Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192796
Published : 26/3/2018 20:5

ماہ رجب میں امام حسین(ع) کی زیارت کا فلسفہ

امام حسین(ع) عاشقوں کا قبلہ ہیں اور تمام مؤمنین آپ کو اپنا مقتدیٰ مانتے ہیں لہذا آپ کے مزار پر سب تجدید عہد کے لئے جانا چاہتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا انسان کو اس کے مقصد سے کافی حد تک قریب کردیتی ہے اور اللہ کی مغفرت زائر کو ہدیہ کردی جاتی ہے یہ ہے زیارت امام حسین علیہ السلام کا معجزہ۔

ولایت پورٹل: خدائی جلوے یوں تو ہر مکان اور زمان میں پائے جاتے ہیں اور تمام عالم اس کی صفات کے جلوے ہیں ان سب کے باوجود کچھ اوقات میں پروردگار کے خاص جلووں کا ظہور ہوتا ہے جو دوسرے زمانوں کو میسر نہیں ہوتے۔چنانچہ ماہ رجب بھی انھیں با عظمت اوقات میں سے ہے کہ جس میں خداوند عالم کے جلوے نمایاں ہوتے ہیں اور اس مہینہ کا خداوند عالم سے منسوب ہونا اس مدعٰی پر سب سے محکم دلیل ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) سے منقول حدیث میں وارد ہوا ہے : : رَجَبٌ شَهرُ اللّهِ الأَصَمُّ، المُنيرُ، الَّذي افتَرَضَهُ اللّهُ عز و جل لِنَفسِهِ؛ رجب اللہ کی حرمت اور اس کا روشن مہینہ ہے کہ جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کررکھا ہے۔( الفردوس : ج ۲، ص ۲۷۴، ح ۳۲۷۴)
اگرچہ ماہ رجب میں متعدد اعمال اور وظائف کا تذکرہ کتابوں اور روایات میں ملتا ہے لیکن ان سب میں ایک اہم عمل اس مبارک اور حرمت والے مہینہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا ہے چنانچہ رجب کے مہینہ کی مخصوص زیارت بھی مفاتیح الجنان میں نقل ہوئی ہے جسے اس مہینہ میں زیارت کو جانے والا ہر زائر پڑھتا ہے اور یہ اس پر اللہ کی عنایت ہے۔
ماہ رجب میں امام حسین(ع) کی زیارت کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں لہذا ہم یہاں صرف  حدیث کے بیان پر اکتفاء کرتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مَن زارَ قَبرَ الحُسَينِ عليه السلام أوَّلَ يَومٍ مِن رَجَبٍ، غَفَرَ اللّهُ لَهُ البَتَّةَ؛ جو شخص بھی ماہ رجب کی پہلی تاریخ کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے حتمی طور پر اللہ تعالٰی اسے معاف کردے گا۔( هداية الأمة إلى أحكام الأئمة عليهم السلام؛ ج 5 ؛ ص486)
امام حسین(ع) عاشقوں کا قبلہ ہیں اور تمام مؤمنین آپ کو اپنا مقتدیٰ مانتے ہیں لہذا آپ کے مزار پر سب تجدید عہد کے لئے جانا چاہتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا انسان کو اس کے مقصد سے  کافی حد تک قریب کردیتی ہے اور اللہ کی مغفرت زائر کو ہدیہ کردی جاتی ہے یہ ہے زیارت امام حسین علیہ السلام کا معجزہ۔
اور اگر زیارت امام حسین(ع) کے متعلق علماء کے اقوال کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں حج اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے درمیان ایک گہرا رابطہ نظر آتا ہے اور جیسا کہ لبنان کے مقاومتی لیڈر امام موسیٰ صدر نے فرمایا کہ اس وجہ سے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے درمیان گہرا رابطہ ہے چونکہ امام حسین(ع) نے حرمت کعبہ کو بچایا چونکہ ۸ ذی الحجہ کو یزید کے کارندے امام حسین(ع) کو قتل کرنے کی خاطر کعبہ میں در آئے تھے لہذا آپ نے ان کے سازشی نقشہ کو برملا کرتے ہوئے کعبہ کو الوداع کہہ دیا تاکہ حرمت والی زمین پر یہ محترم خون نہ بہنے نہ پائے۔
جب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کو تعمیر کیا تھا اور مناسک حج انجام دیئے جارہے تھے بہت سے لوگ ان عبادی مناسک کو۔ اگرچہ تحریف شدہ صورت میں ہی صحیح ۔ انجام دیتے تھے اور یہ اعمال صرف دو موسم میں انجام پاتے تھے ایک حج کہ جو ذی الحجہ کے مہینہ میں تھا جبکہ عمرہ رجب کے مہینہ میں ۔
چونکہ اس وقت پورے حجاز میں بد امنی پھیلی ہوئی تھی تو عرب کے تمام قبائل نے خونریزی اور کشت و کشتار کی روک تھام کے لئے ایک معاہدہ ہوا کہ پورے سال  کے ان ۴ مہینوں میں جنگ و جدال اور تعدی کرنا ایک جرم ہے اور جو اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گا اس کا اجتماعی بائکاٹ کر حجاز سے نکال دیا جائے گا۔
ان میں پہلا مہینہ ذیقعدہ کا تھا چونکہ اس مہینہ میں حجاج اپنے گھروں سے رخت سفر باندھ کر سرزمین حرم کے لئے نکلتے تھے ،دوسرا مہینہ  ذی الحجہ تھا چونکہ تمام حج کے  مناسک و اعمال اسی مہینہ میں انجام دییئے جاتے تھےا اور محرم کا مہینہ اس وجہ سے کہ لوگ اعمال و مناسک حج کی ادائیگی کے بعد اپنے اپنے گھر لوٹتے تھے نیز چوتھا مہینہ رجب کا بھی اس عہد نامہ کی رو سے محترم اور حرمت والا تھا چونکہ یہ عمرہ کرنے کا مخصوص مہینہ تھا۔ لہذا اسلام نے بھی زمانہ جاہلیت کے اس معاہدے اور  روایت کو باقی رکھتے ہوئے ان ۴ مہینوں کو حرمت والے مہینے قرار دیا۔
روایات کی روشنی میں عمرہ مفردہ انجام دینے کے لئے سب سے افضل مہینہ رجب ہے، اور قابل توجہ یہ امر ہے کہ رجب میں  عمرہ کرنا ماہ رمضان سے بھی زیادہ با فضیلت ہے اگر رمضان المبارک میں کسی بھی عبادی عمل کی اہمیت دوسرے مہینوں سے زیادہ ہوجاتی ہے لیکن عمرہ کے باب میں ایسا نہیں ہے۔
اور اگر ہم امام حسین(ع) کی زیارت سے مخصوص ایام کی جستجو کریں تو ہمیں روز عرفہ سے اس کا آغاز نظر آتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں عرفہ موسم حج میں ایسا دن ہے  کہ اس دن لوگ احرام باندھ کر سب سے پہلا منسک یعنی ظہر سے غروب تک عرفہ میں ٹہرنا۔ انجام دیتے ہیں۔
اور اسی دن امام حسین کعبہ کو الوداع کہہ کر نکل گئے آپ کو معلوم ہے کہ امام کیوں کعبہ سے نکلے چونکہ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مکہ اور سرزمین حرم پر کسی انسان کے قتل کئے جانے کی روایت قائم ہوجائے اگرچہ کچھ برس بعد عبداللہ بن زبیر کو کعبہ میں قتل کیا گیا لیکن اس کے سبب مسجد الحرام میں قتل کرنے کی روایت قائم نہیں ہوئی چونکہ امام حسین(ع) کی شخصیت اور آپ کا وقار دوسروں سے ممتاز تھا۔
پس یہی وجہ ہے کہ امام حسین اور حج کے درمیان ایک گہرا رابطہ پایا جاتا ہے جن دنوں میں کعبہ کے مناسک انجام پاتے ہیں انھیں دنوں میں امام حسین(ع) کی زیارت کی جاتی ہے پس یہی وجہ ہے کہ پہلی اور پندرہ رجب کو امام حسین(ع) کی زیارت کی فضیلت روایات میں ملتی ہے چونکہ عمرہ بھی انھیں ایام میں انجام دیا جاتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20