Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192286
Published : 26/2/2018 20:17

کیوں مستشرقین علی(ع) کے عاشق بن جاتے ہیں؟

اپنے دشمن سے نیک برتاؤ کا حسین عروج ہمیں امام علی علیہ السلام کی اپنے قاتل ابن ملجم مرادی(لعنۃ اللہ علیہ) کے بارے میں کی گئی امام حسن و حسین(ع) کو وصیت میں نظر آتا ہے چنانچہ فرمایا:میرے بیٹو! میں کل تمہارا ساتھی تھا اور آج تمہارے لئے (سراپا )عبرت ہوں اور کل کو تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گا ۔اگر میں زندہ رہا تو مجھے اپنے خون کا اختیار ہوگا ۔اور اگر مر جاؤں تو موت میری وعدہ گاہ ہے ۔اگر معاف کردوں تو یہ میرے لئے رضا الہی کا باعث ہے اور وہ تمہارے لئے بھی نیکی ہو گی۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! امام علی علیہ السلام کی زندگی میں ہمیں حکمت نظری اور سیاست عملی کے درمیان گہرا رابطہ نظر آتا ہے اور آپ کی نظر میں یہ مختصر سی دنیوی حیات اخروی زندگی کی تمہید اور اس کے لئے محل  امتحان ہے اسی وجہ سے آپ ایک حاکم اور فرمانروا کو عدالت الہیہ میں سخت جواب دینے والا قرار دیتے ہیں لہذا ہر حاکم اور فرمانروا کو اپنے چھوٹے چھوٹے سے افعال و اقدامات کو انجام دینے سے پہلے کئی بار سوچنا چاہیئے۔
امام علی علیہ السلام کی  حکومت کا زمانہ اگرچہ کہنے کو تو بہت مختصر ہے لیکن اس میں دنیائے سیاست کے لئے کتنے اہم نمونے پائے جاتے ہیں۔
امام علی علیہ السلام کی حکومت کا آغاز استبداد،نخوت اور ظلم کی نفی کے ساتھ ہوا چنانچہ آپ نے اپنے متعدد خطبوں اور اپنے والیوں کے نام لکھے بہت سے خطوط میں حکومت کے عہدیداروں کو عوام الناس کے حقوق کی رعایت کی دعوت دیتے ہوئے انھیں خودنمائی،خود غرضی،انحصار طلبی کے مہلک امراض سے بچنے کی جابجا تلقین فرمائی ہے نیز لوگوں کی لغزشوں سے درگذر کرنا،ان کے سامنے تواضع اور انکسار کرنا صرف اخلاقی نصیحتیں ہی نہیں بلکہ عہدیدار جماعت ،سپہ سالار اور سپاہیوں کو آپ کے تاکیدی احکامات تھے۔
امام علی علیہ السلام خود بھی ان تاکیدات پر سب سے زیادہ عمل کرتے تھے اور لوگوں سے فرماتے تھے: غصہ کی حالت میں اپنے دل کی بات کو مجھ سے پوشیدہ مت رکھو،مصلحت اندیشی اور تملق میں میرے پاس مت آؤ،یہ مت سوچو کہ اگر تم نے حق بات کہہ دی تو میں ناراض ہوجاؤں گا۔ لہذا آپ چاپلوسی اور تملق،تکلف اور بے جا تمجید و تجلیل کو پسند نہیں کرتے تھے اور حکومتی اشتباہات اور خطاؤں کی طرف لوگوں کا متوجہ کرنے کو لوگوں پر اپنا حق سمجھتے تھے چنانچہ فرماتے ہیں:میرے سامنے حق بیانی اور مخلصانہ مشورہ میں کبھی بخل مت کرو!
صاحبان اقتدار کے لئے علی(ع) کی سیرت کے کچھ نمونے
اپنے مخالفین اور دشمنوں سے علی کا پیش آنا خود ایک سبق آموز حقیقت ہے، آپ صرف یہی نہیں کہ اپنے دشمنوں پر اعتراض نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی طرف سے تنقید کو اپنے حق میں بہتر شمار کرتے تھے چنانچہ امام علیہ السلام مالک اشتر کو لکھے اپنے معروف خط میں تحریر فرماتے ہیں:اے مالک! تم لوگوں کے درمیان سے کسی ایسے فرد کو اپنے سے نزدیک اور قریب کرو کہ جو حق کی تلخی کو تمہیں زیادہ محسوس کروا سکے۔اور تمہاری اس عادت اور رفتار کو جسے خدا اپنے دوستوں کے لئے پسند نہیں کرتا وہ اس پر تمہاری تعریف نہ کرے۔ اگرچہ اس کام سے تمہیں نارضگی ہو اور تمہارا دل ہی کیوں نہ رنجیدہ ہوجائے۔(نہج البلاغہ،نامہ ۵۳)۔
نیز اپنے دشمن کے لئے مالک اشتر کو زیادہ تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اے مالک! اگر تمہارے اور تمہارے دشمن کے درمیان کوئی عہد ہو یا تم نے اسے پناہ دی ہے تو تم اپنے عہد پر پابند رہنا چونکہ تم نے جو عہد کیا ہے اس کی پاسداری تم ہی سے وابستہ ہے لہذا اس کے لئے سینہ سپر ہوجاؤ۔
اپنے قاتل سے کے ساتھ برتاؤ
اپنے دشمن سے نیک برتاؤ کا حسین عروج ہمیں امام علی علیہ السلام کی اپنے قاتل ابن ملجم مرادی(لعنۃ اللہ علیہ) کے بارے میں کی گئی امام حسن و حسین(ع) کو وصیت میں نظر آتا ہے چنانچہ فرمایا:میرے بیٹو! میں کل تمہارا ساتھی تھا اور آج تمہارے لئے (سراپا )عبرت ہوں اور کل کو تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گا ۔اگر میں زندہ رہا تو مجھے اپنے خون کا اختیار ہوگا ۔اور اگر مر جاؤں تو موت میری وعدہ گاہ ہے ۔اگر معاف کردوں تو یہ میرے لئے رضا الہی کا باعث ہے اور وہ تمہارے لئے بھی نیکی ہو گی ۔کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے۔(نہج البلاغہ،نامہ ۲۳)
پھر ارشاد فرمایا:اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہونے پائے کہ تم۔ امیر المؤمنین قتل ہوگئے ،امیرالمؤمنین قتل ہو گئے۔ کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا شروع کردو۔ دیکھو میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیا جائے اور دیکھو !جب میں اس ضرب سے مر جاؤں تو اس ایک ضرب کے بدلے میں ایک ہی ضرب لگانا۔ اور اس شخص کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا ، کیونکہ میں نے رسول ﷲ(ص) کو فرماتے سنا ہے کہ خبر دار کسی کے بھی ہاتھ پیر نہ کاٹو، اگرچہ وہ کاٹنے والاکتا ہی کیوں نہ ہو ۔(نہج البلاغہ،نامہ ۴۷)۔
امیرالمؤمنین(ع) کی حکومت کا سخت دور اور اسلامی اقدار کی پاسداری
اسلام عقل و منطق کا دین ہے جس میں بہتری کے لئے سوچنا اور بہتر کا انتخاب کرنے پر بہت تاکید ہوئی ہے،وعظ،جدال احسن بلکہ اپنے مخالفین اور سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی گفتگو کی نصیحت فرمائی ہے۔
اسی اصول کے تحت حضرت اپنے دشمنوں کو بھی سوچنے کا وقت دیتے تھے کبھی جنگ میں جلدی نہیں کرتے تھے،حملہ کو آخری وقت تک ٹالنے کی کوشش کرتے تھے،نیز حملہ سے پہلے بھی دشمن پر اتمام حجت کردیتے تھے،اپنے مخالفین کی لغزشوں سے درگذر کردیتے تھے ،عہد توڑنے والوں پر بھی نظر لطف فرماتے تھے اور جب جنگ تمام ہوجاتی عام معافی کا اعلان صادر کردیتے نیز کبھی جنگ سے فرار ہونے والوں کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔(ملاحظہ فرمائیں:نہج البلاغہ،خطبہ ۴۳، ۵۵ ، ۱۳۷ ،۱۵۹)۔
علی علیہ السلام صرف مسند حکومت پر ہی عدالت دوست اور عدالت پسند نہیں ہیں بلکہ آپ  جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے درمیان بھی عدالت الہی کا مظہر تام ہیں اور جہاں تک دامن عدالت میں گنجائش ہوتی ہے علی دشمن کے سامنے نرمی اور شفقت کا مظاہرہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ ایک جنگ میں حکم دیتے ہیں :درختوں کو مت کاٹو،بے گناہوں پر تلوار نہ اٹھاؤ،پینے کے پانی کو مسموم نہ بناؤ،کسی کے پانی پینے  پر پابندی نہ لگاؤ،فرار کرنے والوں کا پیچھا مت کرو،اسیروں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو،مسلمانوں کے اموال کو مال غنیمت سمجھ کر مت لوٹو۔
قارئین کرام! یہ وہ صفات اور اعلٰی اقدار ہیں جن کے سبب جو بھی علی(ع) سے آشنا ہوگا وہ آپ کا فریفتہ اور عاشق بن جائے گا یہی وجہ یورپ کے جن دانشوروں نے اسلام شناسی پر کام کیا اگرچہ ان میں اکثر اپنے مذہبی تعصب کی بنیاد پر مسلمان تو نہ ہوسکے لیکن وہ ہر جگہ علی(ع) کی عظمت،حلم شجاعت و عدل کا کلمہ ضرور پڑھتے نظر آئے ۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18