Tuesday - 2018 مئی 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193637
Published : 8/5/2018 18:21

لبنان میں سعودی،امریکی اور اسرائیلی مثلث کی شرمناک شکست؛ایک تبصرہ

مقاومت ہر میدان میں حاضر ہے. اور دشمن کا سیاسی میدان سے مقاومت کو بے دخل کرنے کا خواب چکنہ چور ہو چکا ہے۔ اور امید ہے کہ عنقریب عراق میں بھی اس سیاسی وانتخابی میدان میں مقاومت کو عزت وسرفرازی ملے گی۔ اور پاکستان میں بھی سعودی ، امریکی اور اسرائیلی خواب چکنہ چور ہونگے۔ گیس وپٹرول وڈالرز کے پجاری ذلیل ورسوا ہونگے۔
ولایت پورٹل: 6 مئی 2018 کے لبنانی پارلیمنٹ کے انتخابات درحقیقت محور ظلم و شر اور محور مقاومت کے درمیان تھے،استعماری طاقتیں جو اپنی پوری طاقت کے ساتھ ایک لمبے عرصے سے اس خطے پر اپنا ناجائز قبضہ جمانے کے لئے ہر قسم کا اسلحہ اور طاقت کا استعمال کر رہی ہیں،انکے پاس وافر مقدار میں خلیجی پٹرول اور گیس اور امریکی ڈالرز اور یورپی کرنسیز ہیں،تاکہ اس خطے کو غلام بنائیں یا اسے جلا کر تباہ وبرباد کر دیں۔
انکے مد مقابل حریت پسند، غیرتمند لوگوں کا بلاک ہے جسے محور مقاومت کہتے ہیں،کل کی فتح حزب اللہ کی فقط فتح نہیں بلکہ محور مقاومت کی فتح ہے کہ جس کا دائرہ ادیان ومذاپب اور ممالک کی حدود سے وسیع تر ہے،مقاومت شیعہ مذھب کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس میں اہل سنت ، مسیحی ، درزی ، نیشنلسٹ ، سوشلسٹ اور دیگر مختلف افکار نظریات کے حامل لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ اور محور مقاومت کی سرحدیں لبنان کی حدود سے  تجاوز کرکے فلسطین ، شام ، عراق ، ایران ، یمن ، بحرین بلکہ افریقہ اور ایشیاء کے دیگر ممالک کو بھی اپنے دائرے میں شامل کر لیا ہے۔
اس لئے یہ سیاسی و انتخابی معرکہ عسکری معرکے سے کم اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ دشمن نے پوری کوشش کی کہ اندھا سرمایہ لگا کر اور عوام کے ضمیر خرید کر اس محور مقاومت کی اساس اور بنیاد پر کاری ضرب لگائی جائے.  لیکن غیور عوام اور حریت پسند مقاومت کی لیڈرشپ نے جیسے اس محور سر کو محدود وسائل کے ساتھ اپنے جذبہ وایمان سے شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا.  آج ایک بار پھر جمھور مقاومت نے سیاسی میدان میں بھی جمھوریت کے جھوٹے دعویداروں پر انتخابی عمل میں بھر پور شرکت کر کے اور شاندار کامیابی حاصل کر کے دشمن کو ذلیل ورسوا کیا ہے. ووٹ کی طاقت سے بلاک مقاومت نے  استعماری منصوبہ بندیوں کو زبردست دھچکا لگایا  ہے۔ اور اس کی تاثیر انکے نفوس پر ایٹمی ہتھیاروں اور پلاسٹر میزائلوں سے زیادہ ہے۔
وہ چاہتے تھے کہ مقاومت کے مرکز کو نابود کرکے قدس شریف پر اسرائیل کے تسلط کو یقینی بنائیں،اور فلسطینی وسیرین مھاجرین اپنے وطن واپس نہ جا سکیں اور تکفیری دہشتگردوں کو نئی آکسیجن و طاقت دیکر اس خطے کو مزید ویران وبرباد کریں، اور مزید مقدسات کی بیحرمتی اور بے گناہ انسانیت کا قتل ہو۔
اس کامیابی سے دشمن کی مایوسیوں میں اضافہ ہوا ہے. اور خطے کے امن اور بیرونی مداخلت کے خلاف راھیں ھموار ہوئی ہیں، آج فقط حزب اللہ اور امل فتح کی خوشی نہیں منا رہے بلکہ یہ لبنان کی عظیم فتح ہے اور لبنان سمیت پورے خطے میں خوشی کا سماں ہے۔
مقاومت ہر میدان میں حاضر ہے. اور دشمن کا سیاسی  میدان سے مقاومت کو بے دخل کرنے کا خواب چکنہ چور ہو چکا ہے۔ اور امید ہے کہ عنقریب عراق میں بھی اس سیاسی وانتخابی میدان میں مقاومت کو عزت وسرفرازی ملے گی۔ اور پاکستان میں بھی سعودی ، امریکی اور اسرائیلی خواب چکنہ چور ہونگے۔ گیس وپٹرول وڈالرز کے پجاری ذلیل ورسوا ہونگے۔

ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 مئی 22