Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192790
Published : 26/3/2018 17:1

کتاب اور ہم

جب ہر طرف جہل اور بے خبری کا اندھیرا پھیل جائے یا شبہات کے طوفان جوانوں کے ذہنوں کو تباہ کردیں لہذا ایسے حالات میں جو چیز جہل کی آفت کو ختم کرسکتی ہے وہ صرف مطالعہ کرنا اور کتاب پڑھنا ہے انہیں کے ذریعہ الجھے ذہنوں کو سکون اور بوجھل طبیعتوں کو اطمینان ،مکدر دلوں کو طاقت مل سکتی ہے حصار شبہات میں گرفتار لوگ اپنی فکروں کو مہمیز کرنے کے لئے کتاب پڑھنے کا ہی سہارا لیتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔(سورہ زمر:۹)
ترجمہ:کہیے کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں۔
قرآن مجید کا یہ استفہامی جملہ کتنے خوبصورت انداز میں بیان کر رہا ہے کہ پڑھنے اور نہ پڑھنے،جاننے اور نہ جاننے میں کتنا فاصلہ پایا جاتا ہے۔
ہم مسلمانوں کو ہزاروں بار اپنی  قسمت پر ناز کرنا چاہیئے کہ اللہ نے ہمارے لئے کیسی آسمانی کتاب نازل فرمائی کہ جس نے مطالعہ ،حصول علم و معرفت کی اہمیت ایک سوال کے ذیل میں اس طرح کھول کر رکھ دی کہ ذہن انسان فکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
نیز اہل بیت اطہار(ع) سے منقول بہت سی روایات میں کتاب پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی اہمیت کو بیان کیا گیا اگرچہ کتاب پڑھنے کے تاریخی اور اجتماعی فوائد اپنی جگہ ہیں۔کبھی خود کتاب کو انسان کے لئے بہترین ملجا اور پناگاہ قرار دیا گیا ہے اور خاص طور پر عہد صادقین(ع) میں علم و آگاہی کی طرف ترغیب دلانے والی بہت سی احادیث ملتی ہیں چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مفضل بن عمر جعفی کوفی سے ارشاد فرمایا: اُكْتُبْ وَ بُثَّ عِلْمَكَ فِي إِخْوَانِكَ فَإِنْ مِتَّ فَأَوْرِثْ كُتُبَكَ‏ بَنِيكَ فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَى اَلنَّاسِ‏ زَمَانُ هَرْجٍ لاَ يَأْنَسُونَ فِيهِ إِلاَّ بِكُتُبِهِمْ‏۔(اصول کافی،ج۱،ص ۶۷)۔
لکھو اور اپنے علم کو اپنے دینی بھائیوں کے درمیان نشر کردو اور جب تمہاری موت کا وقت قریب پہونچ جائے تو تم اسے اپنے بیٹوں کے درمیان  میراث کے طور پر چھوڑ دو چونکہ لوگوں کے لئے ایک فتنوں اور آشوب سے بھرا دور آئے گا کہ جس میں کتاب سے بہتر ان کا کوئی رفیق اور مونس نہیں ہوگا۔
یا کتاب کی اہمیت امیرالمؤمنین(ع) کی اس حدیث سے بھی سمجھ میں آتی ہے: الکتب بساتین العلماء ۔(غرر الحکم،:۲۴۵)
کتابیں دانشوروں کے باغات ہیں۔
یا ایک دوسرے مقام پر فرمایا: من تسلی بالکتب لم تفته سلوه۔(غرر الحکم:۲۳۳) جو شخص کتابوں سے مانوس ہوتا ہے  وہ کبھی آرام و چین سے محروم نہیں ہوتا۔
نیز امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: احتفظوابکتبکم فانکم وف تحتاجون الیها۔(بحار الانوار،ج۲،ص۱۵۲) اپنی کتابوں کی حفاظت کرو چونکہ جلد ہی تمہیں ان کی ضرورت پڑے گی۔
قارئین کرام! کتابیں بشری تجربات اور ذہنی خلاقیت اور طویل علمی ذخیروں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں اور کتاب علم منتقل کرنے اور معرفت بہم پہونچانے کے دیگر ذرائع میں سب سے اچھا اور آسان ذریعہ ہے۔
مطالعہ کرنا روح کی غذا اور فکری بیماریوں کا علاج ہے ،کتاب شفیق اور ہمدرد معلم اور ہمیشہ کا دوست ہے، کہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ہمیں دیدیتی ہے ،مطالعہ کرنا اور کتاب پڑھنا خالص نیت کے ساتھ ایک عظیم عبادت بھی ہے،کسی لائبریری میں بیٹھنا،کسی دانشور کی ہمنشینی اختیار کرنا سعادت ہے کتابخانے اہل علم کے معبد اور نماز معرفت کی محرابیں ہیں اور جو بھی مطالعہ کی سعادت سے محروم ہے وہ غریب اور بے مونس ہوتا ہے۔
در حقیقت جب ہر طرف جہل اور بے خبری کا اندھیرا پھیل جائے یا شبہات کے طوفان جوانوں کے ذہنوں کو تباہ کردیں لہذا ایسے حالات میں جو چیز جہل کی آفت کو ختم کرسکتی ہے وہ صرف مطالعہ کرنا اور کتاب پڑھنا ہے انہیں کے ذریعہ الجھے ذہنوں کو سکون اور بوجھل طبیعتوں کو اطمینان ،مکدر دلوں کو طاقت مل سکتی ہے حصار شبہات میں گرفتار لوگ اپنی فکروں کو مہمیز کرنے کے لئے کتاب پڑھنے کا ہی سہارا لیتے ہیں۔

جاری ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16