Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192717
Published : 19/3/2018 18:32

فکر قرآنی:

اصحاب کہف(2)

اہل بیت علیہ السلام سے مروی بہت سی روایات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی تمنا صرف حضرت حجت(عج) کی الہی حکومت میں ہی پوری ہوسکتی ہے لہذا ان کی روحوں کو قبض کرلیا گیا لیکن جب حضرت ظہور فرمائیں گے تو جو مؤمنین رجعت کریں گے ان میں یہ 7 لوگ(اصحاب کہف) بھی ہونگے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اس سلسلہ کی پہلی کڑی میں ایمان کے ان روشن مناروں کی زندگی اور طاغوت سے اللہ کی پناہ میں چلے جانے کی مختصر داستان بیان کی تھی اور ہماری بات یہاں تک پہونچی تھی کہ چرواہے نے ان سے کہا آپ لوگ چلئے میں کچھ دیر میں آپ سے ملحق ہوجاؤں گا ۔اس دلچسپ واقعہ کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
اصحاب کہف(1)
گذشتہ سے پیوستہ: وہ لوگ کچھ دیر چرواہے کے انتظار میں ایک مقررہ جگہ پر ٹہر گئے اور چرواہا لوگوں کی بھیڑ بکریوں کو ان کے سپرد کر واپس آگیا لیکن اس کے ساتھ اس کا کتا بھی تھا۔
ان لوگوں نے سوچا اگر وہ کتے کو اپنے ساتھ لے جائیں تو اس کی آواز کہیں ان کا راز ہی فاش نہ کردے لہذا انھوں نے کتے کو بھگانے کی لاکھ کوشش کی لیکن وہ ان سے دور نہ ہوا آخر کار قدرت خدا سے اسے زبان ملی اور اس طرح گویا ہوا : مجھے اپنے سے دور مت کیجئے! ہوسکتا ہے کہ میں اس راستہ میں دشمنوں سے آپ کی حفاظت کروں۔
اب کتے سے توجہ ہٹا کر وہ لوگ اپنا راستہ طئے کرنے لگے یہاں تک کہ رات کی تاریکی پھیلنے لگی اب وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھے چنانچہ ان لوگوں نے رات کو اسی غار میں ٹہرنے کا ارادہ کرلیا۔
انھوں نے غار کے کنارے پانے کے بہتے ہوئے چشمے اور پھلوں سے لدے درخت دیکھے لہذا بھوک کے سبب کچھ پھل کھائے اور پانی پیا اور آرام کرنے کے لئے غار کے اندر چلے گئے نیز کتا بھی اپنے اگلے دونوں پیر پھیلا کر غار کے دہانے پر بیٹھ ان کی حفاظت کرنے لگا۔
یہ لوگ سوئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالٰی نے موت کے فرشتہ کو حکم دیا کہ وہ ان کی روحوں کو قبض کرلے لہذا ان پر ایک طویل نیند کہ جو موت کی مانند تھی طاری ہوگئی۔
اصحاب کہف پر دقیانوس کا برہم ہونا
دقیانوس جب عید کی تقریب سے واپس شہر آیا اور اسے اپنے وزیروں کے فرار ہونے کی اطلاع ملی تو اسے بہت غصہ آیا لہذا اس نے 80 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیکر فراریوں کے تلاش میں بھیج دیا چنانچہ دقیانوسی فوج انھیں تو نہ پاسکی لیکن ان کے نشان قدم کے سہارے پہاڑ کی چوٹی تک پہونچ گئی جب وہ غار کی اندر پہونچے تو انھوں نے دیکھا  کہ سب  لوگ بے جان پڑے ہیں لہذا انھوں نے اس حادثے کی اطلاع دقیانوس کو پہونچائی۔
دقیانوس نے کہا: اگر میں ان کو سزا بھی دیتا  تو اس سے بڑی سزا(یعنی موت)اور کیا دے سکتا تھا لہذا معماروں کو بلوا کر چونے اور پتھر سے اس غار کو ہی ان کی قبر بنا دیا جائے۔
دقیانوس کے اس حکم پر عمل کیا گیا اور جب غار کے دہانے کو مضبوط پتھروں سے بند کردیا گیا تو  دقیانوس نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: کہ اب تم لوگ اپنے خدا سے کہو! کہ وہ تمہیں اس قبر سے نجات دیدے۔
 309 برس کی نیند کے بعد بیدار ہونا
اصحاب کہف کو سوئے ہوئے اب 309 برس گذر چکے تھے اور اس دوران دقیانوس اور اس کی حکومت بھی ختم ہوگئی تھی غرض! تمام شہر تبدیل ہوچکا تھا۔
اب اللہ نے اپنے ان مؤمن بندوں(اصحاب کہف) کو اس طویل خواب سے بیدار کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ اٹھ بیٹھے۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے سے اپنے سونے کی مدت کے بارے میں سوال کیاانھوں نے آسمان کی طرف سوج کو دیکھتے ہوئے کہا: شاید ہم لوگ پورے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ  سوئے ہیں۔
اصحاب کہف اب شدت کےساتھ بھوک کا احساس کررہے تھے لہذا انھوں نے ایک شخص کو مامور کیا کہ وہ مخفی طور پر شہر میں جاکر سب کے لئے کھانے کا بندوسبست کرے چنانچہ ان میں سے ایک نے چرواہے کا لباس پہنا اور غار سے باہر نکل آیا لیکن اس نے باہر کے سارے حالات بدلے بدلے دیکھے غار کے کنارے وہ بہتا ہوا چشمہ اور پھلدار درختوں کا بھی کچھ پتہ نہیں تھا اب اسی حیرت و استعجاب میں غرق یہ شخص شہر میں آیا لیکن اسے وہاں کے باشندوں کی زبان بھی اچھی طرح سمجھ نہیں آئی لیکن جب لوگوں نے اس کی حالت اور اس کے پاس پیسوں(کرنسی) کو دیکھا تو اس سے پوچھا : تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟
اس شخص نے اپنا اور اپنے دوستوں کا سارا حال کہہ سنایا چنانچہ جب یہ خبر بادشاہ تک پہونچی کہ جو ایک موحد شخص تھا اس نے اطمئنان حاصل کرنے کے بعد اس کا بہت احترام و اکرام کیا اور پورا شہر اصحاب کہف کے دیدار اور انھیں شہر میں لانے کے لئے غار کی طرف چل پڑے۔ جب اصحاب کہف نے لوگوں کی فریاد اور خوشیوں کی آوازوں کو سنا تو دل میں یہ گمان پیدا ہوا کہ شاید دقیانوس کے سپاہی ہماری پناہ گاہ سے مطلع ہوکر ہمیں گرفتار کرنے آرہے ہیں لیکن جب ان کے اس ساتھی نے آکر شہر کے حالات اور وہاں کے لوگوں کے رویہ کے بارے میں بتایا سب کی آنکھوں سے شوق اور خوشی کے چشمے ابلنے لگے۔
اب انھیں سوئے ہوئے بہت عرصہ ہوچکا تھا اب ان کے اہل خانہ بھی اس دنیا میں نہیں رہے تھے اور ان کی آرزو یہ تھی کہ زمین پر صرف اللہ کا ذکر ہو لہذا انھوں نے خدا کی بارگاہ میں دعا کی پروردگار! ہمیں ہمارے پہلی حالت(نیند) کی طرف لوٹا دے چنانچہ ان کی دعا قبول ہوئی ان کی روح قبض کر لی گئی اور بادشاہ کے حکم  پر غار کے دہانے کو بند کر نزدیک ہی میں ایک  عبادت گاہ تعمیر کردی گئی۔
قارئین کرام! یہ تھی اصحاب کہف کی مختصر داستان کہ جنہوں نے  اللہ کے لئے اپنا مقام ،منصب دنیا کی ہر خوشی کو چھوڑ دیا تھا اور ان کی تمنا صرف یہ تھی کہ زمین پر فقط اللہ کا نام لیا جائے اور صرف اسی کی عبادت ہو اسی لئے انھوں نے اللہ سے اپنی موت مانگ لی۔
اہل بیت علیہ السلام سے مروی بہت سی روایات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی تمنا صرف حضرت حجت(عج) کی الہی حکومت میں ہی پوری ہوسکتی ہے لہذا ان کی روحوں کو قبض کرلیا گیا لیکن جب حضرت ظہور فرمائیں گے تو جو مؤمنین رجعت کریں گے ان میں یہ 7 لوگ(اصحاب کہف) بھی ہونگے۔(رجوع کیجئے: الميزان، ج 13، ص 310 - تفسير برهان، ج 2، ص 41 - تفسير صافي، ج 3، ص 238 - تفسير عياشي، ج 2، ص 32 - نورالثقلين، ج 2، ص 85 - و ارشاد مفيد، ص 365 - بحارالانوار، ج 53، ص 91 )۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15