Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193687
Published : 12/5/2018 15:33

موجودہ نسل اداس کیوں؟

علم نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نسلوں کی تربیت کے لئے ایسے والدین کی ضرورت ہے جو اپنی اولاد کو زندگی میں کچھ ناکامیوں کا بھی تجربہ کرنے دیں۔اور کبھی یہاں تک صبر کریں کہ وہ شکست کھا جائیں ،سختیاں اٹھائیں،اپنی زندگی میں ملنے والی ناکامیوں اور لگنے والی ٹھوکروں کا ذمہ دار کسی دوسرےکو نہ ٹہرا کر خود کو قصور وار گردانیں۔چونکہ یہی وہ چیز ہے جس کی کمی آج کی نئی نسل میں کثرت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔

ولایت پورٹل: میرے عزیز جوانو ! آپ ذرا اپنے دادا دادی،نانا اور نانی کو غور سے دیکھئے اور ان کے بارے میں سوچئے چونکہ ان لوگوں نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور بہت سے حوادث کو مات دے کر آج آپ کے سامنے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود یہ ناامید نہیں ہیں اور نہ ہی افسردہ و اداس ۔
ہماری موجودہ نسل کو جو مسائل اور مشکلات درپیش ہیں وہ ان کی بنسبت کچھ بھی نہیں ہیں بلکہ بہت چھوٹے ہیں لیکن ہمارے جوانوں میں آج حد درجہ افسردگی اور ناامیدی پائی جاتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ موجودہ نسل کی اس ناامیدی اور افسردگی کا سبب کیا ہے؟
شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں نسلوں کے درمیان زندگی کی تعریف ایک دوسرے سے مختلف ہے اور اسی طرح آج کی نسل زندگی سے وہ توقعات رکھتی ہے جو ان لوگوں کو نہیں تھی۔موجودہ نسل کے ذہن میں زندگی کا مفہوم آسودگی اور آرام طلبی سے عبارت ہے ۔
آج کے جوان یہ فکر کرتے ہیں کہ زندگی یعنی: مسلسل و پائیدار سکون۔
اور اگر کوئی ناگوار یا تلخ حادثہ رونما ہوجائے تو وہ اسے زندگی کی آخری حد  اور اختتام تصور کرنے لگتے ہیں۔
جبکہ پہلے لوگ اپنے ذہن و دل کو زندگی میں پیش آنے والی سختیوں کے لئے تیار رکھتے تھے چونکہ وہ جانتے تھے کہ کسی کے پاس ایسا کوئی نسخہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ آسودہ خاطر اور خوشحال رہے بلکہ ان کی نظر میں زندگی سختیوں سے دست و گربیاں ہونے کا نام تھی۔
موجودہ نسل شادی،کام،پڑھائی،روابط، وغیرہ وغیرہ کا شجر سکون کے سائے میں بیٹھ کر معنا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مشکل آن پڑتی ہے یا کہیں سختی سے واسطہ پڑتا ہے  تو اس نسل کی مقاومت اور برداشت کی طاقت جواب دیدیتی ہے۔
چنانچہ علم نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نسلوں کی تربیت کے لئے ایسے والدین کی ضرورت ہے  جو اپنی اولاد کو زندگی میں کچھ ناکامیوں کا بھی تجربہ کرنے دیں۔اور کبھی یہاں تک صبر کریں کہ وہ شکست کھا جائیں ،سختیاں اٹھائیں،اپنی زندگی میں ملنے والی ناکامیوں اور لگنے والی ٹھوکروں کا ذمہ دار کسی دوسرےکو نہ ٹہرا کر خود کو قصور وار گردانیں۔چونکہ یہی وہ چیز ہے جس کی کمی آج کی نئی نسل میں کثرت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔
غرض! ہماری موجودہ نسل کی مثال اس شخص کی مانند ہے کہ جو نئے کپڑے پہن کر کسی دعوت میں جانے کے لئے تیار بیٹھا ہو کہ اچانک اسے میدان جنگ میں بھیج دیا جائے تو ظاہر سی بات ہے کہ نہ تو وہ یہاں اس ارادہ سے آیا ہے نہ ہی اس نے اس منظر  کی تیاری کی تھی تو یہاں اسے نامیدی کے علاوہ کیا ہاتھ آسکتا ہے۔
لہذا والدین کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے ابتداء ہی سے زندگی کی ایسی تعریف کریں جس میں آرام و سکون کے ساتھ ساتھ سختیاں اور مشکلات بھی اس کا حصہ ہو،نیز انہیں گرتا ہوا دیکھنے کی ہمت رکھیں چونکہ اگر آپ نے انہیں بڑھ کر اٹھا دیا تو وہ پھر آپ کے سہارے کے بغیر اگلی مرتبہ خود نہیں اٹھ سکتے لہذا انہیں موقع دیں تاکہ وہ گر کر خود اٹھنا سیکھیں۔اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے بچوں کی زندگی کا رُخ ہی تبدیل ہوگیا ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20