Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192794
Published : 26/3/2018 18:7

مسلکی اختلافات کو نظرانداز کرکے متحد ہوں مسلمان:مولانا کلب جواد نقوی

مولانا نے کانفرنس میں موجود ہزاروں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے استعماری سازشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سامراج دہشتگردی کو اسلام کا نام دیکر اسلام جیسے امن کے بانی دین کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور جب جب بھی کسی دہشتگرد ٹولے نے سر اٹھایا ہے اس کے پیچھے اسلام مخالف طاقتوں کا ہاتھ رہا ہے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق کل  ۲۵ مارچ ۲۰۱۸  کو لکھنؤ کے تاریخی آصفی امامباڑے (بڑے امامباڑہ) میں دہشتگرد مخالف  شیعہ سنی(صوفی) عظیم الشأن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری اور لکھنؤ کے امام جمعہ مولانا کلب جواد نقوی نے دور دراز سے آئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرزندان توحید سے متحد ہوکر دنیا کے لئے ناسور بن چکی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی  پرزور اپیل کی۔
مولانا نے کانفرنس میں موجود ہزاروں  لوگوں سے  خطاب کرتے ہوئے استعماری سازشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سامراج دہشتگردی کو اسلام کا نام دیکر اسلام جیسے امن کے بانی دین کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور جب جب بھی کسی دہشتگرد ٹولے نے سر اٹھایا ہے اس کے پیچھے اسلام مخالف طاقتوں کا ہاتھ رہا ہے۔  
مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری نے میڈیا کی دوھری پالیسی پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی میڈیا سامراج کے ہاتھوں کا کھلونہ بن چکی ہے اور یہ وہی پیغام لوگوں تک پہونچاتی ہے جس کو پہونچانے کی ذمہ داری عالمی سامراج انھیں دیتا ہے۔ میڈیا کے ضروری ہے کہ وہ صحافتی اصول کی پیروی کرتے ہوئے دیانتداری کا ثبوت دے۔
یاد رہے کہ اس عظیم الشأن ریلی میں ہندوستان بھر کی خانقاہوں کے سجادہ نشین اور معتدل سنی علماء نے شرکت کر اتحاد کا پیغام دیا اور دہشتگردی کو ختم کرنے کا عہد مصمم کیا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11