Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192302
Published : 27/2/2018 18:54

حضرت زہرا(س) کا جہیز اور آج کی رسومات

ایسا نہیں ہے کہ شہزادی کونین کا جہیز صرف آج کے زمانہ میں ہم لوگوں کو سادہ محسوس ہوتا ہو بلکہ یہ اس زمانہ کے لحاظ سے بھی بہت سادہ جہیز تھا اور ہم یہ خیال نہ کریں کہ آج ہمارے پاس بازار میں انواع و اقسام کے وسائل اور سامان فراہم ہیں بلکہ کل بھی تھے اور ہر دور میں تھے چونکہ رسول خدا(ص) کا زمانہ ابتدائے بشریت کا زمانہ تو نہیں تھا کہ اس میں زندگی کے وسائل مطلق نہ ہوں ۔
ولایت پورٹل: امیرالمؤمنین(ع) کا شادی میں خرچ ہونے والا  تمام سرمایہ اس زرہ کی قیمت تھی جسے آپ نے رسول خدا(ص) کے فرمان کے مطابق فروخت کردیا تھا۔
ایک روایت کے مطابق اس زرہ کی قیمت ۳۰ درہم جبکہ ایک روایت کے مطابق ۴۸۰ درہم اور ایک تیسری روایت کے تناظر میں ۵۰۰ درہم بتائی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ایک درہم آدھے مثال چاندی کے سکے کے برابر ہوتا تھا اب اس سے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شادی میں خرچ ہونے والی کل رقم کتنی تھی۔
چنانچہ ایک روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ کل رقم کا تیسرے حصہ کا جہیز خریدا گیا تھا اب اس سے مزید اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کائنات کے سب سے عظیم المرتبت جوڑے کا جہیز کیسا تھا۔
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے جہیز میں خریدا گئے سامان کی فہرست کو ارباب تواریخ و سیرت نے ہوبہو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے کہ جس کا مطالعہ انسان کو زہد و بندگی کے آستانے تک پہونچا دیتا ہے۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا کی جہیز کی فہرست
۱۔روئی کا بنا ایک مصری فرش
۲۔جانور کی کھال کا بنا ایک دسترخوان
۳۔ایک کھال کا بنا تکیہ جس میں کھجور کی پتیاں بھری تھیں
۴۔ایک خیبری عبا
۵۔ایک پانی کا مشکیزہ
۶۔چند  کٹورے
۷۔چند مٹی کے برتن
۸۔ایک پانی کا لوٹا
۹۔ایک ریشمی پردہ
رسول خدا(ص) اور خدیجہ(س) کی تنہا یادگار کے جہیز کی یہ مکمل فہرست ہے چنانچہ روایت میں ملتا ہے کہ جب یہ سارا سامان آمادہ کرکے رسالتمآب(ص) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگے اور آپ نے آپ نے آسمان کی طرف سر اقدس کو اٹھایا اور روتے ہوئے دعا فرمائی:اَللهُم بارِکْ لِقَوْم جُل آنِیَتِهِمُ الْخَزَفُ.
 پروردگارا! اس قوم کہ جس کے اکثر برتن مٹی کے ہیں ان کے لئے مبارک قرار دے۔
شہزادی کونین(س) کے اس تاریخی جہیز میں غور و فکر اور رسول خدا(ص) کا دعا کرنا انسان کو بہت سی چیزیں سکھاتا ہے ۔
چنانچہ پیغمبر خدا(ص) یہ دعائیہ کلمات جاری کرکے ہمیں اور آئندہ نسلوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں تجمل پرستی اور مادی کمر شکن رقابت کی کوئی جگہ نہیں ہے جس کے سبب شادی جیسا مقدس امر مشکل ساز اور دیری کا سبب بن رہا ہے اور جس کے سبب اسلامی معاشرہ کے جوانوں کا بے راہ روئی میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہے  بلکہ اسلام کا پورا نظام سادگی اور آسانی پر مبنی ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ شہزادی کونین کا جہیز صرف آج کے زمانہ میں ہم لوگوں کو سادہ محسوس ہوتا ہو بلکہ یہ اس زمانہ کے لحاظ سے بھی بہت سادہ جہیز تھا اور ہم یہ خیال نہ کریں کہ آج ہمارے پاس بازار میں انواع و اقسام کے وسائل اور سامان فراہم ہیں بلکہ کل بھی تھے اور ہر دور میں تھے چونکہ رسول خدا(ص) کا زمانہ ابتدائے بشریت کا زمانہ تو نہیں تھا کہ اس میں زندگی کے وسائل مطلق نہ ہوں ۔
بلکہ اس زمانے کے جاہل اور دنیا پرست لوگوں کے ذہنوں میں بھی مال و منال کی فراوانی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ مدینہ کی بہت سی خواتین نے شہزادی کونین(س) کو علی(ع) کی سادہ زندگی کا کئی مرتبہ طعنہ بھی دیا۔
شہزادی سلام اللہ علیہا کے جہیز کی یہ لسٹ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ آج کل جہیز کی ہوڈ اور تجملی سامان میں ہم ان چیزوں تک کو جہیز کا حصہ بنانے پر تلے رہتے ہیں کہ جو پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی شاید استعمال نہیں ہوتیں اور بلکہ ان وسائل پر بنے نقش و نگار اور کمپنی کے لیبل بھی ہمارے لئے خاص ہوتے ہیں ۔
رسول خدا(ص) اگر چاہتے تو اپنی اکلوتی بیٹی اور خدیجہ(س) کی  تنہا یادگار کو اس سے بہتر جہیز فراہم کرسکتے تھے لیکن آپ نے یہ کام نہیں کیا چونکہ اگر آپ یہ کام کرتے تو قرآن کا ابدی فرمان:«لَقَدْ کانَ لَکُمْ فی رَسُولِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»  اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھتا۔
اور اس بھی عجیب بات یہ ہے کہ بہت سے مسلمان پیغمبر خدا(ص) کی سیرت کو جانتے ہیں لیکن وہ نہایت آسانی کے ساتھ اسے نظر انداز کرکے گذر جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے ہے کہ اس طریقہ جہیز کو اس زمانے کی ضرورت اور تقاضہ کہہ کر کم اپنا پیچھا چھوڑانی کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ ان کا یہ خیال باطل اور ظن محض ہے۔(ان الظن لا یغنی عن الحق شئیاً)۔
اور کبھی کبھی تو یہ دیکھنے میں بھی آیا ہے کہ بہت سے لوگ اپنی بیٹیوں کے لاکھوں کے جہیز میں چند چیزیں تبرکاً وہ بھی رکھ دیتے ہیں جو حضرت زہرا(ص) کے جہیز میں شامل تھیں تاکہ شہزادی کی تأسی کی جاسکے اب آپ خود فکر کرسکتے ہیں کہ زرق و برق اور کوالٹی فل سامان کے ساتھ کچھ سادہ سی چیزوں کا رکھا جانا تبرک ہے یا توہین!

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18