Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193683
Published : 12/5/2018 14:24

بابائے کیمیا جابر بن حیان طوسی

جابر بن حیان کی تمام تصانیف کا ترجمہ لاطینی کے علاوہ دیگر یورپی زبانوں میں بھی ہو چکا ہے،تقریباً آٹھ نو سو سال تک کیمیا کے میدان میں وہ تنہا چراغ راہ تھے۔ اٹھارویں صدی میں جدید کیمیا کے احیاء سے قبل جابر کے نظریات کو ہی حرف آخر خیال جاتا تھا بطور کیمیادان ان کا ایمان تھا کہ علم کیمیا میں تجربہ سب سے اہم چیز ہے۔ انھوں نے عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ کچھ جاننے اور سیکھنے کے لیے صرف مطالعے اور علم کے علاوہ خلوص اور تندہی کے ساتھ تجربات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

ولایت پورٹل: تاریخ کا سب سے پہلا کیمیادان اور عظیم مسلمان سائنسداں جابر بن حیان جس نے سائنسی نظریات کو دینی  عقائد کی طرح اپنایا۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے۔ جبکہ اسے اہل مغرب ’’Geber ‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے۔ وہ کیمیا کے  تمام عملی تجربات سے واقف تھے۔
پیدائش:سن 721  طوس  
وفات: سنہ 815 (93–94 سال)  کوفہ  
حالات زندگی:
جابر بن حیان کا روزگار دوا سازی اور دوا فروشی تھا يعنی کہ جابر بن حیان ايک حکيم بھی تھے۔ جوان ہونے کے بعد انہوں نے کوفہ میں رہائش اختيار کی۔ اس زمانے میں کوفہ میں علم و تدریس کے کافی مواقع تھے۔ مدینہ میں جابر نے امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کی جن کے مدرسے میں مذہب کے ساتھ ساتھ منطق، حکمت اور کیمیا  جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ اس وقت کی رائج یونانی تعلیمات نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ علم حاصل کرنے کے دوران انھوں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو سونا بنانے کے جنون میں مبتلا دیکھا تو خود بھی یہ روش اپنا لی۔ کافی تجربات کے بعد بھی وہ سونا تیار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن کیمیا میں حقیقی دلچسپی  کی وجہ سے انھوں نے تجربات کا سلسلہ ختم نہ کیا۔ انھوں نے اپنے شہر کوفہ میں اپنی تجربہ گاہ تعمیر کی۔ خلیفہ ہارون الرشید کے وزیر یحییٰ برمکی کی  چہیتی بیوی شدید بیمار ہوئی۔ بہترے علاج کے بعد بھی شفا نہ ہوئی۔ جب یحییٰ اس کی زندگی سے مایوس ہو گیا۔ تو مشورۃً اس نے ایک حکیم سے رجوع کیا۔ اس حکیم نے صرف ایک دوا دو گرین تین اونس شہد میں ملا کر ایک  گھونٹ پلائی۔ آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں مریضہ پہلے کی طرح صحت یاب ہو گئی۔ یہ دیکھ کر یحییٰ برمکی اس حکیم کے پیروں پر گر گیا مگر اس حکیم نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور بقیہ دوا بھی اسے دے دی۔ یہ حکیم جابر ابن حیان تھا جس کی طبیبانہ مہارت نے حاکم وقت کے دل میں گھر کر لیا۔
خدمات:
جابر نے کیمیاء کی اپنی کتابوں میں بہت سی اشیاء بنانے  کے طریقے درج کئے ہیں انہوں کے کئی اشیاء کے سلفائڈ بنانے کے بھی طریقے بتائے۔ انہوں نے شورے اور گندھک کے  تیزاب جیسی چیز کو دنیا میں سب سے پہلی بار ایجاد کیا جو موجودہ دور میں بھی نہایت اہمیت کی حامل اور سنسنی خیز ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے قرع النبیق کے  ذریعہ کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔
یہ امرقابل ذکر ہے کہ پوری دنیا میں علمی "سائنسی" اور فکری حوالے سے دوسری صدی عیسوی کے بعد کوئی اہم شخصیت پیدا نہ ہوئی تھیں۔ بقراط، ارسطو، اقلیدس، ارشمیدس، بطلیموس اور جالینوس کے بعد صرف سکندریہ کی آخری محقق ہائپاتيا چوتھی صدی عیسوی میں گزری  تھی۔ لہذا علمی میدان میں چھائی ہوئی تاریکی میں روشن ہونے والی پہلی شمع جابر بن حیان کی تھی۔ اس کے بعد گیارہویں صدی تک مسلمان سائنسدانوں اور  مفکروں کا غلبہ رہا۔
جابر بن حیان نے کیمیا کی کتب کے علاوہ اقلیدس کی کتاب "ہندسے"، بطلیموس کی کتاب "محبطی/مجسطی" کی شرحیں بھی لکھیں۔ نیز منطق اور شاعری پر بھی  رسالے تصنیف کئے اس سب کے باوجود جابر مذہبی آدمی تھے اور امام جعفر صادق کے شاگرد اور پیروکار تھے۔
ان کی تحاریر میں200 سے زیادہ کتابیں شامل ہیں۔
مشہور کتابیں :
۱۔کتاب الملک
۲۔کتاب الرحمہ
۳۔کتاب التجمیع
۴۔زیبق الشرقی
۵۔کتاب الموازین الصغیر
تأثرات:
جابر بن حیان کی تمام تصانیف کا ترجمہ لاطینی کے علاوہ  دیگر یورپی زبانوں میں بھی ہو چکا ہے،تقریباً آٹھ نو سو سال تک کیمیا کے میدان میں وہ تنہا چراغ راہ تھے۔ اٹھارویں صدی میں جدید کیمیا کے احیاء سے قبل جابر کے نظریات کو ہی حرف آخر خیال جاتا تھا بطور کیمیادان ان کا ایمان تھا کہ علم کیمیا میں تجربہ سب سے اہم چیز ہے۔ انھوں  نے عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ کچھ جاننے اور سیکھنے کے لیے صرف مطالعے اور علم کے علاوہ خلوص اور تندہی کے ساتھ تجربات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسرے وہ یہ سمجھتے تھے کہ منزل مقصود کبھی نہیں آتی یعنی جسے پالیا وہ منزل نہیں۔ اس شعور نے انہیں کائنات کی تحقیق میں آگے ہی آگے بڑھتے جانے کی دھن  اور حوصلہ دیا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22