Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193156
Published : 15/4/2018 16:35

بعثت انسان پر اللہ کا عظیم احسان

سرکار کی بعثت کے طفیل دنیا میں یہ تبدیلیاں آئیں کہ جو لوگ صرف روٹی پانی اور بچکانہ وجوہات کی بنیاد پر لڑتے تھے اب اسلام لانے کے بعد ان میں سب سے بڑا انقلاب یہ آیا کہ اب وہ دین، عقیدہ،اور اپنے وطن اور ناموس کے لئے جہاد کرنے لگے۔ یہ تمدنی اور تہذیبی تبدیلی سب کے لئے بعثت سرکار کا ایک عظیم تحفہ تھی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج ایک عظیم دین ہے ۔ آج ہی کے دن اللہ نے بشریت پراحسان عظیم فرمایا یعنی اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کو منصب رسالت پر فائز کیا اور آپ پر قرآن مجید کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ شاید ہم ابتداء سے مسلمان ہیں ہمیں یہ احساس نہیں کہ رسول اللہ(ص) کی بعثت نے ہمیں کیا دیا لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ رسول اللہ(ص) سے پہلے دنیا کس حالت میں تھی؟ جس کے سبب اللہ نے ضروری سمجھا کہ ایک ایسے نبی کو مبعوث کرے جو لوگوں کی زندگی ہی بدل دے۔
ہماری مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے ہم کسی دریا کے کنارے کھڑے ہوکر اس میں تیرتی مچھلیوں کا نظارہ کررہے ہوں،کہ جن کی پوری زندگی پانی میں ہے اور وہ کس لذت سے لطف اندوز ہورہی ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ اگر اسلام نہ ہوتا اگر یہ مقدس دین نہ ہوتا، اگر اس زمین کے نا امن شور شرابوں کے درمیان، آسمان کا راستہ ہمارے لئے کھلا نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
پیغمبراکرم(ص) کی بعثت کا فلسفہ مکارم اخلاق کی تکمیل
امام زمانہ(عج) کی زبانی مقصد بعثت
قارئین کسی بھی واقعہ اور قضیہ کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ اس وقت لگایا جاسکتا ہے جب اس کے نہ ہونے اور فقدان کا تصور کرتے ہوئے خود سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر یہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
اب ہم رسول خدا(ص) کی بعثت کے متعلق بھی یہ سوال قائم کرسکتے ہیں کہ اگر یہ نعمت حاصل نہ ہوتی تو دنیا میں کیا ہورہا ہوتا؟ یا رسول خدا(ص) سے پہلے کی دنیا کیسی تھی؟
ظاہر ہے ہمیں یہ جواب پانے کے لئے تاریخ سے مدد لینی ہوگی لیکن کون سی تاریخ؟ ایسی دقیق اور حقیقی تاریخ جس کا نقل کرنے والا معصوم ہو ،جس میں کسی طرح کی غلطی اور خطا کا احتمال نہ پایا جائے۔
چنانچہ اہل بیت عصمت و طہارت(ع) سے رسول خدا(ص) کی عظمت کے متعلق بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں کہ جن میں رسول اللہ(ص) سے پہلے کے حالات کی مکمل طور پر منظر کشی کی گئی ہے جیسا کہ خود امیرالمؤمنین(ع) رسول اللہ(ص) سے پہلے دنیا کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسی دنیا تھی جس میں غفلت حاکم تھی اور اجتماعی نظم و نسق کا کہیں نام و نشان موجود نہیں تھا۔(۱)
شاید جاہلی زمانہ میں ان لوگوں کے نزدیک سب سے مانوس چیز جنگ و جدال تھی۔(۲) اس زمانہ کی فضا بالکل ویسے ہی تاریک اور ناامید کردینے والی تھی جیسے سورج کو گہن لگ جانے کے وقت میں ہوتا ہے۔(۳) اس میں شیطان کی عبادت کی جاتی تھی۔(۴) سرکار سے پہلے لوگوں میں اختلاف اور عقیدتی بے راہ روی اپنے بام عروج پر تھی۔(۵)
مذکورہ صفات،صرف ایک ادبی متن اور ہنرمندی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی زندگی سے عبارت ہے جو عین واقعیت اور حقیقت پر مبنی ہے۔ان حقائق کی آشنائی کے بعد ہم بہتر طور پر یہ درک کرسکتے ہیں کہ سرکار کی بعثت کے طفیل دنیا میں کیا تبدیلیاں آئیں۔وہ لوگ کہ جو صرف روٹی پانی اور بچکانہ وجوہات کی بنیاد پر لڑتے تھے اب اسلام لانے کے بعد ان میں سب سے بڑا انقلاب یہ آیا کہ اب وہ دین، عقیدہ،اور اپنے وطن اور ناموس کے لئے جہاد کرنے لگے۔ یہ تمدنی اور تہذیبی تبدیلی سب کے لئے بعثت سرکار کا ایک عظیم تحفہ تھی۔
سرکار ختمی مرتبت(ص) نے بعثت سے پہلے اسی معاشرہ میں انہیں لوگوں کے درمیان زندگی گذاری اور آپ کو امین و صادق کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن وحی الہی کے سرچشمہ سے متصل ہونے کے بعد آپ نے اپنے دین کی بنیاد جس قانون کا قرار دیا وہ بہت اہم ہے فرمایا: بعثت لاتمم مكارم الاخلاق، میں مکارم اخلاق کو تکمیل کرنےکے لئے مبعوث ہوا ہوں۔(۶) یعنی اگر بعثت نہ ہوتی اور اسلام کا مقدس نظام نہ ہوتا  تو اتمام و اکمال مکارم اخلاق کبھی وقع پذیر نہ ہوتا
لہذا آج رسول اللہ(ص) کی بعثت کے اس عظیم موقع پر ہم اگر عبرت کی نگاہ سے اس دنیا کو دیکھیں تو ہمیں یہ زمانہ سرکار کی بعثت سے پہلے والے زمانہ سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتا بلکہ ہمارے یہاں بھی ابھی بہت سی وہی مشکلات پائی جاتی ہیں۔اب ہم اس کا کچھ بھی نام رکھ لیں چاہے یہ کہہ دیں کہ تاریخ اپنے کو دہرا رہی ہے یا یہ کہ یہ بھی اس سنت الہی کا ایک حصہ ہے جس میں شیطان رجیم بنی نوع انسان کو بہکا رہا ہے بہر حال! ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں اسلام کی وہ عظیم رسالت اور ذمہ داری ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ اس سلسلہ کا تسلسل آج بھی جاری ہے اور ہم ان لوگوں کی طرح بھی اس دنیا کی طرف نہیں دیکھ سکتے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ اس چکا چوندھ کردینے والی ترقی اور علم تک انسان پہونچ چکا ہے،چونکہ ترقی تو ہر پہلو سے ہونی چاہیئے تھی بھلا یہ کون سی ترقی جہاں انسان ہی قعر ضلالت میں گر جائے اور تمام اقدار فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1- طُولِ هَجعَة مِنَ الاُمَمِ ، وَ انتِشار مِنَ الاُمُورِ (نهج البلاغه، خطبه 89)
2- وَ تَلَظٍ مِنَ الحُرُوبِ (نهج البلاغه، خطبه 89)
3- وَالدُنیا کاسِفَةُ النُورِ، ظاهِرَةُ الغُرُورِ، عَلى حینِ اصفِرار مِن وَرَقِها، وَ اِیاس مِن ثَمَرِها، وَ اغوِرار مِن مائِها (نهج البلاغه، خطبه 89)
4-نهج البلاغه، خطبه 147)
5-نهج البلاغه، خطبه 1۔
6-بحارالانوار، ج70، ص 372۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20