Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192242
Published : 24/2/2018 20:21

ایام فاطمیہ سے عبرت کا سبق

بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنہا چھوڑتے ہوئے کہا: تم اور تمہارا پروردگار فرعون اور فرعونیوں سے جاکر لڑے ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں استغاثہ کیا! پروردگار میں صرف اپنی ذات اور اپنے بھائی کا اختیار رکھتا ہوں لہذا ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان جدائی پیدا کردے۔ارشاد ہوا کہ آب ان پر چالیس سال حرام کردئیے گئے کہ یہ زمین میں چکرّ لگاتے رہیں گے لہذا تم اس فاسق قوم پر افسوس نہ کرو!

ولایت پورٹل: قارئین کرام! بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنہا چھوڑتے ہوئے کہا: تم اور تمہارا پروردگار فرعون اور فرعونیوں سے جاکر لڑے ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں استغاثہ کیا! پروردگار میں صرف اپنی ذات اور اپنے بھائی کا اختیار رکھتا ہوں لہذا ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان جدائی پیدا کردے۔ارشاد ہوا کہ آب ان پر چالیس سال حرام کردئیے گئے کہ یہ زمین میں چکرّ لگاتے رہیں گے لہذا تم اس فاسق قوم پر افسوس نہ کرو!(سوره مائده، آیات 24 تا 26)۔
سن ۱۱ ہجری میں تاریخ نے ایک پھر اپنے آپ کو دھرایا جس میں صرف علی(ع) تھے اور آپ کے ساتھ فاطمہ(س) ۔اور لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ علی آپ جائیے اور غاصبین سے لڑئیے اگر آپ کامیاب ہوگئے تو ہم آپ سے ملحق ہوجائیں گے۔
علی علیہ السلام ،حضرت صدیقہ طاہرہ(س) کو اپنے ہمراہ لیکر ہر اس گھر گئے جہاں سے مثبت جواب ملنے کی توقع تھی لیکن کوئی نصرت و ہمراہی کے لئے تیار نہ ہوا پھر آپ نے خداوند کریم کی بارگاہ میں عرض کی: خدایا! میں صرف اپنی ذات اور اپنی شریک حیات فاطمہ(س) پر اختیار رکھتا ہوں۔ نیز فاطمہ(س) نے اللہ کو گواہ بنا کر اس قوم نابکار سے ناراضگی کا اظہار کیا اور علی(ع) نے دعا کی پروردگار! تو مجھے اس قوم سے لے لے اور اسی طرح  فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: خدایا مجھے اس قوم کے درمیان سے اٹھا لے۔
اور ہوا بھی یوں ہی،راہنمایان دین یکے بعد دیگرے اس قوم سے جدا ہوتے رہے اور یہ قوم ہدایت کے منور مناروں سے محروم ہوتی گئی اور غیبت کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔چنانچہ فاسقوں اور نابکار لوگوں کی قسمت پر افسوس نہیں کرنا چاہیئے!
قارئین کرام! خداوند عالم نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفٰی (ص) اور آپ کے پاکیزہ خاندان کو رحمت بنا کر بھیجا اور انھیں حضرات کے طفیل اس امت کو امت مرحومہ کہا گیا۔
خداوند عالم نے حضرت فاطمہ(س) اس منظومہ کا مرکز بنا کر بھیجا اور آپ کی رضا کو اپنی رضا آپ کی ناراضگی کو اپنی ناراضگی قرار دیا ۔امت مرحومہ ہونے کے باوجود انھوں نے غضب فاطمہ(س) کو بھڑکایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیرت و ضلالت کے بیکراں بیابان میں یہ امت آج تک سرگراں ہے۔
جن لوگوں نے فاطمہ کو چھوڑا ان کی آنکھوں سے آپ کا مزار بھی پنہاں ہے اور جن لوگوں نے اپنے امام کو بھلا دیا وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ تو غائب ہیں وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں۔
لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ: سبھی نے فاطمہ(س) کو نہیں چھوڑا تھا بلکہ رات کی اس تاریکی میں کہ جب امت کے غافل لوگ محو خواب تھے ۷ افراد ایسے بھی تھے جن کی نگاہیں علی(ع) کے بقیع کی طرف اٹھتے ہوئے قدموں کی طرف تھیں اور بعد میں یہی وہ لوگ تھے جو فاطمہ(س) کی اصل قبر کو پہچانتے تھے۔
آج بھی سب لوگوں نے اپنے امام کو گم نہیں کیا ہے ،وہ لوگ اپنی نماز شب کے سجدوں میں ،دنوں کی شور و غل میں کہ جب لوگ اپنے امام سے غافل حیرت و گمراہی کے بیابانوں میں سرگردان رہتے ہیں اور جن پر غفلت طاری رہتی ہے لیکن یہ لوگ اپنے امام سے دور نہیں ہیں۔
قارئین کرام! جن لوگوں نے کل فاطمہ(س) کا دل دکھایا تھا ان سے رحمت اٹھا لی گئی تھی لیکن آج اگر ہم دل فاطمہ کو شاد کرنا چاہتے ہیں ۔یہی رحمت کی شاہراہ پر واپس آنے کا طریقہ ہے۔ اور حیرت و سرگرانی سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے زمانہ کے امام کو خوش کرنا ہوگا تو پھر ان کے لئے غیبت کے مہین پردے ظہور کا نظارہ پیش کریں گے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22