Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192257
Published : 25/2/2018 17:4

فکر قرآنی:

قرآن مجید میں کیوں میاں بیوی کو لباس سے تشبیہ دی گئی ہے؟

قرآن کریم میں جو«لباس»کی مثال دی ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ میاں بیوی کو یہ پیغام مل جائے کہ اے شوہر!اب زندگی میں سب سے زیادہ قریب ترین ہستی تمہاری بیوی ہے اور بیوی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تمہارے لئے اب زندگی میں قریب ترین ہستی تمہارا شوہر ہے۔تم دونوں «لباس» کی طرح ایک دوسرے کے جسم کے قریب ہو،جب کوئی چیز اتنی قریب ہوتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس سے انسان کو محبت ہوتی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! خداوند عالم نے اپنی کتاب ہدایت میں بہت سی تشبیہات کا تذکرہ فرمایا ہے اور انھیں میں سے ایک معروف تشبیہ یہ ہے کہ عورتیں مردوں کے لئے لباس ہیں اور مرد عورتوں کے لئے۔چنانچہ ان حقائق کو سمجھنے کے خواہاں حضرات کے ذہنوں میں قطعی طور پر یہ سوال اٹھتا ہوگا کہ کیوں خداوند عالم نے اپنی کتاب میں  !میاں بیوی کو لباس سے تشبیہ دی ہے؟
قارئین! شادی کا بنیادی مقصدگناہوں سے بچنا ہے اس طرح کہ میاں اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے میاں کے ذریعہ ارتکاب گناہ سے محفوظ رہیں اس لئے کہ ان دونوں کو زندگی کا ساتھی بھی کہتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے اطمیان و سکون کا باعث بھی۔اسی طرح خداوند عالم کی اطاعت و فرمانبرداری میں ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اتنا مضبوط  ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید نے اس تعلق کے بارے میں ایسی مثالیں دی ہیں کہ دنیا کا کوئی مذہب ایسی مثالیں پیش نہیں کر سکا۔
ارشاد رب العزت ہوتا ہے:«ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَھُنَّ»۔
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم اپنی بیویوں کا لباس ہو۔
لباس کے دو فائدے ہیں:
پہلا فائدہ لباس کا یہ ہے کہ ایک تو اس سے انسان کے بدن کے عیب چھپ جاتے ہیں۔ یعنی اگرکسی کوبے لباس لوگوں کے درمیان بھیج دیا جائے تو شرم کے مارے اس کو پسینہ آجائے اور اگر کوئی زبر دستی اسے لوگوں کے سامنے بے لباس کر دے تو جی چاہے گا کہ زمین پھٹے اور وہ اس کے اندرسماجائے ۔تو لباس کے ذریعہ انسان اپنے جسم کے اعضاء کو چھپاتا ہے  اور یہ فطری شرم وحیاء کاتقاضہ ہے۔
دوسرا فائدہ لباس کا یہ ہے کہ یہ انسان کو زینت بخشتا ہے۔ جسم تو دو چادروں سے بھی چھپ جاتا ہے مگر ہم عموماً اچھا لباس پہن کر جب چلتے ہیں تو لوگ شخصیت کو دیکھ کر متأثر ہوتے ہیں معلوم ہوا کہ کپڑوں نے انسان کی شخصیت کو زیبائش بخشی یہ لباس کا دوسرا فائدہ ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کے تعلق سے یہ دو اہم فائدے ہیں۔ بیوی نہ ہو تو خاوند اپنے جنسی تقاضوں کے پیچھے معلوم نہیں کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا پھرے اور لوگوں کے سامنے ذلت و رسوائی اٹھاتا پھرے ۔یوں میاں بیوی کی زندگی کی وجہ سے اس کی شخصیت کے عیب چھپ جاتے ہیں۔
قرآن کریم میں جو«لباس»کی مثال دی ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ میاں بیوی کو یہ پیغام مل جائے کہ اے شوہر!اب زندگی میں سب سے زیادہ قریب ترین ہستی تمہاری بیوی ہے اور بیوی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تمہارے لئے اب زندگی میں قریب ترین ہستی تمہارا شوہر ہے۔تم دونوں «لباس» کی طرح ایک دوسرے کے جسم کے قریب ہو،جب کوئی چیز اتنی قریب ہوتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس سے انسان کو محبت ہوتی ہے۔( ماخوذ از کتاب مثالی ازدواجی زندگی کے چند سنہرے اصول)۔
قرآن کریم میں شریک حیات کو«لباس»سے تشبیہ کرنے میں بہت سارے لطیف نکات پائے جاتے ہیں منجملہ:
لباس، رنگ و جنس( Quality)کے اعتبار سے انسان کے مناسب اور شایان شأن  ہونا چاہیئے اسی طرح بیوی کو بھی انسان کا «کفو» اور اس کی فکر و شخصیت کے مطابق ہوناچاہیئے۔
لباس، انسان کے لئے زینت اور آرام کا سبب ہے۔ اسی طرح بیوی اور اولاد بھی خاندان کی زینت، اور اس کے اطمینان اور آرام کا ذریعہ ہیں۔
لباس، انسان کے عیب کوچھپاتا ہے اسی طرح مرد اور عورت کو بھی ایک دوسرے کے عیوب کو چھپاناچاہیئے۔
جس طرح لباس، انسان کو گرمی اور سردی سے بچاتا ہے ،اسی طرح بیوی کا وجود،اہل خانہ اورخاندان کو ظاہری اور باطنی آفات و نقصانات سے بچاتا ہے۔
جس طرح لباس، انسان کا حریم قرار پایا ہے اور لباس سے دوری رسوائی کا سبب ہے نیز اسی طرح شادی اور بیوی سے انحراف انسان کی ذلت اور رسوائی کاسبب ہے۔
سردی کے موسم میں گرم لباس اور گرمی میں نازک لباس پہنا جاتا ہے۔اسی طرح مرد اور عورت دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے اخلاق و رفتار کو ایک دوسرے کے مزاج کے مطابق بنانا چاہیئے۔
اگر مرد غصہ میں ہے تو عورت کو اس کے ساتھ نرمی اور خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئیے اور اگر عورت خستہ حال ہے تو مرد کو پیار و محبت کے ذریعہ اس کی تیمار داری کرنی چاہیئے۔جس طرح انسان کے لئے آلودگی اور گندگی سے اپنے لباس کو محفوظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح مرد و عورت کو بھی ایک دوسرے کو گناہ کے ارتکاب سے بچاناچاہیئے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21