Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193184
Published : 16/4/2018 15:35

امام حسین(ع) نے کیوں مدینہ چھوڑا؟

امام حسین(ع) کا مقصد اسلام کی بقا تھی چونکہ آپ دیکھ رہے تھے اگر یہ حکومت اسی طرح اور اسی کیفیت میں جاری رہی تو پھر اسلام کا کہیں نام و نشان نہیں بچے گا اور حضرت نے خود ولید کے دربار میں جو ایک جملہ اپنی گفتگو کے درمیان فرمایا:اگر میں یزید کی بیعت کرلوں تو پھر اسلام کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے۔

ولایت پورٹل: رجب سن ۶۰ ہجری میں امیر شام معاویہ بن ابی سفیان کی ہلاکت کے بعد اس کا بیٹا یزید مسند خلافت پر براجمان ہوا تو اس نے تمام اسلامی قلمرو میں پھیلے اموی نمائندوں کو یہ حکم دیا کہ اس کے لئے مسلمانوں اور خاص طور پر عالم اسلام کی اہم اور سربرآوردہ شخصیات سے  بیعت لی جائے۔
چنانچہ یزید نے متعدد خطوط لکھے وہیں ایک خط مدینہ کے والی ولید بن عتبہ کے نام بھی لکھا اور اسے مرگ معاویہ کی اطلاع دینے کے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ مدینہ کی مشہور اور معروف ہستیوں سے بیعت لے۔ لہذا اس خط  کے مضمون کا ایک حصہ یہ بھی تھا:اما بعد! بغیر کسی نرمی اور بخشش کے حسین بن علی،عبد اللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے بیعت لے لے اور اگر وہ بیعت نہ کریں تو انہیں کسی قسم کی مہلت نہ دینا۔(۱)
ولید نے یزید کا خط ملنے کے بعد یہ کوشش کی کہ کسی طرح یزید کے مخالفین سے مسالمت آمیز طریقہ سے بیعت لے لی جائے لیکن اس کی کوششیں کام نہ آسکیں چونکہ بیعت کے سلسلہ میں عبداللہ بن عمر کا موقف یہ تھا کہ میں اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کروں گا جسے تمام مسلمان اپنا خلیفہ تسلیم کرتے ہوں لہذا اگر تمام عالم اسلام یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلے تو مجھے بھی بیعت کرنے میں کوئی عار نہیں ہوگی۔(۲)
عبداللہ بن زبیر نے بھی بیعت سے انکار کر رات و رات مکہ کی طرف فرار اختیار کیا اس طرح کے حکومتی کارندے اسے پکڑ نہیں سکے۔
لیکن امام حسین(ع) ولید کے بلواے پر اس کے گھر گئے اور اس سے گفتگو کی چنانچہ حضرت نے ان الفاظ میں اپنے موقف کا اظہار فرمایا:ايها الامير! انّا اهل بيت النّبوّه و معدن الرسالة و مختلف الملائكة، بنا فتح الله و بنا ختم الله و يزيد رجل فاسق، شارب الخمر، قاتل النفس المحترمة، معلن بالفسق، و مثلي لايبايع مثله، ولكن نصبح و تصبحون و ننظر و تنظرون أيّنا أحق بالخلافة والبيعة؟(3) اے ولید ہم خاندان نبوت اور معدن رسالت ہیں اور ہم وہ ہیں جن کے گھروں میں فرشتے آمد و رفت کرتے ہیں خداوندعالم نے اپنی رحمت کا آغاز ہم سے کیا اور ہمارے ہی ذریعہ اسے اتمام کرے گا ۔اور تم یزید کی بات کرتے ہو وہ تو ایک فاسق،شرابخور،خونریز،علی الاعلان فسق و فجور کرنے والا آدمی ہے اور مجھ جیسا اس جیسے کی کسی حال بیعت نہیں کرسکتا۔تم بھی صبح ہونے کا انتظار کرو اور ہم بھی کرتے ہیں تم بھی غور و فکر کرو،ہم بھی سوچیں گے کہ ہم (مجھ اور یزید کے درمیان) میں کون بیعت اور خلافت کے لئے زیادہ مستحق ہے!!!
امام حسین(ع) ولید کی بے جا توقعات اور مروان بن حکم کے مکر و فریب کے روبرو تھے اور اگر آپ مدینہ ٹہر بھی جاتے تو آپ کو لا محالہ ان دو کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔(1) یا تو آپ یزید کی بیعت کرلیتے اور اپنی اور اپنے اہل بیت کی جان بچا لیتے ۔(2) یا آپ امویوں سے علی الاعلان مقابلہ اور جنگ کے میدان میں کود پڑتے اور جس کا نتیجہ صاف تھا کہ آپ کو قتل کردیا جاتا ۔
اب سوال یہ ہے کہ قتل تو آپ کو کربلا میں بھی کردیا گیا؟
یہ بات تو صحیح ہے کہ آپ کربلا پہونچ کر بھی قتل و شہید ہی ہوئے لیکن آپ کا جو مقصد کربلا میں پورا ہوا وہ مدینہ میں کبھی پورا نہ ہوتا اور وہ مقصد یہ تھا کہ تمام عالم اسلام اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام پہونچ جائے کہ یزید اور امویوں کی خلافت و حکومت نا حق ہے۔
ہاں! امام حسین(ع) کا فیصلہ تو کچھ اور ہی تھا اور وہ یہ کہ آپ مدینہ سے ہجرت کرجائیں ،ایسی عظیم اور مقدر ساز ہجرت کہ جس نے آنے والی نسلوں اور تحریکوں کا رخ ہی موڑ دیا۔
چنانچہ امام حسین(ع) شب ۲۸ رجب سن ۶۰ ہجری کو عمرہ کی غرض سے مکہ معظمہ روانہ ہوگئے۔(4) اور جب حضرت مدینہ سے جارہے تھے تو آپ کے لب ہائے مبارک پر قرآن مجید کی یہ آئیہ کریمہ تھی جسے حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس وقت پڑھا جب آپ فرعون اور فرعونیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر اپنا وطن چھوڑ کر جارہے تھے:«فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ، قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ»۔(5)
ترجمہ: چنانچہ موسیٰ وہاں سے خوفزدہ ہوکر نتیجہ کا انتظار کرتا ہوا نکلا (اور) کہا اے میرے پروردگار! مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔
جیسا کہ آپ واقف ہیں کہ امام حسین(ع) کا مقصد اسلام کی بقا تھی چونکہ آپ دیکھ رہے تھے اگر یہ حکومت اسی طرح اور اسی کیفیت میں جاری رہی تو پھر اسلام کا کہیں نام و نشان نہیں بچے گا اور حضرت نے خود ولید کے دربار میں جو ایک جملہ اپنی گفتگو کے درمیان فرمایا یہ بھی تھا:«إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ وَ عَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيد»۔(6)  جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت کا مقصد کیا ہے یعنی اگر میں یزید کی بیعت کرلوں تو پھر اسلام کی فاتحہ پڑھ لینا چاہیئے۔
..........................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔معالم المدرسيتن (سيد مرتضي عسكري)، ج 3، ص 55
2۔ سابق حوالہ، ص 57
3۔سابق حوالہ
4۔الارشاد، ص 375
5۔سوره قصص:21
6۔ بحارالأنوار،ج44 ،ص326



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10