Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192255
Published : 25/2/2018 16:32

۷۲ عاشورائی کلام

ظاہر سی بات وہ انقلاب جس کی بنیاد ہی عاشورا اور کربلا کے حماسی مکتب پر رکھی گئی ہو اس کے نقیبوں کی زبانی جو افکار اور نظریات سامنے آتے ہیں ان میں کربلا کا وہ حماسی رنگ دوسرے ہر رنگ پر غالب نظر آتا اور وہی روح حماسی کربلا کی پہچان اور شناخت ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! محرم ،قمری سال کا پہلا مہینہ ہے جس میں غم کی ابتداء اس وقت سے ہوئی۔ جب   سن۶۰  ہجری میں کفر و باطل کے سرغنہ ابوسفیان کے پوتے، معاویہ کے بیٹے،یزید پلید نے ایمان و حق کے نمائندہ ابوطالب(ع) کے پوتے کل ایمان کے بیٹے نواسۂ رسول جگر گوشۂ بتول مصداقِ آیۂ تطہیر سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ یعنی باطل کے نمائندہ نے حق کے نمائندہ سے بیعت طلب کرلی اور نار نے نور پر اپنا تفوق جتانا چاہا تو حق کے نمائندہ اور نور کے سفیر حضرت شبیر(ع)نے باطل کے مطالبہ کو ٹھکرا کر حق کا پرچم بلند کردیا۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہونے والی احادیث و روایات میں اس محترم مہینہ سے متعلق نہایت درجہ سفارش ہوئی ہے تاکہ مسلمان، واقعۂ غدیر کی طرح نواسۂ رسول الثقلین اور آپ(ع)کے اصحاب و انصار کی عاشور کے دن ہونے والی لازوال قربانی و شہادت کو طاق نسیاں کے حوالے نہ کردیں، بنی امیہ کی شقاوت و بربریت اور ظلم وستم طشت از بام ہوتی رہے اور رہتی دنیا تک کراہتی انسانیت اور سسکتی مظلومیت، یزید پلید اور اس کے ہمنواؤں پر لعن و نفرین کرتی رہے نیز شہید نینوا کی یاد دل میں بسائے ہوئے منتقم خون حسینی(ع) کے ظہور پر نور کی منتظر رہے۔
محرم اور عاشور سے متعلق لاتعداد مضامین، مقالے، رسالے اور کتابیں منصّۂ شہود پر آچکی ہیں اور انشاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد پورے ایران میں ایام محرم و صفر میں عقیدت و مودت اورجوش و جذبہ کے ساتھ مظلوم کربلا کی عزاداری وسوگواری اور ان کی یاد کو زندہ کیا جاتا ہے۔ جگہ جگہ سبیلیں اور خیمہ گاہیں لگائیں جاتی ہیں اور امامباڑوں، حسینیوں اور مساجد میں مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں ذاکرین و واعظین اور خطباء کرام فضائل و مصائب سید الشہداء علیہ السلام بیان کرتے ہیں اور پورا ملک عزادار و سوگوار نظر آتا ہے۔
زیر نظر کتاب۷۲ عاشورائی کلام محرم و عاشور سے متعلق رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ السید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی ۲۳ برسوں کے دوران تقاریر اور بیانات کا فارسی مجموعہ ہے جس میں آپ کے چنندہ موضوعات پر منتخب بیانات کو جمع کیا گیا ہے اور ظاہر سی بات وہ انقلاب جس کی بنیاد ہی عاشورا اور کربلا کے حماسی مکتب پر رکھی گئی ہو اس کے نقیبوں کی زبانی جو افکار اور نظریات سامنے آتے ہیں ان میں کربلا کا وہ حماسی رنگ دوسرے ہر رنگ پر غالب نظر آتا اور وہی روح حماسی کربلا کی پہچان اور شناخت ہے۔
اس مجموعہ کو  مترجم  محترم مولانا سیدنذر امام نقوی صاحب نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود نہایت عرق ریزی کے بعد اردو کا قالب عطا کیا ہے تاکہ اردو داں حضرات بھی رہبر معظم کے محرم وعاشور اورسوگواری وعزاداریٔ سرکار سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سے متعلق بیانات سے مستفید ہوسکیں۔
ولایت فاؤنڈیشن دہلی سے یہ کتاب پہلی بار ہندوستان میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22