Monday - 2018 july 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193082
Published : 11/4/2018 19:31

حضرت موسیٰ(ع) کو اللہ کی 4 اہم نصیحتیں

خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا۔ لہٰذا ہم نے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالیٰ اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے درمیان یوں تو قرآن مجید میں کئی مکالمے نقل ہوئے ہیں جو بہت ہی دلنشین اور جذاب ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں عمدہ نصیحتیں اور عملی وعظ موجود ہیں چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ تھے جنہیں یہ توفیق نصیب تھی کہ وہ بغیر کسی واسطے کہ اپنے رب سے باتیں کرسکیں چنانچہ یہ گفتگو اہل بیت علیہم السلام کی زبانی ہم تک پہونچی ہے لہذا انہیں احادیث میں موسیٰ کو اللہ نے چار نصیحیتں فرمائیں ہیں جو قطعی طور پر ہمارے لئے بھی مفید ہیں:
جناب اصبغ بن نباتہ سے نقل ہوا کہ امیرالمؤمنین(ع) نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی بھیجی کہ اے موسیٰ: میری ان چار تاکیدات کو اپنے ذہن میں بٹھا لو:
۱۔جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ تمہارے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں تم دوسروں کے عیب تلاش مت کرو۔
۲۔جب تک تمہیں اللہ کا خزانہ ختم ہوجانے کا علم نہ ہوجائے روق کی فکر مت کرو۔
۳۔ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ میرا ملک اور بادشاہی میرے ہاتھ سے چلی گئی ہے کسی دوسرے سے امید نہ رکھو۔
۴۔جب تک تم شیطان کا جنازہ نہ دیکھ لو اس وقت تک اس کے مکرو فریب سے بچنے کی تدبیریں کرتے رہو۔(۱)
پہلی نصیحیت: دوسروں کے عیب تلاش مت کریں۔
اس حدیث کی ابتداء میں اللہ تعالٰی حضرت موسٰی علیہ السلام سے یہ فرمانا چاہتا ہے کہ تمام انسان کسی حد تک گناہ و لغزشوں میں گھر جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کسی دوسرے میں وہ عیب تلاش کربیٹھے کہ جو خود اس میں بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام عیب تلاش کرنے والے کی مذمت میں فرماتے ہیں : «شَرُّ النّاسِ مَن كانَ مُتَتَبِّعا لِعُيوبِ النّاسِ عَمِيا لِمَعايِبِهِ»۔(2)
سب سے برا وہ شخص ہے جو لوگوں کے عیب تلاش کرنے کے فراق میں رہے لیکن اسے اپنے عیب دکھائی نہ دے۔
اب اگر ایک شخص گناہوں اور لغزشوں سے توبہ بھی کرلے تو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی توبہ قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں! پس بہتر ہے کہ ہم دوسروں سے پہلے اپنے عیب تلاش کر انہیں دور کرنے کی کوشش کریں چنانچہ رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: «طوبى لِمَن مَنَعَهُ عَيبُهُ عَن عُيوبِ المُؤمِنينَ مِن إخوانِهِ»۔(۳) خوش نصیب ہے وہ انسان کہ جس کے عیب اسے اپنے مؤمن بھائیوں کے عیب تلاش کرنے سے منع کردیں۔
دوسری نصیحت: خدا کا روزی رساں ہونا۔
تمام مخلوقات کا رزق اللہ کے ذمہ ہے : «وَ ما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُها»۔(۴) اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا جانور نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمہ ہے۔
نیز ایک دوسرے آیت میں ایمان و تقویٰ کو برکات الہی کے دروازوں کے کھلنے کا سبب قرار دیا گیا ہے: «وَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرى‏ آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَ الْأَرْضِ وَ لكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْناهُمْ بِما كانُوا يَكْسِبُونَ»۔(۵) اور اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا۔ لہٰذا ہم نے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔
تیسری نصیحت: ہر حال میں خدا ہی سے لولگائے رکھنا۔
اللہ تعالٰی کی صفات میں سے ایک صفت اس کا مالک ہونا ہے وہی سب کا بادشاہ ہے سب کا اختیار اسی کے دست قدرت میں ہے ،جس مالک اور رب نے ان مخلوقات کو پیدا کیا ہے وہ ہر آن اور ہر لمحہ ان مخلوقات پر اپنی نظر عنایت رکھتا ہے اور اگر اس کی توجہ ہٹ جائے تو کوئی چیز باقی نہ بچے۔
چوتھی نصیحت: شیطان کی چال اور مکر سے حفاظت ۔
شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے چونکہ اسی انسان کو سجدہ نہ کرنے کے سبب اسے بارگاہ الہی چھوڑنا پڑی تھی چنانچہ اس نے قسم کھارکھی ہے : قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ،إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (۶) ابلیس نے کہا تیری عزت کی قسم! میں سب لوگوں کو گمراہ کروں گا۔سوائے تیرے منتخب اور برگزیدہ بندوں کے۔
مُخلص۔لام پر زیر کے ساتھ ۔ کے معنیٰ تقوی اور دل کی پاکیزگی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ بلند مرتبہ۔مُخلص۔ لام پر زبر کے ساتھ۔ کے معنی میں ہیں ،یعنی وہ افراد جنہوں نے اللہ کی راہ میں کوشش کی اللہ نے انہیں آلودگیوں سے پاک کردیا یہی وجہ ہے کہ ان کا وجود خدا سے متصل ہے۔(اتصال وجودی نہ اتصال فیزکی)اب شیطان کے ہاتھ ان تک نہیں پہونچ سکتے چونکہ غیر خدا کی ان کے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے وہ صرف اس کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس کی رضا کے علاوہ کسی دوسری چیز کے خواہاں نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔زبده الاحادیث، جلداول، ص44-45۔
۲۔غرر الحكم : ۵۷۳۹۔
۳۔ بحار الأنوار : ۷۷/۱۲۶/۳۲۔
۴۔سوره هود:6۔
۵۔ سوره اعراف: 96۔
۶۔ سوره ص:81۔82۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 july 16