Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192838
Published : 28/3/2018 16:29

امام محمد تقی(ع) کا علمی مکتب

توجہ رہے کہ حضرت کے اصحاب کی یہی محدود تعداد میں ایسے ایسے برجستہ شخصیات موجود ہیں جو اپنی مثال خود آپ ہیں جیسا کہ علی بن مہزیار،احمد بن محمد بن ابی بصیر بزنطی،زکریا بن آدم،محمد بن اسماعیل بن یزیع،حسین بن سعدی اہوازی،احمد بن محمد بن خالد برقی کہ جن مین سے ہر ایک کا علمی اور فقہی میدان میں کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور ان میں سے کئی افراد تو متعدد تالیفات و تصانیف کے مالک بھی تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جیسا کہ ہم جانتے ہیں آئمہ علیہم السلام کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان حضرات کی ثقافتی اور کلچرل کاوشوں میں خلاصہ ہوتا ہے ،ان الہی رہبروں نے اپنے اپنے زمانے میں ثقافتی اور کلچرل کارکردگیاں انجام دیں اور اپنے مکتب میں  بہت سے عظیم اور مایہ ناز شاگردوں کی تربیت کی ہے اور اپنے علوم و معارف کو ان افراد کی وساطت سے افراد معاشرہ تک پہنچایا ہے لیکن ان سب حضرات کی زندگی کے اجتماعی و سیاسی حالات ایک جیسے نہیں تھے مثلاً حضرت امام محمد باقر و صادق علیہما السلام کے زمانے کے حالات دیگر آئمہ کے زمانوں سے بہتر تھے اور یہی وجہ ہے ان حضرات نے ۴ ہزار سے زیادہ شاگردوں اور اصحاب کی تربیت فرمائی لیکن امام محمد تقی علیہ السلام سے لیکر امام عسکری علیہ السلام کے زمانے تک سیاسی محاصرہ اور نظربندیوں میں ان حضرات کی فعالیتیں محدود تھیں یہی وجہ ہے کہ امام محمد تقی امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہم السلام کے شاگردوں اور راویوں کی تعداد امام صادق علیہ السلام کے زمانے سے بہت ہی کم ہے اس مختصر تعداد کو اس بڑی تعداد سے مقائسہ و موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
لہذا جب ہم امام محمد تقی علیہ السلام سے روایت کرنے والے راویوں کی تعداد ۱۲۵ افراد پاتے ہیں۔(۱) اور آپ سے مجموعاً ۲۵۰ روایت(۲) منابع احادیث میں آئی ہیں تو ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔
چونکہ ایک طرف تو آپ شدید سیاسی محاصرہ میں تھے اور دوسرے  آپ کی کل عمر شریف ہی صرف ۲۵ برس ہوئی ہے۔
لیکن پھر بھی توجہ رہے کہ حضرت کے اصحاب کی یہی محدود تعداد میں ایسے ایسے برجستہ شخصیات موجود ہیں جو اپنی مثال خود آپ ہیں جیسا کہ علی بن مہزیار،احمد بن محمد بن ابی بصیر بزنطی،زکریا بن آدم،محمد بن اسماعیل بن یزیع،حسین بن سعدی اہوازی،احمد بن محمد بن خالد برقی کہ جن مین سے ہر ایک کا علمی اور فقہی میدان میں کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور ان میں سے کئی افراد تو متعدد تالیفات و تصانیف  کے مالک بھی تھے۔
دوسری اہم بات یہ کہ امام محمد تقی علیہ السلام سے روایت کرنے والے راوی صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ بہت سے اہل سنت دانشور اور محدثین نے بھی آپ سے اسلام کی حقیقی اور ناب تعلیمات نقل کی ہیں مثال کے طور پر خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ امام علیہ السلام سے بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔(۳)
اسی طرح حافظ «عبدالعزيز بن اخضر جنابذى» نے اپنی کتاب «معالم العترة الطاهرة» میں ۔(۴) نیز دوسرے مؤلفیں جیسا کہ ابوبکر احمد بن ثابت، ابو اسحاق ثعلبی،اور محمد بن منذۃ بن مھریذ نے اپنی اپنی کتب تاریخ و تفسیر میں امام محمد تقی علیہ السلام سے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔(۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  
حوالہ جات:
۱۔ شيخ طوسى، رجال، الطبعة الأولى، نجف، منشورات المكتبة الحيدرية، ١٣٨١ ه ق، ص ٣٩٧ - .٤٠٩ ۔
۲۔جناب عطاردى نے مسند الامام الجواد میں اپنے اعداد و ارقام کے مطابق آپ سے فقہی و عقیدتی و اخلاقی میدان میں اسی تعداد کا تذکرہ کیا ہے۔
۳۔ تاريخ بغداد، بيروت، دار الكتاب العربى،، ج ٣، ص ٥٤ و .٥٥۔
۴۔امين، سيد محسن، أعيان الشيعة بيروت، دار التعارف للمطبوعات، ١٤٠٣ ه'. ق، ج ٢، ص .٣٥۔
۵۔ابن شهر اشوب، قم، المطبعة العلمية، ج ٤، ص ۵۶۔

   


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22