Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193194
Published : 16/4/2018 19:1

جہیز کی آگ سے بلند ہوتے شعلے

دولت مندوں نے اپنی شان و شوکت کے اظہار کے جہاں متعدد ذرائع اپنائے وہیں اپنی اولاد کی شادیوں میں جہیز کو بھی اہمیت دی۔اگرچہ یہ بلا ثروتمندوں سے شروع ہوئی تھی لیکن آہستہ آہستہ ہمارے سماج کے ہر فرد تک سرایت کرچکی ہے اور مزے کی بات یہ کہ زیادہ تر اعلٰی جہیز کے مطالبے بھی کسی غریب اور نادار کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ ڈاکٹر انجینئر،اور اعلٰی کوالیفائیڈ لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں اب یہ سمجھ میں نہیں آتا اگر ان لوگوں کو پڑھ لکھ کر بھی یہی کرنا تھا تو ایسی پڑھائی کا کیا فائدہ ہوا؟
ولایت پورٹل: یقیناً زندگی کی شروعات کرنے کے لئے کچھ جدید سامان اور وسائل کی ضرورت پڑتی ہے کہ جن میں ابتدائی ضروریات کے سامان کی فراہمی سب سے پہلی ترجیحات میں شامل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے:
عریانیت اور جہیزکی آگ میں جلتی دنیا

حضرت زہرا(س) کا جہیز اور آج کی رسومات

عقلی و منطقی طور پر اس سامان کو فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں افراد پر ہوتی ہے جنہیں انہیں استعمال کرنا ہے اور اس وجہ سے کہ شریعت اسلام میں پورے گھر کی اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری مرد کے کاندھوں پر ہے تو  شرعی نقطہ نگاہ سے خواتین اپنے جہیز کو فراہم کرنے کے سلسلہ میں مطلق ذمہ دار نہیں ہیں:«الرِّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ وَ بِما أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوالِهِمْ ...»(سوره نساء: 34)
ترجمہ: مرد عورتوں کے محافظ و منتظم (حاکم) ہیں (ایک) اس لئے کہ اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی ہے اور (دوسرے) اس لئے کہ مرد (عورتوں پر) اپنے مال سے(نفقہ اور مہر میں) خرچ کرتے ہیں۔
لہذا اس آیت کریمہ کی رو سے جہیز چونکہ میاں بیوی کی زندگی کا جزء ہے تو اس کا فراہم کرنا بھی مرد پر ہی ضروری ہوگا۔لہذا کسی بھی طور پر اس کا تعلق دلہن اور اس کے گھر والوں سے نہیں ہوتا۔
جہیز دلہن کو والدین کا ایک تحفہ
اب رہی یہ بات کہ ہمارے سماج میں تو یہ دستور اس کے برعکس ہے اور لڑکی کے سسرال والے یہ آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ سونئی سے لیکر جہاز تک دلہن اپنے ساتھ لیکر آئے گی اور اکثر ایسا محسوس بھی ہوتا ہے کہ جیسے اس مقدس بندھن(شادی) میں فضائل و اقدار کا کوئی نام و نشان ہی نہ ہو ،اور لڑکی کی اہمیت جہیز کی فراوانی سے موازنہ کی جاتی ہے۔
یاد رکھئے! سب سے پہلا قانون ہی یہی ہے کہ جو شخص بیوی کا ذمہ دار اور کفیل ہے وہی اس کے اخراجات بھی پورا کرے والدین نہیں ،البتہ اگر والدین اپنی مرضی سے اپنی لڑکی کو فرط محبت میں اس نئی زندگی کے آغاز کے موقع پر کچھ عنایت کریں تو یہ صرف ان کی محبت اور تحفہ ہے لڑکے یا اس کے گھر والوں کو کسی صورت یہ حق نہیں پہونچتا کہ وہ ان سے جہیز کا مطالبہ کرے۔
بھلا یہ کیا کم ہے جن والدین نے اپنی نازوں کی پلی بیٹی اور جگر کے ٹکڑے کو آپ کے حوالہ کردیا ہو ان سے اب کس چیز کی توقع رکھی جارہی ہے؟
والدین بھی اپنی جگہ سچے ہیں کہ اگر بیٹی کو جہیز کم دیا تو اس کے سُسرال والے اُس کا جینا دو بھر کر دیں گے۔معاشرے میں اونچی سوسائٹی والوں نے جہیز کو متعارف کروایا ہے اور اسی طرح شادی کو ایک کاروباری شکل دے دی گئی ۔اس غلط رسم کا سب سے زیادہ مڈل طبقہ شکار ہو رہا ہے جو کوڑی کوڑی کا مقروض ہوکر اپنی بیٹی کے لئے خوشیاں خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ خوشیاں جہیز سے نہیں خریدی جا سکتیں۔کتنے ایسے گھرانے ہیں جو بغیر جہیز کے بھی خوش وخرم زندگیاں بسرکر رہے ہیں اور بہت سے بھاری بھرکم جہیز لانے کے باوجود بھی سکون سے نا آشنا ہیں۔
ہمارے سماج میں یہ غلط رسم کہاں سے آئیں؟
جیسا کہ ہم نے بیان کیا بیوی کے تمام ذمہ داریاں مرد کی گردن پر ہیں اور رسول اکرم(ص) نے بھی ارشاد فرما دیا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ وَ ... وَ الرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَیْتِهِ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ والمَرْأَةُ رَاعِیَةٌ عَلَى أَهْلِ بَیْتِ بَعْلِهَا وَ وُلْدِهِ وَ هِیَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُم... تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ اور مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ اور عورت اپنے شوہر کے حقوق کے ادا کرنے اور اپنی اولاد کی تربیت کی ذمہ دار ہے لہذا اس سے ان کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
لیکن ہمارے سماج میں یہ جرثومہ کیسے داخل ہوا؟ چونکہ اگر بیماری کا سبب معلوم ہوجائے تو اس کا علاج آسان ہوتا ہے۔
دیکھئے معمولی جہیز دینا اور ضرویات کی چیزیں دینا یہ والدین کے فطری جذبہ اور محبت کی نشانی ہے اور یہ ہمیشہ سے رہا ہے لیکن اس غلط طریقہ کو روشناس کرانے اور اسے موجودہ صورت میں رائج کرنے میں  ہمارے معاشرہ کے مرفہ حال اور دولت مند طبقہ کا ہاتھ ہے چونکہ انہوں نے اپنی شان و شوکت کے اظہار کے جہاں متعدد ذرائع اپنائے وہیں اپنی اولاد کی شادیوں میں جہیز کو بھی اہمیت دی۔اگرچہ یہ بلا ثروتمندوں سے شروع ہوئی تھی لیکن آہستہ آہستہ ہمارے سماج کے ہر فرد تک سرایت کرچکی ہے اور مزے کی بات یہ کہ زیادہ تر اعلٰی جہیز کے مطالبے بھی کسی غریب اور نادار کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ ڈاکٹر انجینئر،اور اعلٰی کوالیفائیڈ لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں اب یہ سمجھ میں نہیں آتا اگر ان لوگوں کو پڑھ لکھ کر بھی یہی کرنا تھا تو ایسی پڑھائی کا کیا فائدہ ہوا؟
اس علظ رسم کو پروان چڑھانے میں دوسرا قصور ان فضول رسم و رواج کا بھی ہے جو شادی کے موقع پر دلہا کے گھر والوں سے بنام خوشی کروائے جاتے ہیں،مثلاً آپ ہماری بیٹی پر یہ چڑھانا،یہ زیور لانا،اتنے باراتی لانا۔ غرض منگنی اور مائینو سے لیکر شادی اور اس کے بعد چوتھی وغیرہ تک ان گنت ایسی بہت سی فضول رسمیں اور بہانے ہیں جن میں لڑکے والوں کی حالت خراب ہوجاتی ہیں ۔
اب ظاہر سی بات ہے کہ جب ان سے اتنی فضول اور بے جا نیز پیسوں کی بربادی والی رسمیں انجام دلوائیں جائیں گیں تو اس کا رد عمل جہیز کے مطالبہ کی صورت میں تو سامنے آئے گا ہی؟!
اور اس غلط رسم کے پروان چڑھنے میں کچھ دخل ہمارے ہندوستانی کلچر سے متاثر ہونے کا بھی ہے چونکہ یہ رسم ہندوؤں میں پائی جاتی تھی اور چونکہ ہم اس معاشرہ میں اس طرح کھو گئے کہ نہ ہمیں اپنی شان کا علم رہا اور نہ اپنے رکھ رکھاؤ کا۔چونکہ آپ اگر شادی کی تمام رسموں کو دیکھئے تو منگنی سے لیکر چوتھی تک جتنی رسم و رواج ہیں وہ سب ہندو مذہب کے پیروکاروں میں بشدت عمل میں لائی جاتی ہیں اور اب ہمارے یہاں بعینہ وہی رسمیں وہی چیزیں ہوتی ہیں اور اگر شادی میں کوئی ایسا شخص مدعو ہو جو ثقافتی اور تہذیبی امور سے دلچشپی رکھتا ہو اسے ہندو اور مسلمانوں میں تمام چیزیں قدرے مشترک ہی نظر آئیں گی صرف ایک ایسا موقع ہے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شادی مسلمانوں میں ہے یا ہندؤوں میں۔ وہ نکاح کا وقت  ہوتا ہے،شاید پانچ دس منٹ کے لئے ہم پھر مسلمان بن جاتے ہیں اب ہم خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری زندگی میں دین کتنے فیصدی پایا جاتا ہے؟
ہم جہیز کی اس بلا سے کیسے بچیں؟
آج کے ان حالات میں جہیز جیسی اس بلا سے اسی وقت دامن بچایا جا سکتا ہے جب لڑکی کے گھر والے لڑکے اور اس کے گھر والوں کو  نت نئی رسوم کی پابندی پر مجبور نہ کریں،چونکہ جب آپ کسی سے کوئی مطالبہ اور فضول رسم کی ادائیگی کو نہیں کہیں گے یقینی طور پر اسے بھی آپ سے کسی ایسی چیز کی توقع اور مطالبہ نہیں ہوگا جو آپ کے بس میں نہ ہو۔
ہمیں اس مسئلہ کے لئے کچھ کرنا چاہیے کیونکہ اگر یہی سب چلتا رہا تو غریب گھر کی بیٹی گھر ہی بیٹھی رہ جائے گی۔ یہ مسئلہ ہم سب کا ہے، کیونکہ بیٹیاں سب کے گھرمیں ہوتی ہیں، چاہے وہ بہن ہو یا بیٹی،ظاہر ہے یہ مسئلہ ہر کسی کے گھر کا ہے ،پوری قوم کا ہے تو پھر یہ آپ کا بھی ہے۔ہمیں اپنے ملک میں اگر تبدیلی لانی ہے تو پہلے اپنے گھرسے شروعات کرنا ہوگی ،کیونکہ تبدیلی کبھی دوسرے سے نہیں آتی بلکہ پہلے خود کو بدلنا پڑتا ہے،اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ سے جہیز کا مطالبہ نہ کرے تو آپ بھی کسی سے اس کی توقع نہ رکھیں اور مطالبہ نہ کریں۔
آج ہمیں سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ،جہیز ہونا چاہیے ،مگر اس کی شکل بدلنی چاہیے۔ساری اشیاء کی بجائے بیٹیوں کو تعلیم و تربیت اور اخلاق کا جہیز دینا چاہیے کہ مانا اس راہ پر چلنا مشکل ہے ، ناممکن نہیں،بس ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔چاہے وہ والدین ہوں،یا لڑکیاں اور لڑکے بس ایک قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔
رسول اکرم(ص) کی بیٹی کا جہیز
تاریخ عالم و آدم کی وہ بے مثال و بے نظیر شادی کہ جس میں ہر چیز اسلام کا مقدر بن کر ابھری علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کی بابرکت شادی ہے،اور جب امام علی(ع) معصومہ کونین کا ہاتھ مانگنے کے لئے آئے تو سرکار(ص) سے سوال کیا کہ یا علی آپ کے پاس فاطمہ کو مہر میں دینے کے لئے کیا ہے تو فرمایا: یا رسول اللہ ایک گھوڑا ہے ایک تلوار اور ایک ذرہ۔
غرض سرکار نے علی سے مہر کے عوض وہ ذرہ لے لی چنانچہ ایک روایت کے مطابق اس زرہ کی قیمت ۳۰ درہم جبکہ ایک روایت کے مطابق ۴۸۰ درہم اور ایک تیسری روایت کے تناظر میں ۵۰۰ درہم بتائی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ایک درہم آدھے مثقال چاندی کے سکے کے برابر ہوتا تھا اب اس سے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شادی میں خرچ ہونے والی کل رقم کتنی تھی۔
چنانچہ ایک روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ کل رقم کا تیسرے حصہ کا جہیز خریدا گیا تھا اب اس سے مزید اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کائنات کے سب سے عظیم المرتبت جوڑے کا جہیز کیسا تھا۔
اور روایت میں ملتا ہے کہ جب یہ سارا سامان آمادہ کرکے رسالتمآب(ص) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگے اور آپ نے آسمان کی طرف سر اقدس کو اٹھایا اور روتے ہوئے دعا فرمائی:اَللهُم بارِکْ لِقَوْم جُل آنِیَتِهِمُ الْخَزَفُ۔
 پروردگارا! اس قوم کہ جس کے اکثر برتن مٹی کے ہیں ان کے لئے مبارک قرار دے۔
شہزادی کونین(س) کے اس تاریخی جہیز میں غور و فکر اور رسول خدا(ص) کا دعا کرنا انسان کو بہت سی چیزیں سکھاتا ہے ۔
چنانچہ پیغمبر خدا(ص) یہ دعائیہ کلمات جاری کرکے ہمیں اور آئندہ نسلوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں تجمل پرستی اور مادی کمر شکن رقابت کی کوئی جگہ نہیں ہے جس کے سبب شادی جیسا مقدس امر مشکل ساز اور دیری کا سبب بن رہا ہے اور جس کے سبب اسلامی معاشرہ کے جوانوں کا بے راہ روئی میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہے  بلکہ اسلام کا پورا نظام سادگی اور آسانی پر مبنی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17