Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192236
Published : 24/2/2018 18:0

اسلامی اقدار سے دور؛نقشوانی سامراج کا نیا گرگہ

استعماری طاقتوں کو اپنے فتنوں کے لئے یہی کار آمد حربہ نظر آیا کہ جوانوں کا پسندیدہ دین ان کے سامنے پیش کیا جائے، یعنی دین کو لیبرل بنا کر پیش کیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اس طرح کے لیبرل طرز تفکر کے حامل افراد کا انتخاب کیا جوکہ ان کے اب ناپاک مقاصد کو مختلف حربوں سے پائے تکمیل تک پہنچا سکیں۔

ولایت پورٹل: ابھی فیس بک پر انقلابیوں اور ضد انقلاب میں ایک بحث بعنوان ٹیٹو ملّا عمار نقشوانی چیھڑی ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے دونوں اس شخصیت کے کردار اور افکار سے قطع نظر محض اس کی ذات اس کے جسم پر بنے ٹیٹو اور نامحرموں کے ساتھ بنی ہوئی چند تصایر کو زیر بحث لائے ہوئے ہیں۔ یکن میں موصوف سے ان دونوں وجوہات کی بنا پر اختلاف نہیں رکھتا بلکہ میرا اختلاف موصوف کے ان نظریات سے ہے  جو کہ ہمیں موصوف کے افکار میں نمایاں نظر آتے ہیں اور اسی سے انکی شخصیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ شخص کس طرز تفکر کا حامل ہے اسلام ناب کا یا امریکی،لندنی اور مغربی اسلام کا؟
موصوف کی حقیقت کو جاننے کے لیے اگر ہم ان کے افکار پر روشنی ڈالیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوجائیگا کہ اصل بات  ٹیوٹو اور تصویر کی نہیں بلکہ اصل بات اسلام کے اس نیو لیبرل ورجن liberal version  کی ہے کہ جس کی ترویج قم و نجف سے نہیں بلکہ مغرب Mi6  کے اسٹیج سے ہورہی ہے علاوہ ازیں یہ بھی کہ موصوف فلسطین کے مسئلے سے کنارہ کشی کی تلقین کرتے ہیں اور اساس تشیّع اور ولایت فقیہ کے مخالف بھی ہیں اور انھوں نے کئی مقامات پر نظریہ ولایت فقیہ کے خلاف تقریریں بھی کی ہیں۔
رہبر معظم نے جس مغربی تشیّع  کی طرف حالیہ عشروں میں ہماری توجہ مبزول کرائی تھی وہ یہی طرز تفکر تو ہے۔
بعض لوگ اس بات پر معترض ہیں کہ موصوف کسی طرح کی بھی مغربی، سامراجی سازش  کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ایک اچھے مبلیغ ہیں۔ پھر میرا ان سے یہ سوال ہے کہ پھر موصوف Mi6  کے عطاکردہ شیرازی گروپ کے چینلوں پر دن رات چونا بیچ رہے ہوتے ہیں؟؟ یا پھر آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ مذکورہ گروہ اپنے تمام گرگوں سمیت(حسن اللہ یاری اور یسر الحبیب) اچھا ہے؟ یا پھر یہ کہیں کہ موصوف بھی انہی کی  category سے ہیں۔
المختصر استعماری طاقتوں کو  اپنے فتنوں کے لئے یہی کار آمد حربہ نظر آیا کہ جوانوں کا پسندیدہ دین ان کے سامنے پیش کیا جائے، یعنی دین کو لیبرل بنا کر پیش کیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اس طرح کے لیبرل طرز تفکر کے حامل افراد کا انتخاب کیا جوکہ ان کے اب ناپاک مقاصد کو مختلف حربوں سے پائے تکمیل تک پہنچا سکیں۔عالمی استعمار C.i.A اور Mi6 کا مقصد تشیّع کو پوری طرح سے ایک لیبرل مکتب فکر کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ ان سامراجی قوتوں کو شام عراق اور فلسطین میں پاک سیرت بسیجیوں، انقلابیوں کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ جن کی وجہ سے گذشتہ عشروں میں ان شیطانوں کو منھ کی کھانی پڑی ہے۔ ان کی  ناک شام، عراق اور لبنان کی خاک میں ان بسیجیوں کے ہاتھوں رگڑی گئ ہے۔ میرے خیال سے اس قسم کے دین کی ترویج کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ دین کو لیبرل بناؤ تاکہ ان انقلابیوں کے قلوب سے اس پاک جزبہ جہاد کو ختم کیا جاسکے اور اس کا واحد متبادل انھوں نے لیبرل دین پایا اور بد قسمتی سے وہ اپنے اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب ہو بھی گئے ہیں۔
آج بہت سے شیعہ جوان عمار نقشوانی کو اپنے لئے رول ماڈل مانتے ہیں اور اس کے مداح ہیں۔ اور یہی طرز تفکر متجرین (لاتعلق) کی تعداد بڑھانے کا موجب بن رہا ہے چونکہ اس فتنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ بسیجیوں کی تعداد کم کرو تاکہ میدان مزاحمت و بسیج خالی  ہوجائے۔ باقی رسوماتی تشیّع، متجرانہ تشیّع سے تو انھیں کوئی خطرہ ہی نہیں بلکہ اس طرز تفکر کی ترویج کے لئے تو وہ خود پیسےخرچ کر رہے، اس طرز تفکر سے جس کی ترویج عمار نقشوانی اور اس جیسے دیگر لیبرل ملّا کررہے ہیں یہی ہوگا  کہ بسیجیوں کے مقابلہ میں لاتعلق لوگوں کی تعداد بڑھ جائیگی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے بہت سے احباب کو تشیع کا یہ نیو  ورجن لیبرل مغربی تشیع بہت پسند آرہاہے۔ وہ عمار کے تمام سازش زدہ نظریات کو فراموش کرکے ٹیٹو اور تصویروں کو زیر بحث لاکر اسے بھی حلال ثابت کرکے عمار کو اچھا مبلغ جانتے ہیں اصل بات حلال حرام کی نہیں بلکہ آپ خود ملاحظہ کیجئے کہ ایک انسان جو اپنے آپ کو مبلغ دین سمجھتا ہو کیا اس کو اس طرح کی چیزیں زیب دیتی ہیں؟
میرے خیال سے بلکہ ہر مہذب انسان کے خیال میں بلکل بھی زیب نہیں دیتا ۔۔ ہاں یہاں پر بھی نام لیبرلز کہیئن گے کچھ نہیں ہوتا حلال ہے۔
قارئین!  ضرورت بصيرت کی ہے۔ تشیّع اسلام کا عنوان ہے اسلام ناب  ہے، یاد رکھیں اس شجرہ طیبہ سے نام نہاد لیبرلیزام کا کوئی تعلق نہیں۔ دشمن ملت تشیّع کے جوانوں کو لیبرل بنانا چاہتا ہے اس مقصد کے لئے کہ تشیع فلسطین، شام و عراق کے دفاع کے ساتھ ساتھ موضوع نظریہ ولایت فقیہ کو بھی فراموش کردیں تاکہ ان سامراجی غاصبوں کو مختلف میدانوں میں بسیجیوں، انقلابیوں سے مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے آپ ان جناب کی تقریروں میں بھی بخوبی ان موضوعات (ضد ولایت فقیہ، موضوع فلسطین کی مخالفت۔۔۔لیبرل تشیع کی ترویج ۔۔۔) کو بخوبی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
المختصر یہ ایک فتننہ ہے۔ تشیّع کا لیبرل ورجن جو کہ شیعوں کو کسی صورت قبول نہیں ہونا چاہیئے تھا لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اس کی وکالت کر رہے۔
بہت افسوس ہورہا ہے ان لوگوں کی بے بصیرتی پر!
خداوند عالم ہم سب کو بصیرت کے سرمائے سے بہرمند فرمائے۔آمین
 
رائٹر: بندہ خدا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20