Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192307
Published : 27/2/2018 20:21

قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے: آیت اللہ مکارم

آیت اللہ مکارم شیرازی نے اسلامی انقلاب کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب اسلامی سے پہلے اس ملک میں حفظ قرآن کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی لیکن اللہ فضل سے آج خود اس مجمع میں ہزاروں حفاظ قرآن موجود ہیں کہ جن کا سونا جاگنا سب قرآن کے ساتھ ہے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! گذشتہ جمعہ میں عصر کے وقت ایران کے مشہور شہر قم المقدسہ میں علامہ طباطبائی(رح) کے گھر کے اندر تأسیس شدہ دار القرآن امام علی(ع) میں  ۱۱واں قرآنی مقابلہ منعقد ہوا جس میں قرآن مجید سے مربوط فنون میں مہارت رکھنے والے صاحبان فن نے شرکت کی۔
اس قرآنی مقابلہ کے مہمان خصوصی مفسر قرآن مرجع عالی شان حضرت آیت اللہ العظمٰی ناصر مکارم شیرازی(مد ظلہ) تھے۔
موصوف نے اس مقابلہ میں شرکاء سے چند نصیحتیں فرمائیں جن کا خلاصہ ہم ذیل میں بیان کررہے ہیں۔
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے سب سے پہلے تو اس قرآنی مقابلہ کے منعقد کرنے والوں اور اس میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے لوگ اس ملک میں قرآن مجید کو بس ثواب کی نیت سے پڑھتے تھے جبکہ قرآن مجید صرف ثواب دینے کے لئے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالٰی نے اس کتاب کو کتاب زندگی بنا کر نازل کیا،ثواب تو قرآن پڑھ کر ہی نہیں قرآن پر نظر ڈال کر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اللہ کی مطلوب نظر زندگی صرف قرآن کو دیکھنے یا اسے چومنے سے نہیں بلکہ اسے پڑھ کر عمل کرنے ہی سے میسر آسکتی ہے۔
انھوں نے اسلامی انقلاب کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب اسلامی سے پہلے اس ملک میں حفظ قرآن کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی لیکن اللہ فضل سے آج خود اس مجمع میں ہزاروں حفاظ قرآن موجود ہیں کہ جن کا سونا جاگنا سب قرآن کے ساتھ ہے۔
اس ملک میں قرآن مجید کی محافلوں کا جگہ جگہ پر انعقاد یہ اللہ کا کرم ہے اور ہم سے شکر کا مطالبہ بھی نیز قرآنی فنون کا فروغ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انقلاب قرآنی انقلاب ہے۔
معروف مفسر قرآن نے فرمایا: قرآن مجید میں ۱۱۴ سورے ہیں اور ہر ایک کا نام الگ ہے یہ امر ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہم ہر ایک پر توجہ کریں۔
انہوں نے قرآن کے سوروں کے الگ الگ ناموں کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کے عجائب محیر العقول ہیں اور اس کے پیغام کبھی پرانے نہیں ہوسکتے لہذا ہمیں قرآن کے ہر سورہ کو بغور پڑھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ یہی قرآن کے نزول کا فلسفہ ہے۔اور یہی قرآن میں موجودہ سورہ کو ۱۱۴ جگہ تقسیم کرنے کا راز ہے ورنہ اگر ان میں کوئی راز اور حکمت نہ ہوتی تو اس کے عناوین جدا اور الگ نہ ہوتے بلکہ پورا قرآن ایک ایسے متن کی صورت موجود ہوتا جو بسم اللہ سے شروع ہوکر والناس پر ختم ہوجاتا۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18