے مراحل میں ہوتی ہیں تو ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ پردہ سے آشنا ہوں اور گھر کی بڑی خواتین کی مانند دوسروں سے پیش آئیں لہذا ہماری نظر میں ۳ یا ۴ برس کے سن میں عام طور پر لڑکیوں کے اندر پردہ کرنے کا اشتیاق پیدا ہونے لگتا ہے بشرطیکہ اس کے گھر کا ماحول پردہ داری اور حجاب کو اہمیت دیتا ہو۔
اور جن لڑکیوں کو بچپن سے پردہ کی رغبت نہیں دلائی جاتی اور والدین یہ سوچتے ہیں کہ جب بالغ ہوگی تب خود ہی پردہ کرنے لگے گی یہ ان کی بھول ہے چونکہ اب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے لہذا وہ  لڑکی جسے حجاب کی اہمیت اور وقعت ہی معلوم نہ ہو وہ بالغ ہوتے ہوتے پردہ کی اس طرح حفاظت اور پابندی نہیں کرسکتی جس طرح اسے کرنی چاہیئے  اور جو اس سے مطلوب تھی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21