Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193086
Published : 11/4/2018 18:8

خالص اسلام کی تشریح اور سیاسی حاکمیت کی تفسیر ہی امام کاظم(ع) کا مقصد تھا: رہبر انقلاب

امام موسیٰ کاظم(ع) نے اپنی پوری زندگی اس مقدس جہاد کے لئے وقف کردی تھی۔ آپ(ع) کی تعلیم و تدریس، فقہ و حدیث، اور تقیہ و تربیت اسی سمت میں (انھیں مقاصد کے لئے)تھی۔ البتہ آپ(ع) کے زمانہ کی کچھ اپنی خصوصیات تھیں لہٰذا زمانہ کے اعتبار سے آپ(ع) کے جہاد کے بھی کچھ امتیازات و خصوصیات تھے بالکل ایسے ہی جیسے امام زین العابدین(ع) سے امام حسن عسکری(ع)تک دوسرے آٹھ ائمہ(ع) کے خصوصیات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یا چند کے زمانہ کے مختصات تھے وراسی کے ساتھ ان بزرگواروں کے جہاد اور پوری زندگی کے بھی کچھ خصوصیات ہیں۔
ولایت پورٹل: منصور، ہارون، مہدی اور ہادی ہر ایک اپنے اپنے زمانہ میں امام موسیٰ کاظم(ع) کے قتل و قیداور جلاوطن کرنے پر کیوں تیار تھے؟ بعض روایات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امام(ع) نے اپنے پینتیس سالہ زمانۂ امامت میں سے زیادہ حصہ مخفی طور پر گزارا ہے، آپ شام کے کسی قریہ میں یا طبرستان کے علاقہ میں تشریف لے جاتے ہیں تو خلیفۂ وقت کے گماشتے آپ کا تعاقب کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام اپنے اصحاب سے کہتے ہیں: اگر خلیفہ تم سے میرے بارے میں معلوم کرے تو کہہ دینا کہ ہمیں نہیں معلوم وہ کہاں ہیں؟
حج کے ایک سفر میں ہارون آپ کی بہت زیادہ تعظیم کیوں کرتا ہے اور دوسرے سفر میں آپ کو قید کرکے جلاوطن کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ہارون رشید نے اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں معافی و نرمی کی پالیسی اختیار کررکھی تھی اور علویوں کو قید سے رہا کررہا تھا، اس زمانہ میں امام موسیٰ کاظم(ع) فدک کارقبہ بتاتے ہیں کہ فدک پوری اسلامی مملکت کے برابر ہے یہاں تک کہ خلیفہ تعریض(کنایہ) کی صورت میں امام سے کہتا ہے: آپ میری جگہ پر بیٹھ جائیے؟ چند سال بعد اسی نرم مزاج خلیفہ کا مزاج اتنا سخت کیوں ہوجاتا ہے کہ امام کو قیدخانہ میں ڈال دیتا ہے اور سالہا سال قیدخانہ میں رکھنے کے بعد جب آپ کے وجود کو برداشت نہ کرسکا تو زہر دے کر شہید کردیتا ہے؟
یہ اور ایسے ہی پرمعنی اور اپنی طرف متوجہ کرلینے والے سیکڑوں حادثات ہیں بظاہر جن کا آپس میں کوئی ربط نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زندگی میں اس وقت بامعنی اور ایک دوسرے سے ربط پیدا کرلیتے ہیں۔ جب ہم انہیں آپ کے عہدِ امامت کے آغاز سے شہادت کے زمانہ میں ایک برابر جاری رہنے والے سلسلہ کی صورت میں مشاہدہ کرتے ہیں، یہ سلسلہ وہی ائمۂ معصومین علیہ السلام کا جہادی راستہ ہے جو دو سو پچاس سال تک مختلف شکلوں میں جاری رہا۔ اس کا پہلا مقصد تو خالص اسلام کی صحیح تشریح اور قرآن مجید کی درست تفسیر کرنا اور اسلامی معارف کی صحیح تصویر دکھانا تھا اوردوسرا مقصد اسلامی معاشرہ میں دینی امامت اور سیاسی حاکمیت کے مسئلہ کی توضیح و تفسیر کرنا تھا۔ تیسرے معاشرہ کی تشکیل اور پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء کے مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرنا تھا، یعنی معاشرہ میں عدل وانصاف قائم کرنے اور میدانِ حکومت سے خود کے شریک بننے والوں(طاغوت)کو الگ کرنا اور زمام حکومت خدا کے صالح بندوں اور اس کے خلفاء کے سپرد کرنا تھا۔
امام موسیٰ کاظم(ع) نے اپنی پوری زندگی اس مقدس جہاد کے لئے وقف کردی تھی۔ آپ(ع) کی تعلیم و تدریس، فقہ و حدیث، اور تقیہ و تربیت اسی سمت میں (انھیں مقاصد کے لئے)تھی۔ البتہ آپ(ع) کے زمانہ کی کچھ اپنی خصوصیات تھیں لہٰذا زمانہ کے اعتبار سے آپ(ع) کے جہاد کے بھی کچھ امتیازات و خصوصیات تھے بالکل ایسے ہی جیسے امام زین العابدین(ع) سے امام حسن عسکری(ع)تک دوسرے آٹھ ائمہ(ع) کے خصوصیات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یا چند کے زمانہ کے مختصات تھے  وراسی کے ساتھ ان بزرگواروں کے جہاد اور پوری زندگی کے بھی کچھ خصوصیات ہیں جو کہ دو سو پچاس سالہ زندگی کے چوتھے دور کو تشکیل دیتے ہیں اور خود بھی چند مرحلوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
(۱۸اکتوبر:۱۹۸۹)

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19