Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192808
Published : 27/3/2018 15:31

فکر قرآنی:

آدم(ع) کی خلقت کے موقع پر فرشتوں کا سوال

فرشتوں کو کب معلوم تھا کہ اس آدم کی نسل سے محمد، ابراہیم ،نوح ،موسیٰ عیسیٰ علیہم السلام جیسے انبیاء اور آئمہ اہل بیت(ع) جیسے معصوم اور ایسے صالح بندے اور جانباز شہید مرداور عورتیں عرصہ وجود میں قدم رکھیں گے جو پروانہ وار اپنے کو راہ خدا میں پیش کریں گے ایسے افراد جن کے غور و فکر کی ایک گھڑی فرشتوں کی سالہا سال کی عبادت سے بہتر ہوگی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! کل ہم نے  آپ حضرات کی خدمت میں یہ گذارش کی تھی کہ خداوندعالم نے حضرت آدم(ع) کی کیوں خلق فرمایا اور ہم نے بتایا تھا کہ خدا یہ  چاہتا تھا کہ کسی ایسی ذات کو پیدا کرے جو عالم وجود کا گلدستہ ہو اور خلافت الہی کے مقام کی اہلیت رکھتا ہو اور زمین پر اللہ کا نمائندہ ہو لیکن جب آدم تخلیق کے مراحل سے گذر رہے تھے تو فرشتوں نے اللہ سے سوال کیا کہ بار الہا! ہم تیری عبادت اور بندگی ہر ایک سے زیادہ کرتے ہیں اور تو خلیفہ کسی اور بنا رہا ہے۔آئیے اس کالم کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ایک نظر ہم اپنے کل کے مضمون پر ڈالتے ہیں!
حضرت آدم(ع) کی تخلیق کا راز
گذشتہ سے پیوستہ:
فرشتوں نے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے نہ کہ اعتراض کرنے کی غرض سے کہا: قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۔(سورہ بقرہ:۳۰)
ترجمہ: کیا تو زمین میں اسے خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا۔ حالانکہ ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس (پاکیزگی بیان) کرتے ہیں۔
مگر یہاں پر خدا نے انہیں سربستہ و مجمل جواب دیا جس کی وضاحت بعد کے مراحل میں آشکار ہوئی فرمایا: قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔(سورہ بقرہ:۳۰)  
ترجمہ: فرمایا،یقیناً میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
بعض مفسرین کا یہ ماننا ہے کہ خدا نے انسان کے آئندہ کے حالات بطور اجمال انہیں بتا دیئے تھے جبکہ کچھ دیگر مفسرین یہ کہتے ہیں ملائکہ خود اس مطلب کو لفظ «فی الارض» سے سمجھ گئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوگا اور مادہ اپنی محدودیت کی وجہ سے طبعاً مرکز نزاع و تزاحم ہے کیونکہ محدود مادی زمانہ انسانوں کی اس طبیعت کو سیر و سیراب نہیں کرسکتا جو زیادہ کی طلب رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ساری دنیا بھی ایک فرد کو دیدی جائے تو ممکن ہے وہ پھر بھی سیر نہ ہو اگر کافی احساس ذمہ داری نہ ہو تو یہ کیفیت فساد اور خونریزی کا سبب بن سکتی ہے۔
بعض دوسرے مفسرین معتقد ہیں کہ فرشتوں کی پیشین گوئی اس وجہ سے تھی کہ آدم روئے زمین کی پہلی مخلوق نہیں تھے بلکہ اس سے قبل بھی دیگر مخلوقات تھیں جنہوں نے نزاع جھگڑا اور خونریزی کی تھی ان سے پہلے مخلوقات کی بری فائل نسل آدم کے بارے میں فرشتوں کی بد گمانی کا باعث بنی۔
قارئین کرام! اگر غور کیا جائے تو یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے سے زیادہ اختلاف نہیں رکھتیں یعنی ممکن ہے یہ تمام امور فرشتوں کی اس توجہ کا سبب بنے ہوں اور در اصل یہ ایک حقیقت بھی تھی جسے انہوں نے بیان کیا تھا یہی وجہ ہے کہ خدا نے جواب میں کہیں بھی اس کا انکار نہیں کیا بلکہ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ ایسی مزید حقیقتیں انسان اور اس کے مقام کے بارے میں موجود ہیں جن سے فرشتے آگاہ نہیں تھے۔
فرشتے سمجھتے تھے اگر مقصد عبودیت اور بندگی ہے تو ہم اس کے مصداق کامل ہیں ہمیشہ عبادت میں ڈوبے رہتے ہیں لہذا سب سے زیادہ ہم خلافت کے لائق ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر تھے کہ ان کے وجود میں شہوت و غضب اور قسم قسم کی خواہشات موجود نہیں جبکہ انسان کو میلانات و شہوات نے گھیر رکھا ہے اور شیطان ہر طرف سے اسے وسوسہ میں ڈالتا رہتا ہے لہذا ان کی عبادت انسان کی عبادت سے بہت زیادہ فرق رکھتی ہے کہاں اطاعت اور فرمانبرداری ایک طوفان زدہ کی اور کہاں عبادت ان ساحل نشینوں کی جو مطمئن خالی ہاتھ اور سبک بار ہوں۔
انہیں کب معلوم تھا کہ اس آدم کی نسل سے محمد، ابراہیم ،نوح ،موسیٰ عیسیٰ علیہم السلام جیسے انبیاء اور آئمہ اہل بیت(ع) جیسے معصوم اور ایسے صالح بندے اور جانباز شہید مرداور عورتیں عرصہ وجود میں قدم رکھیں گے جو پروانہ وار اپنے کو راہ خدا میں پیش کریں گے ایسے افراد جن کے غور و فکر کی ایک گھڑی فرشتوں کی سالہا سال کی عبادت سے بہتر ہوگی۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ فرشتوں نے اپنے صفات کے بارے میں تین چیزوں کا سہارا لیا،تسبیح، حمد اور تقدیس ، درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ اگر مقصد اور غرض اطاعت و بندگی ہے تو ہم فرمانبردار ہیں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس میں مشغول رہتے ہیں اور اگر اپنے آپ کو پاک رکھنا یا صفحہ ارضی کو پاک رکھنا ہے تو ہم ایسا کریں گے جبکہ یہ مادی انسان خود بھی فاسد ہے اور روئے زمین کو بھی فاسد کردے گا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11