Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193696
Published : 13/5/2018 8:57

اسلامی قوانین کے مطابق دہشتگردی اور شدت پسندی حرام ہے:افغانستان،پاکستان اور انڈونیشیا کے علما کا مشترکہ بیان

پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا کے جید علمائے کرام نے متفقہ طور پر فتویٰ جاری کیا ہے کہ دین اسلام میں شدت پسندی اور دہشت گردی بشمول خود کش حملے حرام ہیں۔
ولایت پورٹل:پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا کے متعدد مذہبی اسکالرز نے متفقہ طور پر اعلان کیا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی بشمول خود کش حملے اسلامی قوانین کے منافی ہیں،واضح رہے کہ مذہبی اسکالرز کا مذکورہ اعلان افغان طالبان کو خود کش حملے کرنے سے روکنے کی کوشش سمجھا جارہا ہے،ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا علماء کونسل کے زیر اہتمام سہ فریقی اجلاس میں تقریباً 70 علماء نے شرکت کی اور خودکش حملوں کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تاکہ افغانستان میں امن اور استحکام کا حصول ممکن ہو سکے،انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈونیشیا جنگ زدہ ملک میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے،انڈونیشیا کے صدر نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد افغانستان میں امن کے لیے جدوجہد کرنے والے علماء کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ ‘علماء امن کے داعی ہیں اور وہ یہ طاقت رکھتے ہیں کہ شورش زدہ ماحول میں قیام امن کے لیے کوششیں کرسکیں،خطاب کے آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس افغانستان میں امن کا ماحول قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تسنیم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21