Monday - 2018 july 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193217
Published : 17/4/2018 16:31

فکر قرآنی:

فرشتوں کا آدم(ع) کو سجدہ اور ابلیس کا انکار

شیطان نے خیال تھا کہ آگ،خاک سے بہتر و افضل ہے ، یہ ابلیس کی ایک بڑی غلط فہمی تھی شاید اسے غلط فہمی بھی نہ تھی بلکہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا تھا۔لیکن شیطان کی داستان اسی جگہ ختم نہیں ہوتی بلکہ اس نے جب یہ دیکھا کہ وہ درگاہ خداوندی سے نکال دیا گیا ہے اور اس کی سرکشی اور ہٹ دھرمی میں اور اضافہ ہوگیا ہے تو اس نے بجائے شرمندگی اور توبہ کے اور بجائے اس کے کہ وہ خدا کی طرف پلٹے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرے اس نے خدا سے صرف اس بات کی درخواست کی۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! گذشتہ بحثیں کہ جو انسان کے مقام و عظمت کے بارے میں تھیں ان کے ساتھ قرآن نے ایک اور فضل بیان کی ہے،پہلے کہتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے لئے سجدہ خضوع کرو،ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، جس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور اسی تکبر اور نافرمانی کی وجہ سے کافروں میں داخل ہوگیا۔(۱)
یہ بھی پڑھئے:
حضرت آدم(ع) کی تخلیق کا راز
آدم(ع) کی خلقت کے موقع پر فرشتوں کا سوال
فرشتے امتحان الٰہی کے سانچے میں
بہر حال مربوط آیت انسانی شرافت اور اس کی عظمت و مقام کی زندہ اور واضح دلیل ہے کہ اس کی تکمیل خلقت کے بعد تمام ملائکہ کو حکم ملتا ہے کہ اس عظیم مخلوق کے سامنے سرتسلیم خم کردو،واقعاً وہ شخص جو مقام خلافت الہی اور زمین پر خدا کی نمائندگی کا منصب حاصل کرے،تمام تر کمالات پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوں کی پرورش کا ذمہ دار ہو جن میں انبیاء اور خصوصاً پیغمبر اکرم(ص) اور ان کے جانشین شامل ہوں،ایسا انسان ہر قسم کے احترام کے لائق ہے۔
ابلیس نے مخالفت کیوں کی
ہم جانتے ہیں لفظ شیطان ، اسم جنس ہے جس میں پہلا شیطان اور دیگر تمام شیطان شامل ہیں لیکن ابلیس مخصوص نام ہے، اور یہ اسی شیطان کی طرف اشارہ ہے جس نے حضرت آدم کو ورغلایا تھا وہ صریح آیات قرآن کے مطابق ملائکہ کی نوع سے نہیں تھا صرف ان کی صفوں میں رہتا تھا وہ گروہ جن میں سے تھا جو ایک مادی مخلوق ہے۔(۲)
اس مخالفت کا سبب کبر و غرور اور خاص تعصب تھا جو اس کی فکر پر مسلط تھا ، وہ سوچتا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں لہذا مجھے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ہی نہیں دیا جانا چاہیئے بلکہ آدم کو سجدہ کرنا چاہیئے ۔
خدا نے ابلیس کی سرکشی اور طغیانی کی وجہ سے اس کا مؤاخذہ کیا اور کہا: اس بات کا سبب کیا ہے کہ تو نے آدم کو سجدہ نہیں کیا اور میرے فرمان کو نظر انداز کردیا ہے؟۔(۳)
اس نے جواب میں ایک نادرست بہانے کا سہارا لیا اور کہا:میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تونے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو آب وگل سے۔(۴)
گویا اسے خیال تھا کہ آگ،خاک سے بہتر و افضل ہے ، یہ ابلیس کی ایک بڑی غلط فہمی تھی شاید اسے غلط فہمی بھی نہ تھی بلکہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا تھا۔
لیکن شیطان کی داستان اسی جگہ ختم نہیں ہوتی بلکہ اس نے جب یہ دیکھا کہ وہ درگاہ خداوندی سے نکال دیا گیا ہے اور اس کی سرکشی اور ہٹ دھرمی میں اور اضافہ ہوگیا ہے تو  اس نے بجائے شرمندگی اور توبہ کے اور بجائے اس کے کہ وہ خدا کی طرف پلٹے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرے اس نے خدا سے صرف اس بات کی درخواست کی کہ: خدایا مجھے رہتی دنیا تک مہلت عطا فرما دے اور زندگی عطا کر۔(۵)
اس کی یہ درخواست قبول ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھے مہلت دی جاتی ہے۔(۶)
اگرچہ قرآن میں اس بات کی صراحت نہیں کی گئی کہ ابلیس کی درخواست کس حد تک منظور ہوئی۔ ارشاد ہوا: تجھ کو روز معین تک کے لئے مہلت دی گئی۔(۷)
یعنی اس کی پوری درخواست منظور نہیں ہوئی بلکہ جس مقدار میں خدا نے چاہا اتنی مہلت عطا کی۔لیکن اس نے جو یہ مہلت حاصل کی وہ اس لئے نہیں تھی کہ اپنی غلطی کا ازالہ کرے بلکہ اس نے طولانی عمر کے حاصل کرنے کا مقصد اس طرح بیان کیا: اب جبکہ تونے مجھے گمراہ کردیا ہے تو میں بھی تیرے سیدھے راستے پر تاک لگا کر بیٹھوں گا(مورچہ بناؤں گا) اور ان (اولاد آدم) کو راستے سے ہٹادوں گا تاکہ جس طرح میں گمراہ ہوا ہوں اس طرح وہ بھی گمراہ ہوجائیں ۔(۸)
اس کے بعد شیطان نے اپنی بات کی مزید تائید و تاکید کے لئے یوں کہا:میں نہ صرف یہ کہ ان کے راستہ پر اپنامورچہ قائم کروں گا بلکہ ان کے سامنے سے پیچھے سے داہنی جانب سے، بائیں جانب سے، گویا چاروں طرف سے ان کے پاس آؤں گا جس کے نتیجہ میں تو ان کی اکثریت کو شکر گذار نہ پائے گا۔(۹)
مذکورہ بالا تعبیر سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ شیطان ہر طرف سےانسان کا محاصرہ کرے گا اور اسے گمراہ کرنے کے لئے ہر ممکن وسیلہ اختیار کرے گا اور یہ تعبیر ہماری روز مرہ کی گفتگو میں بھی ملتی ہے اب سوال یہ ہے کہ اس نے ان چارو سمتوں کا ہی تذکرہ کیوں کیا؟
اس سلسلہ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ان چاروں سمتوں کی ایک گہری تفسیر ملتی ہے اس روایت میں حضرت فرماتے ہیں : شیطان جو آگے سے آتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آخرت کو جو انسان کے آگے اور مستقبل میں ہے اس کی نطر میں بے اہمیت کردیتا ہے اور پیچھے سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان انسان کو مال جمع کرنے اور اولاد کی خاطر بخل کرنے کے لئے ورغلاتا ہے اور داہنی طرف سے آنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ انسان کے دل میں شک و شبہ ڈال کر اس کے امور معنوی کو ضائع کردیتا ہے اور بائیں طرف سے آنے سے مراد یہ ہے کہ شیطان انسان کی نگاہ میں لذات مادی و شہوات دنیاوی کو حسین بنا کر پیش کرتا ہے۔
بہر حال! شروع میں اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اسی لئے اس کے خروج کا حکم صادر ہوا، اس کے بعد اس نے ایک اور بڑا گناہ یہ کیا کہ خدا کے سامنے بنی آدم کو بہکانے کا عہد(قسم) کیا اور ایسی بات کہی گویا وہ خدا کو دھمکی دے رہا تھا،ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہوسکتا ہے لہذا خدا نےاس سے فرمایا: اس مقام سے بدترین ننگ و عار کے ساتھ نکل جا اور ذلت و خواری کے ساتھ نیچے اترجا۔ اور فرمایا: میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ جو بھی تیری پیروی کرے گا میں جہنم کو تجھ سے اور اس سے بھردوں گا۔(۱۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ بقرہ:۳۴۔
۲۔نیز سورہ کہف:۵۰ میں ہے : سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو جنوں میں سے تھا۔
۳۔سورہ اعراف:۱۲۔
۴۔سابق حوالہ۔
۵۔سورہ اعراف:۱۴۔
۶۔سورہ اعراف:۱۵۔
۷۔سورہ حجر:۳۸۔
۸۔سورہ اعراف:۱۶۔
۹۔سابق حوالہ۔
۱۰سورہ اعراف:۱۸۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 july 16