Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 192845
Published : 28/3/2018 18:43

غالی اور ان کے مقابلہ میں آئمہ(ع) کا طرز عمل

امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:اپنے جوانوں کے بارے میں غالیوں سے ہوشیار رہنا کہیں وہ ان کے عقائد برباد نہ کر ڈالیں کیونکہ غالی خدا کی سب سے بد ترین مخلوق ہیں ، جو عظمت خدا کو کمتر سمجھتے ہیں اور بندگان خدا کے لئے خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

ولایت پورٹل: غالی فرقوں کی تعداد کے بارے میں علماء ملل و نحل کے درمیان قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ اشعری نے ان کے پندرہ فرقوں کا تذکرہ کیا ہے، بغدادی نے غالیوں کے بیس فرقے بتائے ہیں ، اسفرائینی کا کہنا ہے کہ غالیوں کے فرقے بیس سے زیادہ ہیں شہرستانی نے ان کی تعدادگیارہ بتائی ہے ، بعض غالی فرقہ مندرجۂ ذیل ہیں:  
۱ ۔ سبئیہ : عبداللہ بن سبا کے پیرو ۔ ابتداء میں یہ حضرت علی(ع) کی نبوت کا معتقد تھا بعد میں آپ کی خدائی کا قائل ہوگیا ، اس نے حضرت علی(ع) کی شہادت کا بھی انکار کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ جو شخص قتل ہوا ہے در حقیقت وہ ایک شیطان تھا جو آپ کی شکل میں آیا تھا ، بالکل اسی طرح جیسے حضرت عیسیٰ(ع) کا مسئلہ یہودیوں کے اوپر مشتبہ ہوگیا تھا کیونکہ وہ خیال کرتے رہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ(ع) کو قتل کردیا ہے ، اس کے ماننے والوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت علی(ع) آسمان پر اٹھالئے گئے اور آپ دوبارہ زمین پر پلٹ کر آئیں گے اور آسمانوں پر بجلی کی کڑک در حقیقت آپ کی آواز ہے اسی لئے جب بھی وہ بجلی کی کڑک سنتے تھے تو کہتے تھے:«السلام علیک یا امیر المؤمنین»۔
۲ ۔بیانیہ: بیان بن سمعان تمیمی کے ماننے والے  وہ جناب محمد حنیفہ کی امامت کا قائل تھا ، اس کے بہت سارے ماننے والے انہیں پیغمبر سمجھتے تھے اور ان کا کہنا یہ تھا کہ انہوں نے شریعت کے کچھ حصہ کو منسوخ کردیا ہے اور اس کے بعض ماننے والے تو انہیں خدا کہتے تھے اور ان میں روح الٰہی کے حلول کے معتقد تھے۔
۳ ۔ مغیریہ : مغیرہ بن سعید عجلی کے ماننے والے ۔ ابتداء میں مغیرہ امام محمد باقر(ع) کی امامت کا قائل تھا لیکن آخر میں خود ہی نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا ۔
۴ ۔خطابیہ : ابو الخطاب اسدی کے پیروابو الخطاب، امام جعفر صادق(ع) کے دور میں تھا اور آپ کی الوہیت کا قائل ہوگیا تھا ، امام نے اس پر لعنت فرمائی اور اسے معلون قرار دے کر نکال دیا تھا ، اس کے ماننے والے تمام ائمہ(ع)کی خدائی کے معتقد تھے۔
۵ ۔ غرابیہ : ان کا یہ نظریہ تھا کہ خداوند عالم نے جبرئیل امین کو وحی لیکر حضرت علی(ع) کے پاس بھیجاتھا مگر وہ غلطی سے پیغمبر اکرم (ص) کے پاس لے کر پہنچ گئے اور ان کی اس غلطی کی وجہ یہ تھی کہ حضرت علی(ع) اور حضرت محمد مصطفی(ص) ایک دوسرے سے بیحد مشابہ تھے بلکہ۔{کان اشبه من الغراب بالغراب}۔ ایک کوّا دوسرے کوّے سے جتنا مشابہ ہوتا ہے یہ حضرات اس سے کہیں زیادہ مشابہ تھے اسی لئے اس فرقہ کو غرابیہ ( کوّے والا فرقہ ) کہا جاتا ہے ۔
اس فرقہ کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ خداوند عالم نے حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کو پیدا کرکے دنیا کی تخلیق و تدبیر کا پورا نظام آپ کے سپرد کردیا اور آنحضرت(ص) نے اسے حضرت علی(ع) کے حوالے کردیا تھا ، اسی وجہ سے اس فرقہ کو«مفوضہ» بھی کہا جاتا ہے ۔
۶ ۔ نصیریہ : محمد بن نصیر نمیری کے پیرو ۔ یہ امام حسن عسکری(ع) کے دور میں تھا اور آپ کے بارے میں غلو کا شکار ہو کر آپ کی ربوبیت کا قائل ہوا اور اپنے کو آپ کا بھیجا ہوا نبی کہنے لگا ، شہرستانی نے اپنے زمانہ میں نصیریوں کو حضرت علی(ص) کی الوہیت کا قائل قرار دیا ہے ، نصیری اب بھی ، شام ، ترکی اور عراق کردستان میں پائے جاتے ہیں اور اب انہیں علویہ کہا جاتا ہے۔
غالیوں کے مقابلہ میں آئمہ معصومین(ع) کا  طرز عمل
آئمہ معصومین(ع) نے انتہائی شدت کے ساتھ غلو اور غالیوں کی مخالفت فرمائی اس بارے میں ان حضرات سے کثرت کے ساتھ احادیث نقل ہوئی ہیں علامہ مجلسی(رح) نے بحار الانوار کی ۲۵ ویں جلد میں اس سلسلہ میں تقریباً ایک سو حدیثیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض احادیث بطور نمونہ پیش کی جارہی ہیں :
۱ ۔ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:«احذرو اعلی شبابکم الغلاۃ لا یفسدوھم فان الغلاۃ شر خلق اﷲ یصغِّرون عظمة ﷲ و یدّعون الربوبیة لعباد اﷲ۔۔۔۔۔»۔(۱)
اپنے جوانوں کے بارے میں غالیوں سے ہوشیار رہنا کہیں وہ ان کے عقائد برباد نہ کر ڈالیں کیونکہ غالی خدا کی سب سے بد ترین مخلوق ہیں ، جو عظمت خدا کو کمتر سمجھتے ہیں اور بندگان خدا کے لئے خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں ۔
۲ ۔ امیر المؤمنین(ع) پروردگار عالم کی بارگاہ میں غالیوں سے برائت کا اظہار کرتے ہوئے یہ  فرماتے تھے:«اللّٰھم انی بریء من الغلاۃ کبرائة عیسیٰ بن مریم من النصاریٰ اللّٰھم اخذ لھم ابداً ولا تنصر منھم احداً»۔(۲)  
ترجمہ:بارالٰہا ! میں غالیوں سے اسی طرح بیزار ہوں جس طرح عیسیٰ بن مریم عیسائیوں سے بیزار ہیں ، بارالٰہا ! انہیں ہمیشہ ذلیل و رسوا رکھنا اور کبھی بھی ان کی مدد نہ فرمانا ۔
امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا ہے:«لعن ﷲ عبدا ﷲ بن سبا انہ ادعی الربوبیة فی امیر المؤمنین  وکان و ﷲ امیر المؤمنین عبداﷲ طائعا ، الویل لمن کذب علینا و ان قوماً یقولون فینا ما لانقول فی انفسنا نبرء الی ﷲ منھم نبرء الی اﷲ منھم »۔ (۳)
ترجمہ:خداوند عالم عبداللہ بن سبا پر لعنت کرے کہ اس نے امیر المؤمنین(ع) کے بارے میں خدائی کا دعویٰ کیا تھا جبکہ امیر المؤمنین اللہ کے اطاعت گذار بندے تھے ، جو ہمارے بارے میں جھوٹی نسبت دے اس کے لئے ویل ہے ، اور کچھ لوگ ہمارے بارے میں وہ سب کہتے ہیں جو ہم خود اپنے بارے میں نہیں کہتے ہیں ، ہم ان سے اللہ کے لئے بیزا رہیں ، ہم ان سے اللہ کے لئے بیزار ہیں ۔
۴ ۔ امام جعفر صادق(ع) کی موجودگی میں غالیوں کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا ان سے ہر قسم کے تعلقات سے پرہیز کرو ۔
۵ ۔دوسرے مقام پر آپ نے فرمایا : جو ہم کو پیغمبر سمجھے اس پر خدا کی لعنت ہو ۔(۴)
۶ ۔ امام رضا(ع) نے فرمایا ہے:« غلات کافر اور تفویض۔(۵)کے قائلین مشرک ہیں اور جو شخص بھی ان کے ساتھ رفت و آمد رکھے ، ان سے شادی کرے ، یا انہیں امانت دار سمجھے، اور ان کی باتوں کی تصدیق کرے یا ان کی چھوٹی سی چھوٹی بات کی تائید کرے وہ اللہ ، رسول اللہ (ص) اور اہل بیت(ع) کی ولایت   سے باہر نکل جائے گا۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بحارالانوار ج ۲۵ ،ص ۲۶۵ بحوالۂ امالی شیخ طوسی ۔
۲۔گذشتہ حوالہ۔    
۳۔گذشتہ حوالہ، ص ۲۸۶ بحوالہ رجال کشی۔
۴۔ گذشتہ حوالہ ص۲۹۶     ۔
۵۔تفویض سے مراد ہے کہ کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ خداوندعالم نے بندوں کو خلقت اور رزق کا معاملہ آئمہ(ع) کے حوالہ کر دیا ہے۔
۶۔ بحار الانوار ج ۲۵، ص ۲۷۳ بحوالہ عیون اخبار الرضا  (ع)۔

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12