Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192319
Published : 28/2/2018 17:29

شام کے نام پر وائرل ہونے والی تصاویر کا سچ،جانیئے کہاں کی ہیں یہ تصویریں

آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ شام کے مسئلہ میں آج کل میڈیا الگ ایجنڈے پر کام کررہا ہے اور اسی لئے کئی دن سے مسلسل افواہیں اور فرضی تصویریں کا استعمال کر اسد کو ایک خطرناک ڈکٹیٹر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ رائے عامہ کے میدان کو استعمار کی خدمت کے لئے ہموار کیا جاسکے۔
ولایت پورٹل: آج کل شام میں حقوق بشر یعنی ہیومن رائٹس واچ کے لئے سوشل میڈیا پر ایک زبردست تحریک چل رہی ہے جس میں خون سے لت پت معصوم بچوں ،تباہ حال عمارتوں ،ویران مساجد اور خواتین کے حق میں زیادتی وغیرہ کے ساتھ کارٹون یا گرافک کی تصاویر اور ویڈیو بنا کر وہاٹس ایپ اور فیس بوک وغیرہ پر کثرت کے ساتھ شائع کی جارہی ہیں۔
دیکھنے میں ایسی پوسٹیں انسانیت اور شامی عوام کی حمایت اور تحفظ کے جذبہ  سے سرشار لگتی ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک شیطانی اور سامراجی سیاست کا حصہ ہیں اور اس کے ذریعہ شامی عوام کی حمایت نہیں بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمنوں اور استعماری طاقتوں کے پیروپگنڈہ مشینری کی مدد کی جارہی ہے چونکہ استعماری طاقتوں کا کا درپردہ مقصد ایران شام اور حزب اللہ نیز دیگر مقاومتی لشکر پر بین الاقوامی دباؤ بنا کر انھیں دہشتگردوں کے صفائے سے روکنا اور دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرکے کسی نئے محاذ پر منتقل کرنا ہے۔
یقیناً شام میں مسلسل پانچ برس تک انسانوں کا خون پانی سے بھی سستا تھا اور جب داعشی درندوں نے اپنے آقاؤں کے نمک کا حق ادا کرتے ہوئے اس سرزمین پر وہ سب کام کئے جن سے قیامت تک انسانیت شرمندہ ہوتی رہے گی لیکن اب تو شام کا ۹۲ فیصد سے بھی زیادہ علاقہ شامی فوج کے زیر نظارت ہے اور امریکہ اپنے داعشی گرگوں کو کسی اور محاذ پر لگانے کے لئے ہر روز دہشتگردوں کے خلاف نام نہاد اتحاد کا بہانہ بنا کر عام لوگوں پر بم برسا رہا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دہشتگردوں نے شام کا بہت نقصان کیا چونکہ وہ تو تھے ہی اس ملک کے  جانی دشمن! لیکن امریکہ نے بھی بنام حمایت، کم مظالم نہیں ڈھائے بلکہ امریکی اتحاد کے حملوں میں مرنے والے شامی عوام کی کل تعداد 7000 سے  بھی زیادہ بتلائی جاتی ہے ۔اب آئیے ان تصاویر کا سچ جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
۱۔ پہلی تصویر جو سب سے زیادہ دل دکھا دینے والی ہے وہ شام کی نہیں بلکہ فلسطین کی ہے اور یہ تصویر اس وقت کی ہے جب اسرائیل نے فلسطین پر جم کر بمباری کی تھی 3 برس پہلے لکھے اس بلاگ میں آپ اس تصویر کو دیکھ سکتے ہیں۔
۲۔اس مجموعہ کی دوسری تصویر اس وقت پہلی بار وائرل ہونا شروع ہوئی تھی جب شامی فوج حلب سے دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں مشغول تھی اور 2016 کے لکھے گئے ایک آرٹیکل میں اس تصویر کو دیکھا جاسکتا ہے۔
۳۔تیسری تصویر عراق کی ہے جو رائٹر کے فوٹو گرافر نے لی ہے اس تصویر میں ایک شخص روتا ہوا عراقی فوج کی طرف دوڑ رہا ہے اور یہ تصویر اس وقت کی ہے جب عراقی فوج نے داعش کے اہم مرکز موصل پر حملہ کیا تھا۔
۴۔ جبکہ چوتھی تصویر جو نئی ہے یہ صرف شام کی ہے  مگر اس بارے میں قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ امریکی حملے کا نتیجہ ہے یا عفرین کے علاقہ میں چل رہے ترکی آپریشن کی دین۔
آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ شام کے مسئلہ میں آج کل میڈیا الگ ایجنڈے پر کام کررہا ہے اور اسی لئے کئی دن سے مسلسل افواہیں اور فرضی تصویریں کا استعمال کر اسد کو ایک خطرناک ڈکٹیٹر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ رائے عامہ کے میدان کو استعمار کی خدمت کے لئے ہموار کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ جن لوگوں کو حقیقت حال کا علم نہیں ہوتا وہ اسطرح کی افواہوں سے زیادہ متأثر ہوکر بنا سوچے سمجھے تنقید کرنے لگتے ہیں ۔ جیسا  کہ ہم نے مذکورہ بالا تصاویر کی حقیقت آپ کے سامنے بیان کی کہ جنہیں آج کل بنام شام پیش کیا جارہا ہے کیونکہ امریکہ آج کل شام میں بچے کھچے دہشتگردوں کو افغانستان منتقل کرنا چاہ رہا ہے تاکہ وہ اس ملک کے مزید سرمائے کو لوٹنے کا جواز فراہم کرتا رہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اسے یہ کام کرنے کے لئے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18