Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193268
Published : 19/4/2018 11:12

آل سعود کا شام میں امریکی فوج کے مالی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان

آل سعود ایران دشمنی میں امریکا اور اسرائیل کی خوشنودی کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرنے ریاض میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ شام میں فوج بھیجنے سے متعلق مشاورت جاری ہے اورسعودی عرب امریکا کو مالی سپورٹ دینے کو تیارہے،عادل الجبیر نے کہا کہ ’شام کا بحران جب سے شروع ہوا ہے، تب سے ہم فوجی دستوں کو شام بھیجنے کے حوالے سے امریکا سے رابطے میں ہیں،واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر نے شام سے فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جس پر آل سعود نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا امریکا کو شام میں رہنا چاہئے،امریکی صدر نے آل سعود سے کہا تھا اگر امریکی فوج کے مالی اخراجات سعودی عرب برداشت کرے تو شام میں رہیں گا،سعودی وزیرخارجہ نے زوردیا کہ شام میں فوجیوں کی تعیناتی انسداددہشتگردی کے لئے اسلامی فوجی اتحاد کے فریم ورک کے مطابق ہونا چاہئیے،یاد رہے کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون کے ساتھ شام کے مختلف علاقوں پر میزائل حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں شامی دارالحکومت دمشق دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا،سعودی حکومت نے شام میں ہونے والے امریکی اتحادیوں کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملے شامی شہریوں کے تحفظ اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے ناگزیر ہوچکے تھے،روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے شام پر دوبارہ میزائل حملے عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور دنیا میں افرا تفری پھیلانے کا سبب بنیں گے،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے شام پر امریکا اور اتحادیوں کے فضائی حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کی صورت حال خراب ہوتی جارہی ہے اور اس کو بہتری کی طرف لانے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آرہا،خیال رہے کہ آل سعود ایران دشمنی میں امریکا اور اسرائیل کی خوشنودی کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔
تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11