Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193089
Published : 11/4/2018 19:40

امام موسٰی کاظم(ع) کی علمی طاقت

امام کاظم علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے مدرسہ سے بڑے بڑے علماء اور فقہاء فارغ التحصیل ہوئے، چنانچہ آپ کے اصحاب اور آپ سے حدیث نقل کرنے والے راویوںکی تعداد(۳۳۱)بیان کی گئی ہے ،ان علماء میں سے بعض آپ ہی کے دور میں علمی میدان میں فعال ہوئے جیسے بعض علماء نے امامت کے منکروں اور دوسرے تمام فرق ومذاہب کے علماء کے ساتھ مناظرے کے میدان میں قدم رکھا۔
ولایت پورٹل: راویوں اور محققین کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام کاظم (ع) اپنے زمانہ کے اعلم تھے ،آپ علوم ومعارف کی بڑی طاقت وقوت کے مالک تھے، علماء اور راوی آپ(ع) کے علوم کے چشمے سے سیراب ہوئے ، وہ امام کے زریں اقوال اور آداب کے متعلق جو فتویٰ دیتے اس کو لکھنے میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے تھے،ائمۂ اہل بیت(ع) نے سب سے پہلے تشریع اسلام میں حلال وحرام کے باب کا آغاز کیا۔(۱)
امام کاظم علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے مدرسہ سے بڑے بڑے علماء اور فقہاء فارغ التحصیل ہوئے، چنانچہ آپ کے اصحاب اور آپ سے حدیث نقل کرنے والے راویوںکی تعداد(۳۳۱)بیان کی گئی ہے ،ان علماء میں سے بعض آپ ہی کے دور میں علمی میدان میں فعال ہوئے جیسے بعض علماء نے امامت کے منکروں اور دوسرے تمام فرق ومذاہب کے علماء کے ساتھ مناظرے کے میدان میں قدم رکھا جن میں سب سے نمایاں آپ کے صحابی ہشام بن حکم تھے ،انھوں نے برَامِکہ کے ساتھ بڑے اچھے مناظرے کئے اور بلاد عباسی میں امامت کے متعلق شیعوں کے مذہب کو اصل دلیل و برہان کے ذریعہ ثابت کیا۔
امام کاظم علیہ السلام کا ایک مناظرہ
امام موسیٰ کاظم(ع)نے اپنے دشمن اور بعض یہودی اور عیسائی علماء کے ساتھ حیرت انگیز اورمحکم مناظرے انجام دیئے جو آپ کی علمی طاقت وقوت پر دلالت کرتے ہیں جو بھی آپ(ع)سے مناظرہ کرتا وہ عاجز وکمزور ثابت ہوتا، امام کے حجت ہونے کا یقین کرلیتا اور خود پر آپ کی علمی برتری کا معترف ہوجاتا چنانچہ اس کا بہترین شاہد نفیع انصاری کے ساتھ  آپ کا وہ مناظرہ ہے جو ہارون کے دربار میں ہوا۔
نفیع انصاری،امام سے کینہ و بغض رکھنے والوں میں سے تھا،جب وہ عباسی مملکتوں میں امام(ع) کا اکرام و احترام ہوتا دیکھتا تو وہ غصہ سے بھر جاتا ،جب امام(ع) ہارون کے پاس تشریف لے جارہے تھے تو ہارون کے دربان نے آگے بڑھ کر امام(ع) کا بے حد استقبال کیا، جب آپ(ع) ہارون کے پاس سے جانے لگے تو نفیع کے ساتھ عبدالعزیز نے کہا : یہ بزرگ کون ہیں؟
یہ بزرگوار ابوطالب(ع) کی اولاد سے موسی بن جعفر(ع) ہیں۔
نفیع نے کہا:میں نے اس قوم (یعنی بنی عباس)سے عاجز قوم نہیں دیکھی جو اس شخص کی اتنی ایسی تعظیم وتکریم کرتی ہے جو ان کو تخت حکومت سے نیچے اتارنے کے در پئے ہے،اب تو جان لے کہ جب یہ باہر نکلیں گے تو میں ان کو ذلیل ورسوا کروںگا۔
عبدالعزیزنے اس کو امام(ع)کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا: ایسی باتیں نہ کرو،یہ وہ اہل بیت(ع)ہیں کہ جب بھی کسی نے ان سے ایسی باتیں کی ہیں تو اس کا ایسا جواب دیاہے جو قیامت تک کوئی جواب نہ لاسکے۔
جب امام (ع) ہارون کے پاس سے نکلے تو نفیع نے آپ(ع) کے مرکب کی لگام پکڑتے ہوئے کہا: آپ(ع) کون ہیں ؟
امام(ع) نے فرمایا:اے شخص!  اگر تم میرا نسب پوچھنا چاہتے ہوتو میں اللہ کے حبیب کا فرزند ہوں اسماعیل ذبیح اللہ کا فرزند ہوں اور ابراہیم خلیل اللہ کا فرزند ہوں،اگر تم میرے وطن کے متعلق سوال کرتے ہوتو میں اس شہرکارہنے والاہوں جس میں اللہ نے مسلمانوں اور تجھ(اگر تومسلمانوں میں سے ہے )پر حج کرنا واجب قرار دیا ہے ،اگر تم ہم پر فخر کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو میدان جنگ میں ہماری قوم کے مشرکوں نے تمہاری قوم کے مسلمانوں کو اپنے برابر کا نہیں سمجھا تھا اور میدان میں صاف کہدیا تھا کہ ہمارے برابر کے افراد کو ہمارے مقابلہ کیلئے بھیجو،میرے مرکب کی لگام چھوڑدو۔(۲)
نفیع شکست کھاکر لوٹ گیا اس کو امام ؑکے بیان کئے ہوئے مطالب پر بے حد غصہ تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الفقہ الاسلامی مدخل لدراسۃ نظام المعاملات،ص۱۶۰۔
۲۔نزہتہ الناظر تنبیہ الخاطر،ص ۴۵۔

 
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21