Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192232
Published : 24/2/2018 17:10

علی(ع) کی نظر میں عدالت کی اہمیت

جس طرح انسان کے بدن کا اگر کوئی عضو بیمار ہوجائے تو بدن کے دوسرے اعضاء تھوڑی دیر کے لئے اس کی سلامتی کے سلسلہ میں مشغول ہوجاتے ہیں اور بدن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ بدن کا مریض حصہ جلد ازجلد ٹھیک ہوجائے۔ یہی حال سخاوت کا بھی ہے ۔کیا اچھا ہوتا کہ معاشرہ میں ایسی کوئی بیمار فرد پائی ہی نہ جاتی کہ جس سے سماج کے افراد کو اس کی صحت وسلامتی کی طرف متوجہ ہونا پڑے اور اس طرح کی شاہراہوں پر گامزن نہ رہ سکے۔
ولایت پورٹل: ایک ذہین و نکتہ سنج سائل نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے سوال کیا:اَلْعَدْلُ اَفْضَلُ اَمِ الْجُوْدُ؟۔(۱)
عدل افضل ہے یا سخاوت؟
اسی جگہ سائل نے انسان کی دوخصلتوں سے متعلق سوال کیا ہے۔
انسان ہمیشہ ظلم وستم سے گریز اور فرار کرتا رہا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس شخص کی تعریف بھی کی جاتی ہے کہ جس نے صلۂ رحم یا کسی امید کے بغیر کسی کے ساتھ نیکی یا احسان کیا ہو ۔
یوں تو اس سوال کا جواب بہت آسان نظر آتا ہے۔ پہلی ہی فکر میں آدمی طے کرلیتا ہے کہ جود و سخا ،عدالت سے افضل ہے کیونکہ عدالت دوسروں کے حقوق کی رعایت اور ان کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز نہ کرنے کا نام ہے ۔لیکن سخاوت میں انسان اپنے مسلّم حقوق کو دوسروں پر نثار کردیتا ہے۔ اس کے برخلاف جو عدالت سے کام لیتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ دوسروں کے حقوق کو پامال نہیں کرتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کو پامالی سے بچاتا بھی ہے لیکن جو سخاوت کرتا ہے وہ جذبۂ فداکاری کا اظہار کرتا ہے اور اپنے ذاتی حق کو دوسروں پر قربان کرکے خود دست بردار ہوجاتا ہے۔
لہٰذا ایسی صورت میں سخاوت، عدالت سے بہتر و بالاتر ہے۔    اگر اخلاقی اور انفرادی معیار پر پرکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ سخاوت عدالت سے کہیں زیادہ کمال نفس اور ارتقاء روح کا مظہر ہے۔
لیکن حضرت علی علیہ السلام اس کے برعکس ارشاد فرماتے ہیں کہ عدل دودلیلوں کی بناء پر سخاوت سے بہتر ہے:
پہلی دلیل
«اَلْعَدْلُ یَضَعُ الْاُمُورَ مَوَاضِعَھَا وَالْجُوْدُ یُخْرِجُہَا مِنْ جِہَتِہَا»۔
ترجمہ:عدالت کے ذریعہ نظام کائنات بر محل انجام پاتے ہیں اور سخاوت، نظام ہستی کا رخ موڑدیتی ہے۔
عدالت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص کی بنیادی ضرورتوں کو اور اس کی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اس کا حق دیا جائے ،معاشرہ کی مثال ایک گاڑی کی سی ہے کہ جس کا ہر پرزہ اپنی اصل جگہ پر لگا ہوا ہے، لیکن سخاوت اگرچہ سخی کی نظر میں بہت اہمیت رکھتی ہے ،چونکہ وہ اپنے قیمتی اور جائز مال و دولت کو دوسروں کو بخشتا ہے لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ سخاوت ایک غیر فطری مسئلہ ہے جس طرح انسان کے بدن کا اگر کوئی عضو بیمار ہوجائے تو بدن کے دوسرے اعضاء تھوڑی دیر کے لئے اس کی سلامتی کے سلسلہ میں مشغول ہوجاتے ہیں اور بدن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ بدن کا مریض حصہ جلد ازجلد ٹھیک ہوجائے۔ یہی حال سخاوت کا بھی ہے ۔کیا اچھا ہوتا کہ معاشرہ میں ایسی کوئی بیمار فرد پائی ہی نہ جاتی کہ جس سے سماج کے افراد کو اس کی صحت وسلامتی کی طرف متوجہ ہونا پڑے اور اس طرح کی شاہراہوں پر گامزن نہ رہ سکے۔
دوسری دلیل
«اَلْعَدْلُ سَائِسٌ عَامٌ وَالْجُوْدُ عَارِضٌ خَاصٌّ»
ترجمہ:عدالت اس عام قانون اور ہمہ گیر ضابطہ کو کہتے ہیں کہ جس کی گرفت میں پورا معاشرہ ہے اور اس عظیم شاہ راہ پر گامزن رہنا چاہیئے۔
لیکن سخاوت مین وہ چیزیں نہیں ہیں جن کے بل بوتے پر معاشرہ چلے اگر بنیادی طور پر سخاوت میں قانونی پہلو اختیار کرے تو پھر وہ سخاوت نہیں ہے۔
امیر المومنین علیہ السلام نے اس کے بعد فرمایا:«فَالْعَدْلُ اَشْرَفُھُمَا وَ اَفْضَلُھُمَا»۔(۲)
لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔
انسان اور انسانی مسائل کے سلسلہ میں وہ طرز فکر ایک خاص نوعیت کی فکر ہے کہ جس کی بنیاد تحقیق پر ہے اور اس تحقیق کی بنیاد معاشرہ کی اہمیت پر ہے،نیز اس تحقیق کی بنیاد یہ ہے کہ معاشرہ کے مبادی و اصول، اخلاقی اصول اور مبادی پر مقدم ہیں ،وہ اصل ہے اور یہ فرع وہ درخت اور یہ اس کی شاخ ،وہ رکن ہے اور یہ زینت وزیور کا تنہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔نہج البلاغہ،حکمت ،۴۳۷۔
۲۔حوالہ سابق۔

 
 

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22