Tuesday - 2018 Sep 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192325
Published : 28/2/2018 20:27

فدک فاطمہ(س) کی نظر میں باغ اور زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ کفر و ایمان کا مسئلہ تھا: شہید صدر

فدک ایک سمبل ہے کہ جو ایک بلند مقصد کی طرف اشارہ کررہا ہے اور اس سے مراد فقط زمین کا وہ ٹکڑا نہیں ہے جو حجاز میں ہے بلکہ فدک کا سنبل اور علامتی رخ یہ ہے کہ وہ محاذ جو بی بی دو عالم نے ایک چھوٹی سی عدالت سے ایک محدود افق اور تنگ دائرہ میں قائم کیا تھا اسے آج وہ تاریخ کا اتنے وسیع اور آفاقی انقلاب میں تبدیل ہوگیا ہے کہ جس کا دائرہ اس پورے عالم کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے۔


ولایت پورٹل: قارئین کرام! فدک تاریخ کا ایسا مسئلہ ہے کہ جب بھی یہ نام سماعت سے ٹکراتا ہے تو ذہن میں ایک عظیم المرتبت باپ کی عظیم بیٹی کے اس حق کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جو کسی دوسروں کے ذریعہ نہیں بلکہ خود باپ کی امت کے ہاتھوں پامال ہوگیا۔
ویسے تو اس موضوع پر نہ جانے کتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن شہید صدر(رح) کی کتاب«فدک فی التاریخ» اپنی نوعیت کی ایک الگ تحقیق ہے جس میں آپ نے اس مسئلہ کو کسی حساسیت اور مذہبی تعصب کے بغیر منصفانہ انداز میں تقریبی زاویہ نگاہ سے پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں شہید تاریخی اور فقہی منابع کے ساتھ عقل و منطق کے محکم اصولوں سے استناد کرتے ہوئے اس  موضوع کی تحقیق کی ہے۔ چنانچہ اس کتاب کے کچھ اہم مطالب پیش خدمت ہے:
اگر کوئی شخص فدک کے مسئلہ اور ان متعدد حادثات کو عبرت کی نظر سے دیکھے تو اس میں غصب شدہ ایک زمین کا ماجرا نظر نہیں آتا بلکہ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس ماجرے میں ایک انقلاب کی جڑیں دکھائی دیتی ہیں جس میں غصب شدہ طاقت اور ہاتھ سے جانے والی فرمانروائی اور امت کو اس کی اصلی راہ ہدایت پر واپس لانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے۔
اس بنیاد پر فدک ایک سمبل ہے کہ جو ایک بلند مقصد کی طرف اشارہ کررہا ہے اور اس سے مراد فقط زمین کا وہ ٹکڑا نہیں ہے جو حجاز میں ہے بلکہ فدک کا سنبل اور علامتی رخ یہ ہے کہ وہ محاذ جو بی بی دو عالم نے ایک چھوٹی سی عدالت سے ایک محدود افق اور تنگ دائرہ میں قائم کیا تھا اسے  آج وہ تاریخ کا اتنے وسیع اور آفاقی انقلاب میں تبدیل ہوگیا ہے کہ  جس کا دائرہ اس پورے عالم کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے۔
آپ جب ایک موضوع سے متعلق تاریخی شواہد کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو کیا مالی اختلاف کبھی اتنی عظیم تحریک میں تبدیل ہوسکتا ہے؟
نہیں ہرگز نہیں؟
یہ اپنے حق کا مطالبہ در حقیقت حکومت وقت کے خلاف ایک قیام کی بنیاد تھا ایک ایسی فریاد تھی جسے حضرت فاطمہ(س) نے بلند کی جس کے سبب سقیفہ کی عمارت کے پتھر خود بخود گرتے ہوئے نظر آنے لگے۔
یہ مطالبہ حق حکومت مخالف پالیسی کے تئیں انقلاب ہے اور اس کی سب سے عظیم دلیل شہزادی سلام اللہ کا وہ خطبہ ہے جسے آپ نے مہاجرین اور انصار کے سامنے مسجد میں صادر فرمایا۔
اور اگر آپ اس خطبہ پر غور فرمائیں  تو سب سے زیادہ اس میں علی علیہ السلام کی مدح اور اسلام کے لئے آپ کی قربانیوں کا تذکرہ اور اللہ کی طرف سے علی(ع) کا انتخاب اور اسلام میں اہل بیت(ع) کے حق کے اثبات کی مکمل داستان ہے پس آپ نے اس خطبہ میں زمین پر اللہ کی حقیقی حجتوں اور وارثوں کا تعارف کروانے کے ساتھ ساتھ خود ساختہ جانشین کی قلعی کو بھی دوسروں کے سامنے کھول کررکھ دیا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 18