Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192763
Published : 25/3/2018 16:39

مثالی والدین

اظہار محبت کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ بچے کو آغوش میں لے لیا جائے یا الفاظ کے ذریعہ اس سے محبت کا اظہار کردیا جائے بلکہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو ساتھ اس طرح پیش آئیں کہ ان میں خود اعتمادی پروان چڑھے چونکہ بہت سے والدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنے سے عاجز ہوتے ہیں اور ان میں ایسی تربیت کرنے کی لیاقت نہیں پائی جاتی۔

ولایت پورٹل: اللہ تعالٰی کے صفات ثبوتیہ میں سے دو اہم صفات اس کا خالق اور رب ہونا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی کی یہ دو عظیم صفات انسان کے باب میں ماں اور باپ کے ذریعہ ظہور پاتے ہیں چونکہ انھیں دونوں کی وجہ سے اسے یہ حیات ظاہری اور اسے بچپن میں رشد اور تربیت ملتی ہے۔
اور ان دونوں میں بھی ماں کا کردار تربیتی حوالہ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے چنانچہ قرآن مجید نے ماں کے متعلق تین چیزوں اور ذمہ داریوں کا تذکرہ فرمایا ہے: و وصينا الانسان بوالديه احسانا حملته امه كرها و وضعته كرها و حمله و فصاله ثلاثون شهراً۔(سورہ احقاف:۱۵) اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے زحمت کے ساتھ اسے پیٹ میں رکھا اور زحمت کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانا یہ سب تیس مہینوں میں ہوا۔
اس آئیہ کریمہ میں ماں کے تین اہم کاموں کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو  وہ اپنی اولاد کے لئے انجام دیتی ہے:
ا۔حاملگی
۲۔ولادت۔
حضانت اور دودھ پلانا۔
اور خداوند عالم کی یہ یاد آوری بھی اہمیت کے قابل ہے کہ خداوند عالم نے ماں کے سلسلہ میں زیادہ احسان کی تاکید فرمائی ہے جیسا کہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی یہ امر بالکل واضح ہے۔
مثالی والدین کے صفات
اب ہم مثالی والدین کے خصوصیات بیان کررہے ہیں البتہ واضح سی بات ہے جب ہم مثالی والدین کہہ رہے ہیں تو ہماری مراد ان ذمہ دارایوں اور فرائض کی ادائیگی ہے جو اولاد کے تئیں ان پر عائد ہوتے ہیں۔
۱۔بچے کی عاطفی ضرورتوں کی تکمیل
محبت اور عطوفت کا اظہار بچے کی شخصیت کے سنورنے میں اہم ہوتا ہے اگرچہ قدیم زمانہ میں عام لوگ بچوں کی تربیت میں اظہار محبت کے ساتھ ساتھ تنبیہ اور غصہ کو بھی ضروری شمار کرتے تھے اور کامیاب والدین وہ ہوتے تھے کہ جن کے بچے ان سے زیادہ ڈرتے اور خوف کھاتے ہوں لیکن آج یہ مسئلہ بالکل تبدیل ہوچکا ہے  اور تعلیم و تربیت کے ماہرین آج اس چیز کے معتقد ہیں کہ کوئی بھی چیز محبت اور نوازش کی جگہ نہیں لے سکتی۔اور کامیاب والدین وہ ہوتے ہیں جو اپنی محبت و عطوفت کو اپنے بچوں کی چھپی صلاحیتیں نکھارنے اور پروان چڑھانے میں کام لاتے ہیں۔
چونکہ جب بچہ اپنے والدین کی آغوش محبت میں ہوتا ہے تو  اسے دوستی اور محبت کے اصول ان سے سیکھنے کو ملتے ہیں اور جس بچے کو اپنے والدین سے محبت کی سوغات ملی ہو وہ کبھی کسی سے  کینہ حسد نہیں رکھتا۔
نیز یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اظہار محبت کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ بچے کو آغوش میں لے لیا جائے یا الفاظ کے ذریعہ اس سے محبت کا اظہار کردیا جائے بلکہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو ساتھ اس طرح پیش آئیں کہ ان میں خود اعتمادی پروان چڑھے چونکہ بہت سے والدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنے سے عاجز ہوتے ہیں اور ان میں ایسی تربیت کرنے کی لیاقت نہیں پائی جاتی۔
۲: بچوں کے درمیان عادلانہ رویہ
بعض مائیں یا باپ کبھی بغیر کسی ضروری وجہ کے اپنے بعض بچوں کو دوسرے بچوں پر ترجیح دیتے ہیں  اور خاص طور پر یہ عادت اس وقت ایک آفت کا روپ دھار لیتی ہے کہ جب کسی ایک بچے کے چکر میں دوسرا محبت سے ہی محروم ہوجائے ۔یا جب دو بھائی بہنوں میں نزاع ہوتو  طرفداری ایک کی ہی لی جائے چاہے وہ غلطی پر ہی کیوں نہ ہو اور عام طور پر بڑے بچوں کو یہ کہہ کر محروم کردیا جاتا ہے کہ تم بڑے ہو!لہذا بہترین والدین وہی ہیں جو دونوں کے درمیان انصاف کریں چنانچہ ایک روایت میں ملتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے دیکھا ایک شخص کے دو بیٹے ہیں اور وہ ان میں سے صرف ایک کا بوسہ لے رہا ہے آپ نے فرمایا:فهلا ساويت بينهما۔ تم ان دونوں کے درمیان مساوات کی رعایت کیوں نہیں کرتے۔(مكارم الاخلاق, موسسه اعلمى, تهران, ص220)
نیز ایک اور حدیث میں نقل ہوا ہے کہ سرکار(ص) نے فرمایا: اعدلوا بين اولادكم كما تحبون إن يعدلوا بينكم فى البر و اللطف. تم اپنی اولاد کے ساتھ اسی طرح مساوات کا خیال رکھو جس طرح اپنے لئے پسند کرتے ہو کہ وہ تم سے عادلانہ برتاؤ کریں۔(كارم الاخلاق, موسسه اعلمى, تهران, ص220)۔

جاری ہے۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18