Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192769
Published : 25/3/2018 18:23

امام علی نقی(ع) اور شیعوں کی فکری و ثقافتی تربیت

امام علی نقی علیہ السلام نے الہی تدبیر اور حکمت کے ذریعہ ایسے شاگردوں کو پروان چڑھایا کہ جن کے نشان قدم آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں جنہوں نے تہذیب اور افکار اہل بیت(ع) کی اشاعت میں اپنی جانوں تک کو نچھاور کردیا۔

ولایت پورٹل: یوں تو حضرت امام  علی نقی علیہ السلام  کی زندگی بہت ہی مشکلات میں گذری لیکن آپ نے اپنی حکیمانہ تدبیر اور قیادت کے ذریعہ معارف اہل بیت(ع) کی نشر و اشاعت میں کوئی لمحہ فروگذشت نہیں کیا بلکہ آپ نے مشکلات کو فرصتوں میں تبدیل کر حقانیت تشیع کو ثابت کرنے کے لئے  جو اہم اقدامات کئے انھوں دو عناوین میں بطور خلاصہ بیان کیا جاسکتا ہے:
۱۔مخالفین کے شبہوں کے جوابات
امام علی نقی(ع) کو اپنے زمانے کے متعدد خلفاء کے دربار میں موجود علماء سے مسلسل سامنا رہتا تھا جس میں وہ طرح طرح کے شبہات ایجاد کرتے اور مذہب اہل بیت(ع) کی حقانیت پر انگشت نمائی کرتے تھے لیکن آپ کے علمی اور متانت سے بھرے جوابات ان کی بولتی بند کردیتے اور اہل بیت کے مذہب کی حقانیت کو پایہ ثبوت تک پہونچاتے تھے اور دشمن آپ کے علم کی تعریف کئے بنا نہیں رہ پاتے تھے۔
۲۔شیعوں کی معنوی اور مادی حمایت
امام علی نقی(ع) نے اپنی بابرکت زندگی میں اپنے چاہنے والوں کی فکری اور معیشتی مشکلات کو مدنظر رکھ انھیں حل کرنے کی ہرممکن کوشش فرمائی نیز تشیع کے صحیح اصول اپنے چاہنے والوں تک پہونچائے اور ان کی دینی بصیرت میں مسلسل اضافہ فرمایا۔(رجوع کیجئے:يشوايان ما، ص۲۶۱)۔
امام علی نقی علیہ السلام نے فداکاری اور ایثار کے ساتھ ہمیشہ حقیقی اسلام کو تحریف سے محفوظ رکھا اور ایسے شاگردوں کی تربیت فرمائی کہ جو مکتب اہل بیت(ع) کی آواز بن کر ابھرے مثلاً حضرت عبد العظیم حسنی،ابن سکیت اہوازی،ابوہاشم جعفری،اسماعیل بن مہران ،علی بن مہزیار وغیرہ اگرچہ ان میں سے کچھ تو  امام محمد تقی علیہ السلام کے بھی شاگرد اور صحابی تھے۔ان لوگوں نے تشیع کی حفاظت اور نشر میں ہر ممکن کوشش کی۔
آپ کے زمانہ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے آپ کے زمانہ میں شیعوں نے بہت سی گرانقدر کتابیں بھی تحریر کی ہیں جن میں سے اہم کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے:
۱۔امام علی نقی علیہ السلام کے ایک صحابی جناب ابو مقاتل دیلمی نے آئمہ علیہم السلام کی امامت کے اثبات میں ایک روائی اور کلامی کتاب تحریر کی۔ (عزيز الله عطاردي، مسند الامام الهادي، قم، الموتمر العالمي للامام الرضا ـ عليه السّلام ، 1410، ص 317)۔
۲۔احمد بن محمد بن خالد برقی نے ایک کتاب کہ جس کا نام «المحاسن» تھا تالیف فرمائی یہ کتاب درحقیقت ایک انسائکلوپیڈیا ہے  جس میں آئمہ (ع) سے منقول متعدد ابواب میں اخلاقی،تفسیری اور معارفی روایات جمع کی گئی ہیں۔
۳۔نیز اسی مصنف کی ایک دیگر کتاب بھی معروف ہے جس کا نام «التبيان في اخبار البلدان»  کہ جو عالم اسلام کے جغرافیہ پر سب سے پہلی کتاب شمار ہوتی ہے۔
۴۔حسین بن سعید اہوازی نے تقریباً ۳۰ کتابیں لکھی ہیں جن کا تذکرہ نجاشی نے اپنی رجال میں کیا ہے۔(رجال کشی، ص 332)۔
۵۔فضل بن شاذان ایک اور شیعہ ہیں جن کی بہت سی کتابیں ہیں اور امام حسن عسکری(ع) نے جب ان کے کچھ نوشتوں کو دیکھا تو ان کے لئے دعا فرمائی۔ ( حمد بن حسن طوسي، اختيار معرفه الرجال، چاپ اول، مشهد، دانشگاه مشهد، 1348، ص 542)۔
۶۔امام علی نقی علیہ السلام کے شیعوں میں ہی ایک ایسا شخص کہ جو کثرت تالیف میں مشہور تھا علی بن مہزیار اہوازی ہے انھوں نے بھی تقریباً ۳۳ کتابیں لکھی ہیں۔ (مسند الامام الهادي، ص 351)۔
واقعاً ایسے بلند پایہ لوگوں کا وجود شیعہ کلچر کے نمو اور رشد کا سبب تھا،آئمہ اطہار(ع) کو بھی اپنے ان شاگردوں اور اصحاب پر حددرجہ اعتماد تھا اور آپ نے دینی مشکلات کے حل کو ان کے سپرد کررکھا تھا چنانچہ ابو حماد رازی(یہ شہر رے کے رہنے  والے تھے) کہتے ہیں :میں سامرا میں قیام کے دوران امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور کچھ مسائل کے جواب دریافت کئے حضرت نے میرے تمام سوالوں کے جواب دیئے اور رخصت ہوتے وقت مجھ سے فرمایا: اے ابو حماد! اگر آج کے بعد دینی امور میں تمہارے سامنے کوئی مشکل پیش آئے تو رے میں عبدالعظیم حسنی سے سوال پوچھ لینا اور ساتھ ہی میرا سلام بھی ان تک پہونچا دینا۔( محمد جواد طبسي، حياة الامام الهادي، چاپ اول، قم، دارالهدي، 1426، هـ.ق، ص 215)۔
امام علی نقی علیہ السلام نے الہی تدبیر اور حکمت کے ذریعہ ایسے شاگردوں کو پروان چڑھایا کہ جن کے نشان قدم آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں جنہوں نے تہذیب اور افکار اہل بیت(ع) کی اشاعت میں اپنی جانوں تک کو نچھاور کردیا۔
   


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16