Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192818
Published : 27/3/2018 19:14

اسلام اور اسلامی ثقافت کے آئینہ میں عورت کا مرتبہ

کیا ایسی عظیم الشأن شخصیت اپنے منفرد عدل و حکمت اور الٰہی وحی و الہام پر منحصر رہنے کے باجود جھک کر اپنی بیٹی کے ہاتھوں کا بوسہ لے گی؟ نہیں بلکہ راز کچھ اور ہے۔ رسول(ص) کا یہ عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ خاتون جس کی کل عمر صرف ۱۸ یا۲۵ برس تھی ، انسانی کمالات کی آخری حد پر تھی اور فوق العادہ شخصیت کی حامل تھی۔ عورت کے سلسلہ میں اسلام کا یہ نقطۂ نگاہ ہے۔

ولایت پورٹل: اسی دنیا میں حضور اکرم(ص) نے ایسی بیٹی کی تربیت کی جو اس مقام تک پہنچی کہ خود نبی کریم(ص) نے اس کے ہاتھ چومے! پیغمبر اکرم کا دست فاطمۂ زہرا(س) کو چومنا، محض محبت پدری کی بنیاد پر نہ تھا۔ اگر اس فعل کو محبت پدری پر حمل کیا جائے تو یہ انتہائی ستم ظریفی ہوگی۔ کیا ایسی عظیم الشأن شخصیت اپنے منفرد عدل و حکمت اور الٰہی وحی و الہام پر منحصر رہنے کے باجود جھک کر اپنی بیٹی کے ہاتھوں کا بوسہ لے گی؟ نہیں بلکہ راز کچھ اور ہے۔ رسول(ص) کا یہ عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ خاتون جس کی کل عمر صرف ۱۸ یا۲۵ برس تھی ، انسانی کمالات کی آخری حد پر تھی اور فوق العادہ شخصیت کی حامل تھی۔ عورت کے سلسلہ میں اسلام کا یہ نقطۂ نگاہ ہے۔ اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تہذیب و ثقافت اور قومی مسائل و نظریات میں بھی (جس کی عہدیدار «شورائے فرہنگی، اجتماعی زنان» کی کارکن خواتین ہیں) اور علمی ترقی و پیشرفت میں بھی، جس کی خواہشمند آپ تمام خواتین ہیں) اسی پر توجہ دیجئے۔
اسلام نے اس بلند مرتبہ کو عورت کے مسلم حق کے طور پر متعارف کرایا ہے اس کے حصول کو لازم جانا ہے اور اقدار، احکام اور مقررات کے ذریعہ اس کے حصول کے راستہ کو ہموار بھی کردیا ہے۔ مغربی تہذیب اور وہ فکر جس پر یہ تہذیب استوار ہے اگر خواتین کے لئے اس بلند مرتبہ کا قائل بھی ہوجائے۔ اگرچہ مادی نگاہ اس طرح کی معنوی زاویۂ دید سے محروم ہوتی ہے۔ تب بھی عورت کی شخصیت سے لذّات و شہوات اور پست سرگرمیوں سے جداکرنے سے قاصر رہے گی بلکہ انہی چیزوں کو اصل شمار کرتے ہوئے اسے اقوام و عقائد کے سلسلہ میں اپنے نقطۂ نگاہ کی بنیاد قرار دے گی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15