Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193261
Published : 18/4/2018 17:56

امام رضا(ع) سے ملا شہادت کا پروانہ

مدافع حرم،شہید مہدی لطفی کی ہمشیرہ نے بیان کیا کہ مہدی شہادت کا بہت شیدائی اور عاشق تھا،وہ جب بھی شام جاتا تھا تو ہم سے یہی کہتا تھا کہ میرے لئے دعا کیجئے گا کہ شہید ہوجاؤں۔

ولایت پورٹل: 9 اپریل 2018ء بروز پیر کو نماز فجر کے کچھ بعد کہ ابھی مطلع صاف بھی نہ ہونے پایا تھا کہ شام کے صوبہ حمص کے تیفور نامی فوجی ہواہی اڈے پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ اور جارحانہ میزائیل یونٹ سے کئی میزائیل داغے گئے جن میں اکثر کو  شامی ڈیفنس سسٹم نے نابود کردیا لیکن ان میں سے 8 میزائیل تیفور فوجی ہوائی اڈے پر لگے جن میں بہت سے فوج کے جوان شہید اور کچھ زخمی  بھی ہوئے۔
انہیں جام شہادت نوش کرنے والوں میں  7 وہ افراد بھی تھے جن کا تعلق ایران کی رضاکار فوج( بسیج) سے تھا کہ جو شامی فوج کے مشاورین کی حیثیت سے اس چھاونی میں تعینات تھے۔
ان 7 شہداء میں سے ایک شہید سردار مہدی لطفی نیاسر تھے کہ جن کی عمر ابھی 36 برس ہی تھی اور جو قم کے ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔
اس شہید کی بہن نے ایک نیوز ایجنسی کو دیئے  انٹریو میں اپنے بھائی کا شہادت کے تئیں شوق اور عشق کا ان الفاظ میں خلاصہ کیا: میرا بھائی مہدی مجھ سے عمر میں چھوٹا تھا۔اور شہادت کا شیدائی۔ وہ جب بھی شام جاتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ میرے لئے دعا کرنا کہ میں شہید ہوجاؤں۔ میں اس سے کہتی تھی مہدی اتنی جلدی شہید ہونے کی دعا نہ کیا کرو! ابھی رکو ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہےچلو جب تم کچھ سن رسیدہ ہوجاؤ، تو شہید ہونے کی دعا کرلینا ابھی گھر والوں کو تمہاری ضرورت ہے۔
لیکن وہ اس بار جب آیا تو مشہد مقدس گیا اور امام رضا علیہ السلام سے اپنی شہادت کا پروانہ لے کر شام چلا گیا ، وہ تو گھر لوٹ کر نہیں آیا لیکن اس کے شہید ہونے کی خبر آئی۔
شہید مہدی لطفی نہایت خاموش طیبعت اور شہرت سے گریزاں انسان تھے۔ان کی بہن ان کی اس خصلت کے بارے میں بتاتی ہیں کہ: کوئی بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ مدافع حرم ہے اور اب جب کہ وہ شہید ہوچکا ہے تو ہمارے بہت سے رشتہ دار ہم سے آکر یہی معلوم کرتے ہیں کہ کیا مہدی مدافع حرم تھا اور کیا شام میں اپنا مہدی ہی شہید ہوا ہے؟ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ بہت  پہلے سے شام آتا جاتا تھا۔
اس کے بعد یہ داغدار  بہن کہتی ہیں کہ:مجھے نہیں پتہ تھا یہ اس کی اور ہماری آخری ملاقات ہوگی۔ابھی جانے سے پہلے وہ کہہ رہا تھا کہ ہم اس کا وہ گھر دیکھنے چلیں جو اس نے ابھی ابھی تعمیر کروایا تھا لیکن ہمیں موقع نہ مل سکا، وہ بہت مہربان تھا جو بے دردی سے شہید ہوا ،ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ کس علاقہ میں تعینات تھا چونکہ یہ اس کی عادت نہ تھی کہ اپنے کاموں کے بارے میں دوسروں کو بتائے بس ہم تو اس کے لئے دعا کرتے تھے اور جس وقت میں اس کی سلامتی کا صدقہ دے رہی تھی تبھی مجھے اطلاع ملی کہ مہدی شہید ہوگیا۔
شہید مہدی لطفی کی ایک وصیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ان کی ہمشیرہ کہتی ہیں: اسے ہمیشہ شام واپس جانے کی جلدی رہتی تھی اور یہی کہتا تھا جب اگلی بار آؤں گا تو زیادہ رکوں گا اور سب سے زیادہ اپنی بیوی اور بچوں کے بارے میں ہم سے تاکید کیا کرتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا:ہفتہ میں ایک بار ضرور تہران چلی جایا کرو،میرے بچے اکیلے ہیں ان کا خیال رکھنا،وہ تنہائی کا احساس نہ کریں،اور ہاں!میرے بارے میں ان سے زیادہ سوال جواب مت کرنا۔
کئی سالوں سے وہ شام آتا جاتا تھا تو ہم اس کے لئے دعا کرتے تھے کہ خدایا! وہ با حفاظت لوٹ آئے لیکن اس کی آرزو یہ تھی کہ وہ شہید ہوجائے۔اور اس بار صرف اسی کی دعا قبول ہوئی ہماری نہیں۔
اس شہید کی بہن نے اپنے بھائی کا آخری دیدار کیسے کیا وہ کہتی ہیں : میں نے اس بار مہدی کو تابوت میں دیکھا،اسے دیکھ میرا جگر کباب ہوگیا،اورمیرا دل اچاٹ،اور ایسا لگا جیسے آسمان ٹوٹ پڑا اور زمین پھٹ گئی ہو،ہماری تمام ہمتیں ٹوٹ گئیں،اور جب میں نے اس کی میت کو دیکھا اس سے کہا: مہدی،ہمیں بھی سہارا دو اور ہمارا سلام ہمارے آقا و مولا حضرت امام حسین(ع) اور آپ کی شیر دل بہن زینب کبریٰ (س) تک پہونچا دینا اور کہنا کہ ہمیں صبر زینبی نصیب ہو۔
خدا امریکہ اور اسرائیل کو نابود کرے کہ اس نے ہمارے ایسے عظیم جوانوں کو شہید کردیا،اب اللہ سے یہی دعا ہے کہ حضرت صاحب العصر(عج) کا ظہور ہوجائے تاکہ ظالم اپنے کیفر کردار تک پہنچ جائیں۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11