Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192346
Published : 1/3/2018 20:2

اسلامی دنیا میں غلو کا ظہور اور اس کی علامتیں

شیخ مفید(رح) نے غالیوں کے بارے میں یہ تحریر کیا ہے: یہ بظاہر اسلام کے دعوے دار کچھ لوگ ہیں جو حضرت امیر المؤمنین(ع)، آئمہ(ع) یا آپ کی ذریت میں دیگر آئمہ کی خدائی اور نبوت کے قائل ہوگئے ہیں، یہ گمراہ اور کافر ہیں، امیر المؤمنین(ع) نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور دوسرے آئمہ طاہرین(ع) نے بھی ان کو کافر اور دین سے خارج قرار دیا ہے۔
ولایت پورٹل:اسلامی عقائد کے درمیان دوسرے انحرافات کی طرح غلو کا عقیدہ بھی سامنے آیا جو غالیوں کی بدعت ہے یہ وہ لوگ ہیں جو رسول اکرم(ص) حضرت علی(ع) یا آئمہ طاہرین(ع) یا دوسرے حضرات کے بارے میں الوہیت کے قائل ہوئے یا ان حضرات میں خدا حلول کرنے  یا خدا ساتھ اتحاد کے قائل ہوگئے ایک ہی ہیں، تاریخی اسناد کے مطابق دنیائے اسلام میں سب سے زیادہ غلو حضرت علی(ع) کے بارے میں کیا گیا ہے۔
شیخ مفید(رح) نے غالیوں کے بارے میں یہ تحریر کیا ہے : یہ بظاہر اسلام کے دعوے دار کچھ لوگ ہیں جو حضرت امیر المؤمنین(ع)، آئمہ(ع) یا آپ کی ذریت میں دیگر آئمہ کی خدائی اور نبوت کے قائل ہوگئے ہیں، یہ گمراہ اور کافر ہیں، امیر المؤمنین(ع) نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور دوسرے آئمہ طاہرین(ع) نے بھی ان کو کافر اور دین سے خارج قرار دیا ہے۔(۱)  
عبد القاہر بغدادی نے اپنی کتاب«الفرق بین الفرق» کے چوتھے باب میں صرف ان ہی فرقوں کا تذکرہ کیا ہے:جو فرقے بظاہر اسلام سے منسوب ہیں لیکن انہیں اسلامی فرقوں میں شمار نہیں کیا جاتا ہے  ان کی تعداد بیس( ۲۰ ) ہے اس کے بعد انہوں نے ان تمام فرقوں کے نام ذکر کئے ہیں جو سب غالی ہیں۔(۲)
اسفرائینی نے بھی اپنی کتاب«التبصیر فی الدین میں ایک مستقل باب میں ان فرقوں کا تذکرہ کیا ہے جو بظاہر مسلمان کہے جاتے ہیں مگر در حقیقت وہ مسلمان نہیں ہیں، ان فرقوں میں انہوں نے غالی فرقوں کے نام درج کئے ہیں۔(۳)
غلو کی علامتیں
غلو کرنے والوں کے کچھ عقیدے تو وہ وہی ہیں جو اسلامی مذاہب کے عقائد ہیں لیکن ان کے کچھ خاص عقائد بھی ہیں جو غلو کی علامت ہیں جیسے :
۱ ۔ پیغمبر اکرم(ص) امیر المؤمنین یا دیگر آئمہ طاہرین(ع) یا کسی اور کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ۔
۲ ۔ یہ عقیدہ کہ کائنات کا نظام رسول اکرم(ص)،امیر المؤمنین(ع) یا دوسرے آئمہ طاہرین(ع) کے سپرد کردیا گیا ہے۔
۳ ۔ امیر المؤمنین(ع)،آئمہ طاہرین(ع) یا کسی اور مسلمان کی نبوت کا عقیدہ ۔
۴ ۔ الہٰام اور وحی کے بغیر کسی کے بارے میں علم غیب کا عقیدہ۔
۵ ۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ آئمہ طاہرین(ع) کی معرفت اور محبت کے ذریعہ انسان خداوند عالم کی اطاعت و بندگی اور اس کے فرائض سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ (۴)
چنانچہ شیخ مفید نے غلو کی علامتوں کے بارے میں فرمائے ہیں:
غلو کی پہچان کے لئے یہی کافی ہے کہ کوئی شخص معصومین(ع) کے بارے میں حادث ہونے کی نفی کردے اور ان کی الوہیت یا قدیم ہونے کا قائل ہوجائے انہوں نے مفوضہ اور غالیوں کا یہ فرق بیان کیا ہے :
مفوضہ غالیوں کا ہی ایک ٹولا ہے لیکن غالیوں اور ان کے درمیان یہ فرق ہے کہ یہ آئمہ(ع) کو حادث اور مخلوق سمجھتے ہیں ، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خداوند عالم نے ان کو پیدا کرنے کے بعد کائنات کی تدبیر کا نظام ان کے حوالہ کردیا ہے۔(۵) 
...................................................................................................................................................................
 حوالہ جات:
۱۔ تصحیح الاعتقاد، ص ۱۰۹۔
۲۔ الفرق بین الفرق، ص ۲۳۰ ۔ ۳۳۲۔
۳۔التبصیر فی الدین، ص ۱۲۳ ۔ ۱۴۷ ۔
۴۔بحار الانوار، ج ۲۵ ،ص ۳۴۶ ۔
۵۔تصحیح الاعتقاد ،ص ۱۰۹  ۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22