Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193161
Published : 15/4/2018 18:22

اسراء اور معراج

پیغمبر اسلام(ص) کے ان دونوں سفر کا مقصد یہ تھا کہ خداوند عالم کی عظمت کی نشانیوں کو اس وسیع و عریض کائنات اور آسمانوں میں آپ(ص) مشاہدہ کریں اور فرشتوں اور پیغمبروں کی روحوں سے ملاقات ،بہشت و دوزخ کے اندر کا ماحول ،اور اہل بہشت اور ان کے درجات وغیرہ کا مشاہدہ فرمائیں جیسا کہ خداوند عالم نے سورۂ اسراء میں اس بات کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے۔

ولایت پورٹل: پیغمبر اسلام(ص) کا بطور اعجاز راتوں رات مکہ سے بیت المقدس کی طرف سفر کرنا (اسراء) اور وہاں سے خداوند عالم کی قدرت کاملہ کے ذریعہ آسمانوں کا سفر کرنا (معراج) کہلایا اور ان دونوں واقعات کو مکہ کے واقعات میں شامل کیاگیا ہے۔کیونکہ یہ دونوں واقعات ،مکی سوروں میں نقل ہوئے ہیں لیکن وقوع واقعہ کے سال میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام(ص) کے ان دونوں سفر کا مقصد یہ تھا کہ خداوند عالم کی عظمت کی نشانیوں کو اس وسیع و عریض کائنات اور آسمانوں میں آپ(ص) مشاہدہ کریں اور فرشتوں اور پیغمبروں کی روحوں سے ملاقات ،بہشت و دوزخ کے اندر کا ماحول ،اور اہل بہشت اور ان کے درجات وغیرہ کا مشاہدہ فرمائیں جیسا کہ خداوند عالم نے سورۂ اسراء میں اس بات کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے:
’’پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے اطراف کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھلائیں۔بیشک وہ پروردگار سب کی سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے‘‘۔(۱)
اللہ کے رسول(ص)    نے اس سفر میں جن مراحل کو طے کیا اس کو بیان کرنے کے بعد ’’معراج‘‘کے بارے میں بھی فرمایا:’’اس(پیغمبر) نے اپنے پروردگار کی کچھ بڑی نشانیاں دیکھی ہیں‘‘۔(۲)
ساتویں امام حضرت موسٰی کاظم(ع) سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جب خدا مکان نہیں رکھتا تو پیغمبر(ص) کو آسمانوں پر کیوں لے گیا،تو آپ(ع) نے فرمایا:خداوند عالم زمان و مکان سے مبرا ہے، اس نے چاہا کہ پیغمبر(ص) کے ذریعہ فرشتوں اور آسمانوں کے ساکنوں کو عزیز اور بزرگ قرار دے اور آپ(ص) ان کامشاہدہ کریں اور یہ بھی چاہا کہ آپ کو اپنی عظمت کی نشانیوں کا نظارہ کرائے تاکہ آپ وہاں سے زمین پر آنے کے بعد لوگوں سے سارا ماجرا بیان کریں اور یہ فعل ہرگز اس معنی میں جیسا کہ فرقۂ مشبّہ کہتے ہیں اور خداوند عالم ، جسم ، مادہ اور مکان سے منزہ ہے۔(۳)
روایات معراج کی تحلیل اور ان کا تجزیہ
پیغمبر اکرم(ص) کے آسمانی سفر کے بارے میں بہت ساری روایات نقل ہوئی ہیں جس کو طبرسی (مشہورو معروف مفسر )نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے:
۱۔وہ روایات جو متواتر ہونے کی بنا پر قطعی اور مسلّم ہیں جیسے اصل معراج۔
۲۔وہ روایات جن میں ایسی باتوں کا تذکرہ ہوا ہے جس کو قبول کرنا عقل کی رو سے قباحت نہیں رکھتا ہے اور جو کسی مسلّم دستور کے خلاف نہیں ہیں جیسے آسمانوں میں پیغمبر(ص) کا سفر کرنا ،پیغمبروں کی زیارت اور بہشت و دوزخ وغیرہ کا نظارہ۔
۳۔ایسی حدیثیں جن کا ظاہر،ان مسلّم اصولوں کے خلاف نہیں ہے جو آیات یا اسلامی روایات سے ماخوذ ہیں لیکن اس کے باوجود وہ قابل تأویل وتوجیہ ہیں۔اس طرح کی حدیثوں کی ایسی تأویل کرنا چاہیئے جو صحیح اعتقاد اور محکم دلیل کے موافق ہو جیسے وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر(ص) نے اہل بہشت کے ایک گروہ کو بہشت میں اور اہل دوزخ کے ایک گروہ کو دوزخ میں دیکھا ہے ان مناظر کے بارے میں کہا جائے کہ یہ ایک طرح سے بہشت اور دوزخ واقعی کی مثال اور صورت تھی۔
۴۔ایسے مطالب جو ظاہراً قابل قبول نہیں ہیں اور قابل تأویل و توجیہ بھی نہیں ہیں ۔جیسا یہ کہ پیغمبر(ص) نے اس سفر میں خدا کو چشم ظاہری سے دیکھا اور اس سے باتیں کیں اور تخت الٰہی پر اس کے بغل میں بیٹھے۔ اس طرح کی مطالب باطل اور بے بنیاد ہیں۔(۴)
علمائے امامیہ کے عقیدہ کے مطابق پیغمبراسلام(ص) کی معراج جسمانی تھی یعنی وہ اپنے ’’جسم‘‘اور ’’روح‘‘کے ساتھ سفر پر گئے تھے۔(۵)
اسلامی روایات کی بنیاد پر روزانہ کی پنچگانہ نماز معراج کے سفر میں واجب ہوئی ہیں۔(۶) اگر معراج سے قبل پیغمبر اسلام(ص) یا علی(ع) کو نماز پڑھتے دیکھا گیا یا ان سے نماز نقل ہوئی تو وہ نماز غیر واجب یا ایسی نمازیں تھیں جو روزانہ کی پنچگانہ نماز کے شرائط اور خصوصیات کے مطابق نہیں تھیں۔(۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورۂ اسراء :۱۔
۲۔لقد رأی من آیات ربہ الکبریٰ(سورۂ نجم: ۱۸)۔
۳۔بحرانی ،تفسیر البرہان ،(قم:دارالکتب العلمیہ،۱۳۹۳ھ)ج۲،ص۴۰۰۔
۴۔مجمع البیان،(تہران: شرکۃ المعارف)،ج۶،ص۳۹۵،تفسیر آیۂ سورۂ اسراء۔
۵۔مجلسی ،ایضاً،ج۱۸،ص۲۹۰،تفسیر نمونہ ،ج۱۲،ص۱۷ کے بعد آج کے علمی قوانین کے اعتبار سے واقعۂ معراج کا رونما ہونا ممکن ہے رجوع کیجئے:تفسیرنمونہ،ج۱۲،ص۳۰،۱۷،فروغ ابدیت، ج۲، ص۳۹۴۔
۶۔کلینی،الفروع من الکافی،(تہران:دارالکتب الاسلامیہ)ط۲،۱۳۶۲)ج۳،ص۴۸۷۔۴۸۲،ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج۱، ص۲۱۳، صحیح بخاری، تحقیق: الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی(بیروت:دارالقلم ، ط۱، ۱۴۰۷ ھ۔ق)ج۵، مناقب الانصار، باب ۱۰۴، ص۱۳۴۔۱۳۲؛ شیخ محمد بن حسن حرعاملی، وسایل الشیعہ (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ط۴) ج۳، کتاب الصلاۃ، ص۷، حدیث۵، ص۳۵،حدیث۱۴، ص۶۰، حدیث ۶، مجلسی ،ایضاً،ج۱۸،ص۳۴۸، سیدہاشم بحرانی ،ایضاً،ج۲،ص۹۳۳۔
۷۔ علامہ امینی،الغدیر،ج۳،ص۲۴۲۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20