Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193108
Published : 12/4/2018 16:37

ابوطالب(ع) تاریخ کی سب سے مظلوم شخصیت

جناب ابوطالب علیہ السلام ہی وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے سب سے پہلے حبشہ کے بادشاہ کو اسلام لانے کی دعوت دی اور اسے مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر انشاء فرمایا:اے حبشہ کے فرمانروا! کیا تم جانتے ہوکہ محمد(ص) موسیٰ اور عیسٰی بن مریم(ع) جیسے ہی نبی ہیں اور وہ لوگوں کے لئے اسی طرح پیغام ہدایت لائے ہیں جیسے موسٰی و عیسیٰ(ع) لائے تھے ،یہ سب انبیاء(ع) خداوند عالم کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اور انہیں گمراہی سے نجات دیتے ہیں،آپ اس نبی(ص) کی آمد کی تصدیق اپنی کتاب میں کرچکے ہیں۔
ولایت پورٹل: حضرت ابوطالب علیہ السلام رسول اللہ(ص) کے عظیم المرتبت چچا،علی(ع) کے مہربان والد،عبد المطلب کے لائق وصی، اللہ کے رسول کے سب سے بڑے حامی اور پشت پناہ تھے۔آپ کی زندگی کی تاریخ افتخارات سے مملوء ہے،یقینی طور پر آپ دردمندوں اور محروموں کی سب سے بڑی پناہ گاہ تھے ایثار اور اخلاص آپ کی ذات والا صفات میں اس طرح مجسم تھا کہ پوری تاریخ ایسی فداکاری صرف آپ کے بیٹے علی مرتضی کے علاوہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
قارئین! اسی موضوع سے متعلق یہ لنکس بھی دیکھی جاسکتی ہیں:
شعب ابو طالب میں آل ابو طالب(ع)
ایمان ابو طالب(ع)
ان تمام صفات کے باوجود اہل سنت کی کچھ کتابوں میں کچھ ایسے ناروا جملے آپ کے لئے ملتے ہیں جن سے آپ کے تئیں مؤلفین کی کم لطفی کا پتہ چلتا ہے۔بغیر شک و تردید کہ اگر اتنے گواہ کسی اور کے ایمان پر ہوتے تو تمام عالم اسلام متفق طور پر اس کے ایمان و اسلام کا چار دانگ عالم میں ڈنکا پیٹتے پھرتے لیکن ان سب محکم دلائل کے باوجود کچھ ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو آپ کے کفر اور عذاب کی رٹ لگائے ہوئے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ جو آیات، عذاب قیامت کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ سب ابوطالب کے لئے نازل ہوئی ہیں۔(معاذ اللہ)
اب سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ(ایمان ابوطالب علیہ السلام) کب اور کن عوامل کے تحت وجود میں آیا؟
محققین کا ماننا ہے کہ سب سے پہلے یہ مسئلہ معاویہ کے دور حکومت میں اس کی طرف سے اٹھایا گیا۔ جیسا کہ تاریخ سے اطلاع رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ معاویہ کہ نہ جس کا نسب پاک تھا اور نہ جس میں انسانی کرامت و شرافت پائی جاتی تھی چنانچہ اس نے اپنے منافق اور موقع پرست باپ ابوسفیان کو مسلمان بلکہ صحابی رسول تک ثابت کرنے کے لئے یہ حربہ استعمال کیا کہ علی(ع) کے والد ماجد کی طرف تمام روشن دلائل کے باوجود کفر کی نسبت دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تاکہ وہ مسلمانوں کے درمیان ایک مناسب مقام اور برتری پیدا کر اپنی حکومت کو باقی رکھ سکے۔(۱)
سابقہ بیان سے یہ بخوبی روشن ہوجاتا ہے کہ اس مسئلہ کو بطور شبہہ پیش کرنے کا مقصد اولاد ابوطالب(ع) اور خاص طور پر علی(ع) کو طعن و تشنیع کرنا تھا اور یہی وجہ ہے کہ جن اہل سنت علماء نے معاویہ کی نمک خواری کا حق ادا کیا انہوں نے اپنی کتابوں میں ابوطالب کو کافر لکھا دیا اور صرف یہی نہیں بلکہ معاویہ کی فضیلت گھڑنے کی خاطر انہوں نے خود سرکار ختمی مرتبت(ص) کے والدین ماجدین سمیت جملہ آباء و اجداد کو بھی کافر رقم کرنے تک میں کسی تقدس اور رواداری کا لحاظ نہ کیا۔
قارئین کرام! ہم اس موضوع کی تحقیق کے لئے خود حضرت ابوطالب علیہ السلام کے کردار اور آپ کی عملی زندگی کے کچھ روشن گوشوں کی طرف اشارہ کرتے:
۱۔جناب ابوطالب علیہ السلام ہی وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے سب سے پہلے حبشہ کے بادشاہ کو اسلام لانے کی دعوت دی اور اسے مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر انشاء فرمایا:اے حبشہ کے فرمانروا! کیا تم جانتے ہوکہ محمد(ص) موسیٰ اور عیسٰی بن مریم(ع) جیسے ہی نبی ہیں اور وہ لوگوں کے لئے اسی طرح پیغام ہدایت لائے ہیں جیسے موسٰی و عیسیٰ(ع) لائے تھے ،یہ سب انبیاء(ع) خداوند عالم کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اور انہیں گمراہی سے نجات دیتے ہیں،آپ اس نبی(ص) کی آمد کی تصدیق اپنی کتاب میں کرچکے ہیں۔
۲۔ابن اثیر نقل کرتے ہیں کہ ایک دن جناب ابوطالب(ع) کہ دیکھا کہ محمد و علی علیہما السلام مستحبی دونوں نماز پڑھنے میں مشغول ہیں۔(۲) اس حالت میں کہ علی رسول(ص) کی داہنی جانب کھڑے ہیں آپ نے اپنے بیٹے جعفر سے کہا کہ جاؤ اور تم بھی بائیں جانب جاکر نماز پڑھو۔(۳)
۳۔جب قریش نے رسول اللہ(ص) کے مشن تبلیغ کو روکنے کی غرض سے تمام بنی ہاشم کے خلاف سوشل بائیکاٹ کیا اور ایک نوشتہ لکھ کر کعبہ میں لٹکایا ،حضرت ابوطالب اپنے پورے قبلے کو لیکر شعب ابی طالب میں چلے گئے اور دل و جان سے مسلسل 3 برس تک اللہ کے رسول کی دن رات حفاظت کی۔اور علامہ مجلسی کے بقول: جب رات کا سناٹا چھا جاتا اور تمام لوگ سو جاتے تو حضرت ابوطالب(ع) سرکار کو آپ کے بستر سے اٹھاتے اور آپ کی جگہ علی(ع) کو لٹا دیتے تھے اور تمام بنی ہاشم کے جوانوں کو یہ حکم دیتے کہ چاہے ہمارا پورا خاندان قتل ہوجائے لیکن محمد (ص) پر کوئی آنچ نہ آئے۔(۴)
۴۔جب حضرت ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت فرمائی :میں تمہیں محمد(ص) کی اطاعت اور حمایت کی وصیت اور تاکید کرتا ہوں چونکہ وہ قریش کے امین،عرب میں سب سے زیادہ سچے اور تمام کمالات کے حامل ہیں۔وہ ایسا دین لیکر آئے ہیں جس کی عظمت کے سامنے دل تسخیر ہیں لیکن زبانیں طعنوں کے خوف سے انکار کرتی ہیں۔
قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابوطالب(ع) کی آفاقی شخصیت کو سمجھنے کے لئے تعصب کی عینک کو اتار کر حقیقت جو نظریں پیدا کرنی ہونگی آپ صرف مؤمن اتم ہی نہیں بلکہ اللہ کے خاص ولی  بھی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ سید مجید پورطباطبایی، ابوطالب تجلی ایمان، انتشارات شهریار، 1375، ص 165۔
۲۔شیعه شناسی و پاسخ به شبهات، ص 669-670۔
۳۔چونکہ واجب نمازوں کا حکم ہجرت کے بعد آیا ہے۔
۴۔ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج 13، ص 272۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17