Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193165
Published : 15/4/2018 19:57

امام حسین(ع) کے قیام کا عنوان ہی اصلاح ہے: رہبر انقلاب

اس قیام و خروج کا عنوان ہی اصلاح ہے۔ میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں،یہ وہی کام ہے جو امام حسین(ع) سے پہلے انجام پذیر نہیں ہوا ہے۔ یہ اصلاح خروج کے طریقہ سے ہے، یہ خروج یعنی قیام کرنا، ڈٹ جانا، امام حسین(ع) نے اپنے اس وصیت نامہ میں تقریباً اِنھیں معانی کی تصریح کی ہے یعنی اولاً ہم قیام کرنا چاہتے ہیں اور ہمارا یہ قیام بھی اصلاح کے لئے ہے۔

ولایت پورٹل: محمد حنفیہ سے امام حسین(ع) کی گفتگو مدینہ سے جاتے ہوئے بھی ہوئی اور مکہ سے نکلتے بھی ہوئی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ گفتگو اس وقت کی ہے کہ جب آپ(ع)مکہ سے نکلنا چاہتے تھے، ماہ ذی الحجہ ہے اور محمد حنفیہ بھی مکہ آئے ہوئے ہیں، امام حسین(ع) سے بہت سی باتیں ہوئیں لیکن جو چیز آپ(ع) نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو بعنوان وصیت لکھ کر دی ہے اس میں خدا کی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ حضرت اس طرح رقمطراز ہیں:« اِنِّی لَمْ اَخْرُجْ اَشِرًا وَلا بَطِراً وَلَامُفْسِداً وَلَا ظَالِماً»۔
شک کرنے والوں کو شک نہیں کرنا چاہیئے اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو پروپیگنڈہ نہیں کرنا چاہیئے کہ حسین(ع) نے ان لوگوں کی طرح خروج کیا تھا جو ملک کے گوشہ و کنار سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے خروج کرتے ہیں اور خودنمائی، عیش و عشرت اور ظلم و فساد برپا کرنے کے لئے میدان میں آتے ہیں اور نتیجہ میں جنگ ہوتی ہے۔ نہیں! ہماراکام ایسا نہیں ہے:«وَاِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْاِصْلَاحِ فِی اُمَّۃِ جَدِّی»
اس قیام و خروج کا عنوان ہی اصلاح ہے۔ میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں،یہ وہی کام ہے جو امام حسین(ع) سے پہلے انجام پذیر نہیں ہوا ہے۔ یہ اصلاح خروج کے طریقہ سے ہے، یہ خروج یعنی قیام کرنا، ڈٹ جانا، امام حسین(ع) نے اپنے اس وصیت نامہ میں تقریباً اِنھیں معانی کی تصریح کی ہے یعنی اولاً ہم قیام کرنا چاہتے ہیں اور ہمارا یہ قیام بھی اصلاح کے لئے ہے، اس لئے نہیں ہے کہ ہم حتماً حکومت حاصل کریںگے اور نہ اس لئے ہے کہ ہم حتماً شہید ہوںگے۔ ہرگز؛ ہم اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ اصلاح کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان حکومت حاصل کرلیتا ہے اور خود زمام حکومت سنبھال لیتا ہے اور کبھی اس کام کو انجام نہیں دے پاتا ہے۔ شہید ہوجاتا ہے۔ البتہ دونوں قیام اصلاح کے لئے ہیں پھر فرماتے ہیں:«اُرِیْدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُسِیْرَ بِسِیْرَۃِ جَدِّی»۔یہ اصلاح امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا مصداق ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13