Thursday - 2018 April 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193100
Published : 12/4/2018 11:31

امریکہ کی طرف سے جنگ کی ہاہا کار؛اس بار تو بی۔بی۔سی نے بھی شام میں کیمیکل اسلحہ استعمال کرنے کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا

صدام کی طرف سے ایران پر کیمیکل حملوں پر خاموشی سے تماشا دیکھنے والا امریکہ اس بار شام میں نہ ہونے والے حملوں پر اتنازور سے چلا رہا کہ بی ۔بی ۔سی جیسے ذرائع ابلاغ نے بھی اس کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
 
ولایت پورٹل:اس سے پہلے  امریکہ نے کیمیکل اسلحہ کی دہائی دے کر عراق پر حملہ کیا تھا، اس بار شام کی حکومت کے خلاف  بالکل اسی طرح کی  چیخ وپکار سننے کو مل رہی ہے  کہ اس نے مشرقی غوطہ میں کیمیکل حملہ کیا ہے  جس کا  نہ ہی کوئی ثبوت ہے اور نہ گواہ، حتی اقوام متحدہ کے زیر نظر کیمکل اسلحہ کے استعمال پر روک لگانے والے ادارہ نے بھی ان الزامات کو مسترد کیا ہے،غور طلب ہے کہ  یہ چیخ وپکار اس شام کے سلسلہ میں کی جارہی ہے جس نے  اقوام متحدہ کی نگرانی میں  2013ء میں اپنے تمام کیمیکل ہتھیار ختم کردیے تھے، اس کے  علاوہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر شامی حکومت کو ایسا کرنا ہی تھا کہ تو دوسال پہلے جب اس ملک کا اکثر حصہ دہشتگردوں کے قبضہ میں تھا، اس وقت کیوں نہیں کیا، اب جبکہ مشرقی غوطہ کے ایک چھوٹے سے حصہ پر’’ دوما ‘‘ دہشتگرد قابض ہیں  ، یہ حملہ کیوں کیا ہے ، ظاہر ہے کہ امریکہ جب دہشتگردوں کےذریعہ اپنے ناپاک مقاصد کو حاصل کرنے ناکام ہوگیا تو بوکھلاہٹ میں آکر اس نے اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگانا شروع کردیے ہیں تاکہ براہ راست حملہ کرنے کےلیے زمینہ فراہم کیا جاسکے،بدنام زمانہ اور مغرب کا ترجمان  ادارہ بی ۔بی۔سی بھی اپنے ایک تجزیہ میں کہتا ہے کہ   شام میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوچکا ہے، دوما وہ آخری علاقہ ہے جہاں دہشتگرد ابھی باقی ہیں لیکن یہ علاقہ بھی کئی مہینوں نے فوج کے محاصرہ ہے جس سے  مغربی طاقتوں کی آخری امید بھی ختم ہوتی نظر  آرہی ہے لہذ ان  کو ایک نئے بحران کی ضرورت ہے لہذ انھوں نے کیمیکل حملہ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے ۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 April 26