Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192785
Published : 26/3/2018 15:37

فکر قرآنی:

حضرت آدم(ع) کی تخلیق کا راز

خدا چاہتا تھا کہ ایسے وجود کو پیدا کرے جو عالم وجود کا گلدستہ ہو اور خلافت الہی کے مقام کی اہلیت رکھتا ہو اور زمین پر اللہ کا نمائندہ ہو مربوط آیات کی تفسیر میں ایک حدیث جو امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے وہ بھی اسی معنٰی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرشتے مقام آدم پہچاننے کے بعد سمجھ گئے کہ آدم اور ان کی اولاد زیادہ حقدار ہیں کہ وہ زمین میں خلفاء الہی ہوں اور مخلوق پر اس کی حجت ہوں۔

ولایت پورٹل: پروردگار عالم کی خواہش یہ تھی کہ روئے زمین پر ایک ایسا موجود خلق فرمائے جو اس کا نمائندہ ہو،اس کے صفات، صفات خداوندی کا پرتو ہوں اور اس کا مرتبہ و مقام فرشتوں سے بالاتر ہو،خدا کی خواہش اور ارادہ یہ تھا کہ ساری زمین اور اس کی نعمتیں، تمام قوتیں، سب خزانے، تمام کانیں اور سارے وسائل بھی اس کے سپرد کردیئے جائیں ،ضروری ہے کہ  اس کے پاس ساری زمین اور اس کی نعمتیں ہوں اور عقل، شعور اور ادراک کے وافر حصے اور خصوصی استعداد کا حامل ہو جس کی بنا پر موجودات ارضی کی رہبری اور پیشوائی کا منصب سنبھال سکے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۔(سورہ بقرہ:۳۰)
ترجمہ: اے رسول وہ وقت یاد کیجئے! جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ (جانشین) بنانے والا ہوں۔
بہر حال خدا چاہتا تھا کہ ایسے وجود کو پیدا کرے جو عالم وجود کا گلدستہ ہو اور خلافت الہی کے مقام کی اہلیت رکھتا ہو اور زمین پر اللہ کا نمائندہ ہو مربوط آیات کی تفسیر میں ایک حدیث جو امام صادق علیہ السلام  سے مروی ہے وہ بھی اسی معنٰی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرشتے مقام آدم پہچاننے کے بعد سمجھ گئے کہ آدم اور ان کی اولاد زیادہ حقدار ہیں کہ وہ زمین میں خلفاء الہی ہوں اور مخلوق پر اس کی حجت ہوں۔  



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15